کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
سوال1:۔ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی مسجد شریف میں امام صاحب قرأت شروع کرتے ہیں تو کسی نہ کسی کے فون کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ بہت سارے اصحاب کو یہ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے کہ وہ فون جیب سے نکالتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کال کس نے کی ہے یا یہ مسیج(Message) کہاں سے آئی ہے، پھر فون بند کرکے جیب میں ڈالتے ہیں ۔ براہ کرم یہ فرمائے کہ کیا نماز میں ایسا کرنا صحیح ہے۔ اس سے نماز میں کوئی خلل تو نہیں پڑتا ہے؟
سوال2:۔ ثواب دارین حاصل کرنے کیلئے ہم قرآن شریف۔ دلائل الخیرات۔ حزب البحر، حزب الاعظم۔ مناجات مقبول، اوراد قادریہ، اوراد فتحیہ وغیرہ کی روز تلاوت کرتے ہیں ۔ان کے علاوہ بھی چند ایک کتابوں کا حوالہ دیجئے جن کی تلاوت سے ثواب کمائیں جاسکتے ہیں؟
محمد اسلم سہروردی 

نماز میں بجتے موبائیل کو سنبھالنے کا مسئلہ 

جواب1:۔ نماز شروع کرنے سے پہلے موبائل کا سوئچ بند کرنا ضروری ہے۔ اگر یہ بھول جائے تو پھر نماز کے دوران اگر کال آگئی تو جیب میں ہی ایک ہاتھ سے موبائل کا سوئچ بند کر دیا جائے۔ اگر جیب میں سوئچ آف نہ کیا جاسکتا ہو تو ایک ہاتھ سے موبائل نکال کر دیکھے بغیر سوئچ آف کر دیا جائے۔ اس صورت میں نماز میں کوئی خلل یا خرابی نہ ہوگی۔ اس لئے کہ یہ عمل قلیل ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نماز کے دوران مکھی یا مچھر کو ہٹایا گیا۔ حضرت نبی کریم علیہ السلام نے نماز میں ایک ہاتھ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اور یہ واقعہ تو بخاری شریف میں ہے کہ آپ نے تہجد کی نماز میں حضرت ابن عباسؓ کو بائیں سے دائیں طرف کھینچا تھا۔ اگر کسی نے موبائل کی کال آنے پر جیب سے موبائل نکال لیا پھر یہ دیکھا کہ کوئی کال ہے یا مسیج ہے اور پھر یہ سب کچھ دیکھ کر بند کر دیا تو اس دیکھنے پڑھنے اور پھر بند کرنے کے تین کاموں کا مجموعہ عمل کثیر ہے اور جب نماز میں عمل کثیر کیا جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے ۔ایسی صورت میں نئے سرے سے تکبیر تحریمہ پڑھ کر نمازمیں شرکت کی جائے اور اس تحریمہ سے پہلے جتنی نماز ہوئی تھی اس کو فاسد سمجھا جائے۔
تلاوتِ قرآن

دنیا و آخرت میں عظیم انعامات کا سبب

جواب2:۔ قرآن کریم کی تلاوت جتنی زیادہ کی جائے اتنا بہترو افضل اور بہت ہی اجر و ثواب کا عمل ہے ۔ دلائل الخیرات الحزب الاعظم، مناجات مقبول اور اوراد شریف مسنون دعائوں کے مجموعہ ہیں۔ ان کا پڑھنا بھی باعث اجر ہے۔اور کوئی کتاب ہو تو اس میں بھی یہی دعائیں ہونگی اس لئے اگر مزید کچھ اور پڑھنا چاہیں تو مزید کسی کتاب کے انتخاب کے بجائے تلاوت کی مقدار بڑھائی جائے ،جو بہر حال افضل ہے۔ اگر تسبیحات ،تحمیدات و تہلیلات کی مقدار زیادہ کی جائے تو یہ بھی عبادت ہے اور اس کے ساتھ درود شریف زیادہ سے زیادہ حتیٰ کہ ہزاروں کی تعداد میں روزانہ پڑھنے کامعمول دنیا و آخرت کے عظیم انعامات کا ذریعہ ہوگا۔
سوال: نکاح میں لڑکے اور لڑکی کی مرضی کی کیا اہمیت ہیں۔ نیز گھروالوں کا کیا کردار ہے وضاحت کریں؟
اعجاز خان۔۔ سرینگر

