تازہ ترین

خصوصی پوزیشن کے خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر وادی بھر میں کرفیو کا نفاذ

تاریخ    4 اگست 2020 (29 : 12 PM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// پانچ اگست 2019 کے مرکزی سرکار کے فیصلوں کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے وادی کشمیر میں منگل کی صبح سے بدھ یعنی پانچ اگست کی شام تک سخت کرفیو نافذ کردیا ۔
ذرائع کے مطابق وادی میں کرفیو کے نفاذ کا یہ فیصلہ پولیس، فوج اور انٹلی جنس ایجنسیوں کی ایک کور گروپ میٹنگ میں لیا گیا ۔
میٹنگ میں فوج کی پندرہویں کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل بی ایس راجو، جموں وکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے شرکت کی۔
اطلاعات کے مطابق پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کی اضافی تعداد کو وادی بھر میں تعینات کیا گیا ہے ”تاکہ امن و قانون کی صورتحال کو بر قرار رکھا جاسکے“۔
پولیس اور دفورسز اہلکاروں نے سبھی اہم سڑکوں، شاہراﺅں،گلی کوچوں اور رابطہ سڑکوں کو خار دار تار سے سیل کرکے لوگوں کو گھروں تک ہی محدود رکھا ہے۔
اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا کہ وادی کے کئی علاقوں میں آج صبح پولیس کی گاڑیوں کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ دو روز تک گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
سرینگر ضلع میں کرفیو کے نفاذ کیلئے باضابطہ احکامات صادر کئے گئے تاہم وادی کے دیگر علاقوں میں مقامی ذرائع کے مطابق غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔

تازہ ترین