تازہ ترین

کورونا وائرس کا خطرہ اور ہمارا کام

تاریخ    6 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


مفتی محمد شعیب اللہ خان
 کرورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت ساری دنیا پریشانی میں مبتلا ہے اور یہ وباء کئی ماہ سے مسلسل لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے اور آج ہر طرف سے موت کی خبریں کثرت کے ساتھ سنائی دے رہی ہیں اور اس کی وجہ سے لوگ دہشت ووحشت محسوس کر رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت ہمیں وحشت ودہشت میں پڑنے کے بجائے دو کاموں کی جانب توجہ دینا چاہیے ۔
 ایک تو یہ کہ اس سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کی فکر وتدبیر کرنا چاہیے ، کیوں کہ امراض اور وباؤں اور مصائب و پریشانیوں سے محفوظ رہنے کی فکر وتدبیر اسلامی نقطۂ نظر سے بھی ایک مشروع عمل ہے اور دنیوی نقطۂ نظر سے بھی ایک معقول بات ہے؛ مگر لوگوں میں اس سلسلے میں بے احتیاطی پائی جا رہی جو اس وائرس کے خطرے کو روز بروز بڑھا تی جا رہی ہے ۔
 لہٰذا حکومت کی جانب سے اور اطباء کی جانب سے اس سلسلے میں جو احتیاطی تدابیر پیش کی جا رہی ہے ، ان کو اللہ کے بھروسے اختیار کرنا چاہیے ، اس میں ایک تو خود کا فائدہ ہے اور دوسرے دوسروں کا بھی تحفظ ہے ۔ اوراس وقت تما م ماہرین کی جانب سے یہ بات بار بار کہی جا رہی ہے کہ اب تک اس وباء کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو اہے اور اس وقت سب بڑی اور اہم تدبیر خود کو گھروں میں بند رکھنا اور میل جول سے حتی الامکان بچنا ہے ، لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم دیگر تدابیر کے ساتھ اس خاص تدبیر کی جانب زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور دوسروں کو بھی توجہ دلائیں اور خود کے لیے اور دوسروں کے لیے خطرہ بننے سے بچیں۔
 اور اس ظاہری تدبیر کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی جانب رجوع اور اس سے دعاؤں کا اہتمام بھی مسلمان کے نزدیک ایک اہم تدبیر ہے جس سے کوئی مسلمان بے خبر بھی نہیں رہ سکتا اور نہ اس میں کوتاہی کر سکتا ہے ۔
 دوسری بات جس کی جانب توجہ کی ضرورت ہے ، وہ یہ ہے کہ موت بہ ہر حال ایک حقیقت ہے اور وہ اپنے وقت پر مقرر و مقدر ہے ، جو نہ وقت سے پہلے آئے گی اور نہ وقت سے موخر ہو گی ۔ نہ اس سے بھگانے سے وہ ٹل جائے گی ،لہٰذا موت سے وحشت ودہشت میں پڑنے اور محض فضول باتوں اور ادھر ادھر کے تذکروں اور تبصروں میں اپنے اوقات کو گنوانے کے بجائے ، خود کو موت اور آخرت کے لیے تیار کرنے میں لگانا چاہیے ؛ کیوں کہ یہ دنیا ایک عارضی مقام ہے جہاں ہمیں محض آخرت کی تیاری کے لیے بھیجا گیا ہے ۔ ایک حدیث اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ :دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافرہو یا اس طرح جیسے کوئی راہ گزرنے والا ہو تا ہے اور خود کو قبر والوں میں سے شمار کرو۔(ترمذی )
 حضرت ابن عمر سے حدیث مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا گیا کہ مؤمنین میں سے عقل مند کون ہے؟ آپ نے فرمایاکہ :’’جو لوگ موت کو کثرت سے یاد کرتے ہیں اور موت کے بعد والی زندگی کے لیے خوب تیاری کرتے ہیں ، یہی لوگ عقل مند ہیں)۔(ابن ماجہ)
 آج اس سلسلے میں بھی لوگوں میں بے حد کمی دکھائی دے رہی ہے ، جب کہ ہر طرف موت ہی موت نظر آرہی ہے تو یہ خود ہمارے لیے بہت  بڑا واعظ ہے اور ہماری موت یاد دلانے کے لیے کافی ہے ، لہٰذا ہمیشہ بھی اور خاص اس وقت خود کو آخرت کے لیے تیاری میں لگانا عقل مندی کا بھی تقاضا ہے۔