نکاح۔ مرضی کی اہمیت

جواب :۔ نکاح کا تعلق جیسے لڑکے اور لڑکی کی ذاتی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کا تعلق دونوں خاندانوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اس لئے نکاح کے مکمل طور پر کامیاب ہونے اور ازدواجی زندگی کے ہر طرح خوشگوار بننے کیلئے ضروری ہے کہ لڑکے لڑکی بھی دونوں رضامندہوں اور اُن کے والدین بھی اس رشتہ پر خوش اور راضی ہوں۔ اگر خدانخواستہ کسی رشتے میں دونوں بچے خوش ہوں اور والدین ناراض ہوں تو خوشگواری کیسے آئے گی اور اگر والدین کسی ایسی جگہ رشتہ کرنے پر بضد ہوں جہاں لڑکا یا لڑکی آمادہ نہ ہوں تو بھی رشتہ کے کامیاب ہونے کے امکانات نہیں ہونگے۔ اسلئے شریعت اسلامیہ کا یہی حکم ہے اور عقل عام بھی یہی پسند کرتی  ہے کہ آپسی مفاہمت، رضامندی اور سبوں کی خوشی شامل ہو۔ اور جہاں بھی رشتہ ہو سبوں کی مشاورت اور دلی آمادگی کے ساتھ ہو۔ زیر نظر معاملے میں لڑکے اور اس کے اہل خانہ پر ضروری ہے کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دیں یا تو والدین بچے کی چاہت مان لیں اور اپنی ضد چھوڑ دیں یا بچے اپنی بے جا ضدپر مصر رہے تو دونوں صورتوں میں آگے تلخیاں اور ناخوشگوار یاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
والدین دور اندیشی کا رویہ اپنائیں اور یہ سوچیں کہ بچے کو آئندہ زندگی گذارنی ہے اسلئے ہم اپنی چاہت اس پر مسلط نہ کریں ایسی میں بہتری ہے اسی طرح بیٹا یہ سوچے کہ میرے والدین نے آج تک مجھے پالا پوسا۔ اور آئندہ مجھے ان کی ضرورت ہے اور ان کو میری ضرورت ہے لہٰذا ان کی پسند کو ملحوظ رکھنے میں ہی بہتری ہے دونوں طرف سے اگر ہٹ دھرمی اور بے جا اکڑ قائم رہی تو آئندہ دونوں کو سخت تلخیوں بلکہ نزاعات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا پڑیگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:۔ قران کریم میںحکم ہے کہ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دیا کرو۔ آج کل انسان کے پاس قیمتی مشینیں اور آلات ہوتے ہیں۔ جن کے استعمال میں کلی یا جزوی سطح پر تکنیکی تربیت یا تجربہ درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں اگر ان چیزوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو کیا جانا چاہئے تاکہ حکم قران کی عدولی نہ ہو اور نقصان سے بھی چاجاسکے۔ قران وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟
احمد کشمیری

گھریلو استعمال کی چیزیں.......

