تازہ ترین

تعلیمی اداروں کی بندش سے پوری نسل بحران سے دو چار:اقوام متحدہ

کرونا وائرس کے بعد کی دنیا میں رسمی تعلیم کی بحالی پر ترجیح دینے کی ضرورت

تاریخ    6 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


نیویارک //اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے تعلیمی اداروں کی بندش نے ایک پوری نسل کو بحران سے دو چار کر دیا ہے۔انہوں نے یہ بات منگل کو اقوامِ متحدہ کی ایک نئی مہم ’ہمارا مستقبل بچائیں‘ کے آغاز کے موقع پر ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کہی۔اس مہم کا مقصد کرونا وائرس کے بعد کی دنیا میں رسمی تعلیم کی بحالی کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا کے 160 کے لگ بھگ ممالک میں ایک ارب سے زائد بچے رسمی تعلیم سے محروم ہیں جب کہ کم سے کم چار کروڑ بچے پری اسکول کی تعلیم شروع نہیں کر پائے۔انہوں نے کہا کہ معذور طلبا، اقلیتوں اور خطرے سے دو چار برادریوں، پناہ گزینوں اور بے دخل افراد کے بچوں کیلئے تعلیم میں پیچھے رہ جانے کا سنگین خطرہ موجود ہے۔سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں 25 کروڑ طلبہ اسکول جانے سے محروم ہیں اور یہ ایک بڑا تعلیمی بحران ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد طالب علموں کی اسکولوں میں واپسی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔گٹریس کا کہنا تھا کہ اب ہمیں ایک پوری نسل کی تباہی کا سامنا ہے، جس سے انسانی قابلیت ، صلاحیتیں اور برسوں سے حاصل کی گئی ترقی ضائع ہو سکتی ہے، اور اس سے عدم مساوات بدتر شکل اختیار کر سکتی ہے۔