جموں وکشمیر میں صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں 7ڈگری اضافہ ہوگا

۔2موسمی زون ختم ہونے کا قوی امکان،موسمی پرندے اور جانور بھی نابود ہوسکتے ہیں

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


اشفا ق سعید
سرینگر //جموں وکشمیر میں موسم کے مزاج بدل رہے ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ صدی کے آخر تک درجہ حرارت میں 7ڈگری سلسیش کا اضافہ ہو نیکا امکان ہے جس کا اثرقدرتی نظام پر پڑ سکتا ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے ساتھ 2سب کلائمٹ زون بھی ناپید ہو جائیں گے جس کا سب سے زیادہ اثر جموں وکشمیر پر پڑیگا ۔ جنگلات وماحولیات کی مرکزی وزارت کی جانب سے نیشنل مشن آن ہمالین سٹیڈیز کی تحقیق کے مطابق صدی کے آخر تک جموں وکشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے سبب درجہ حرارت میں 7ڈگری سلسیش کا اضافہ ہوگا۔ ماہرین کے مطابق لداخ خطہ کے ٹھنڈے صحرا (COLD DESERT)22فیصد تک سکڑ جائیں گے جبکہ2سب کلائمنٹ سطحیں اس صدے کے آخر تک مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے ۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ پروفیسر شکیل رامشو نے اپنی ایک تحقیق کے دوران موسمی تبدیلی کا جائزہ لینے کیلئے تین ماڈل کا استعمال کیا ہے ،جس میں 1961سے لیکر 1990کوبنیادی لائن بنایا گیا ہے ۔تحقیق میں اس بات  کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جموں وکشمیر میں صدی کے آخر تک موسمی تبدیلی آنے کا امکان ہے اوراس عرصہ کے دوران درجہ حرارت میں 2سے 8سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو گا ۔انہوں نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ موسمی تبدیلی کے ساتھ ہی لداخ کا سردصحرایعنی(COLD DESERT)کے سکڑنے کی وجہ سے گلیشر پگل جائیں گے، جن سے دیگر مخلوق پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے ۔اس تحقیق کے مطابق 13میں سے 10کلائمیٹ زون جموںو کشمیر کے  ہمالیہ میں پائے جاتے ہیں۔ان میں 3سب ٹراپیلکل ، 4ٹمپریٹ اور 3 کولڈ ڈزیٹ ہیں ۔ان کی تقسیم پر بھی کافی اثر پڑے گا ۔ اور 2کلائمنٹ زون نیست و نابود ہو ں گے، جن میں Temperate cold summerاورcold desert.frostشامل ہیں ۔ماہرین نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلی کے بعد جو 2کلائمٹ زون یہاں سے غائب ہو جائیں گے، ان کا رقبہ جموں وکشمیر میں 16فیصد ہے، جس میں’ ٹمپریٹ کولڈ سمیر‘ 1فیصد اور cold desert.frostکا رقبہ 15فیصد ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ کے ساتھ ہی موسمی پرندے اور دیگر جانور جو موسم سے تعلق رکھتے ہیں ،وہ ختم ہو جائیں گے جس کا براراست اثر سماج پر پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے سبب آبی ذخائر سکڑ جائیں گے اور سمندری سطح میں اضافہ ہو گا ، اور اس کا سیدھا اثر انسانی جانوں پر پڑیگا، سیلاب آنے کا خطرہ زیادہ ہو جائے گا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسم میں آنے والی تبدیلی کے ساتھ سیاحت اور زراعت پر بھی اس کا گہرا اثر پڑ سکتا ہے ۔تاہم ماہرین نے رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ اس موسمی تبدیلی کا اثر بارشوں اور برف باری پر زیادہ نہیں دیکھا جائے گا بلکہ یہ جیسا ہے ویسا ہی رہے گا ۔رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اس تحقیق کا مدعا ومقصد صرف اتنا ہے کہ پالیسی بنانے والے ادارے وقت سے قبل ہی اس کی روکتھام کیلئے کوئی مثبت پہل کریں تاکہ معاشرتی ، معاشی اور ماحولیات پر پڑنے والے اثر ات کو زائل کیاجا سکے ۔
 

 

تازہ ترین