مانگنے و دینے کی صورتیں اور قرانی و عید

جواب:۔ قران کریم میں ایک جگہ بڑی خرابی کی وعید ویلُ‘ کے لفظ سے بیان کی گئی ہے اور یہ خرابی نمازوں میں سستی کا ہلی غفلت اور اوقات کی پابندی نہ کرنے والوں کے لئے ہے اور ریاکاری کرنے والوں کے لئے ہے اور یہ خرابی اُن لوگوں کے لئے بھی ہے جو ماعون کو روکتے ہیں… سورہ الماعون
ماعون کی دو تفسیریں ہیں,ایک زکوٰۃ اور دوسرے عمومی استعمال کی گھریلو اشیاء ۔اب معنی یہ ہونگے کہ خرابی ہے زکوٰۃ روک کر رکھنے والوں کے لئے اور خرابی ہے گھریلو استعمالی اشیاء پڑوسیوں سے روک کررکھنے والوں کے لئے ۔اس کی مراد یہ ہے کہ گھروں کی وہ چھوٹی موٹی چیزیں جو ایک دوسرے کو استعمال کے لئے لینے دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مثلاً برتن، بسترے اور آج کل استری، سوئی دھاگا، آلات زراعت، کلہاڑی بسولہ ، گینتی، رسی، درانتی وغیرہ ایسی چیزیں استعمال کرنے سے عام طور پر خراب نہیں ہوتیں۔ ایسی اشیاء کی ضرورت پڑتی ہے تو جو لوگ اپنے ہمسایوں یارشتہ داروں کو یہ چیزیں بغرض استعمال دینے میں بخل کرتے ہیں اُن کے لئے خرابی کی وعید بیان کی گئی۔اگر کوئی نازک چیز ہو یا ایسی چیز جس کے استعمال کے لئےتکنیکی مہارت کی ضرورت ہو اور مانگنے والے کے ہاتھوں خراب ہونے کا ظن غالب ہو تو ایسی چیز روک لینے پر خرابی کی وعید نہیں ہوگی۔
اس کی مثال یہ ہے کہ کسی پڑوسی نے گاڑی مانگی اور وہ گاڑی چلانے کا ماہر ہے اور یقین ہے کہ وہ گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہونچائیں گے ،پھر گاڑی دینے سے انکار کر دیا تو ایسی صورت میں خرابی کی وعید ہوگی لیکن اگر خود گاڑی کی ضرورت تھی اس لئے انکار کیا یا گاڑی مانگنے والے کے متعلق ظن غالب یا یقین ہے کہ وہ خرابی کرے گا یا نقصان پہنچائے گا۔ اس لئے انکار کردیا تو اس صورت میں خرابی کی وعید نہ ہوگی۔اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ قرآن کے حکم سے اعراض کیا گیا۔ یا مثلاً پڑوسیوں یا رشتہ داروں نے کہا کہ ہم کو چند دن کیلئے واشنگ مشین یا جنریٹر، یا فریج دو یا ٹرانسفارمر مانگ لیا۔اور یہ چیز دینے میں کوئی حرج بھی نہ ہو اور ان اشیاء کے خراب ہونے کا بھی اندیشہ نہ ہو اور مانگنے والے کے متعلق یقین ہو کہ وہ احتیاط سے ان کا استعمال کرے گا ۔ تو پھر یہ چیزیں روک لینا اُس وعید کے ذیل میں آئے گا، جو قرآن کریم میں ارشاد ہوئی ہے ۔ اگرخود ضرورت ہو، اس لئے انکا رکیا یا خرابی ہونے کا یقین ہو یا پھراس سے پہلے انکی بے احتیاطی کی بنا پر نقصان پیش آنے کا تجربہ ہو چکا ہو تو  انکار کرنے پر وہ وعید نہ ہوگی جوقرآن مجید میں ارشاد ہوئی ہے۔ انکار کی وجہ سے پڑوسیوں کے درمیان غلط فہمیاں ، تلخیاں ، دوریاں اور ناراضگی کے جذبات پید ا ہوتے ہیں اس لئے ایسے انداز سے معذرت کرنی چاہئے کہ ناراضگی پیدا نہ ہو یا کم ہو۔یعنی حسن اداوحسن طرز سے معذرت کی جاے نہ کہ تلخ انداز میں انکار ۔
 

تازہ ترین