تازہ ترین

ڈاکٹر فرید پربتیؔ

کنعاں سے نہیں وادی کشمیر سے ہوں

تاریخ    4 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


سہیل سالمؔ
کچھ شعرا ء ایسے ہوتے ہیں جو جلد اپنے تمام تر امکانات ظاہر کردیتے ہیں اور پھر خاموش ہوجاتے ہیں۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جو عمر بھر ایک ہی رنگ میں شاعری کرتے رہتے ہیں۔ایسے چند شعرا ء ہی ہوتے ہیں جوآخر تک اپنی بازیا فت و بازدید میں سر گرداں رہتے ہیں۔فریدپربتیؔ کا تعلق جموں و کشمیر کے شعراء کی اسی صف سے ہے ،جن کا تخلیقی سفر عمر بھر جاری رہا۔ شہر خاص کے ادبی ستاروں میں ایک نام ڈاکٹر فرید پربتی ؔکا بھی ہے ۔آپ کا اصلی نام غلام نبی بٹ ہے۔ آپ ۴ اگست۱۹۶۱ء شہر خاص کے سنگین دروازہ حول سرینگر میں تولد ہوئے۔فرید پربتیؔ نے اردوشاعری کا باقاعدہ آغاز1980 میں کیا۔اب تک اردو میں ان کے اٹھ شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔جن میں’’ابر تر1987 ‘‘، ’’آب نیساں1992 ‘‘ ،’’اثبات1997 ‘‘ ، ’’فریدنامہ2003 ‘‘ ، ’’گفتگو چاند سے2005 ‘‘، ’’ہزار امکاں2006 ‘‘،’’خبر تحیر2008 ‘‘ اور ’’ہجوم آینئہ2010 ‘‘اردو دنیا میں متعارف ہوچکے ہیں۔فرید پربتی ؔکی شعری کائنات کا سفر کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے حالات کی تعبیر اور اس کی تر جمانی کے لئے جن استعاروں اور تشبیہات کا استعمال کیا ہے ،ان میں کثیر العلمیت مکمل طور نمایاں ہے۔انہوں نے اپنے وقت کے اعتبار سے جو شعری اساسہ چھوڑا ہے،وہ جدید شاعری کا عمدہ نمونہ ہے۔انہوں نے اپنے شعری بیان کو تبصرے کی شکل نہیں دی بلکہ اپنی حسیات اور اس سے منسلک شعری تقاضوں سے معاشرتی رشتوں کو ظاہر کرنے کی ضمن میں اپنی مخصوص شعری بصیرت کو بھی ماضی کی قدروں کے طور پر اور کبھی حال کی ذہنی الجھنوں کے طور پر برتا ہے۔  
فرید پربتی ؔکی رباعی گوئی کا سفر کرنے (فرید نامہ 2003 کے حوالے سے )کے بعد ان کے قادر الکلام ہونے کی دلیل ہے کہ انھوں نے جس میدان میں قدم رکھا ،اسے اول تا آخر سر کیا۔وہ ہر جگہ اپنے پختہ شعور،غنائی لہجہ اور متاثر فکرکے سبب کامیاب نظر آتے ہیں۔ان کی رباعیاں نہ صرف لفظوں کی بازی گری ہے اور نہ محض صنعت واصطلاحات کی مرقع نگاری ۔ان کی رباعیاںذاتی تجربات ومشاہدات کا برجستہ وبر محل اظہار ہے۔انھوں نے اردو شاعری کی جن اصناف میں طبع آزمائی کی ،ان میں موضوعات کا تنوع ،لفظیات کی انفرادیت،وسائل اظہار کی ندرت اور مخصوص طرز فکر کے وسیلے سے منفرد ر وممتاز مقام حاصل ہے۔؎
سمجھو کہ لگائو گے فقط رٹ میری
پائو گے چہار سمت آہٹ میری
جب تجھ پہ کمالات کھلیں گے میرے
سجدوں سے سجا دو  گے چوکھٹ  میری
فرید پربتیؔکی رباعیوں میں نکتہ آفرینی بھی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ وہ عام روش سے ہٹ کرچلنا پسند کرتے تھے ۔شاعری میں بھی الگ روش پر چلنا پسند کرتے تھے ۔انہوں نے لفظی سے زیادہ معنوی نکتہ آفرینی پر زور دیا ۔ان کی نکتہ آفرینی سلاست، گہرائی، اور معنویت سے لبریز ہے۔اس میدان میںفرید پربتی ؔنے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔چونکہ فریدؔ انسانی زندگی کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔اس کے بنیادی معاملات و مسائل پر غوروفکر کرتے ہیں۔اس کی ان گنت گتھیوں کو سلجھادیتے ہیں۔ انسان کو اس کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں ۔اس کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سکھاتے ہیںاور نظام کائنات میں اس کونئے آسمانوں پر اڑاتے ہیں۔فریدؔکی رباعیاں اس اعتبار سے بہت بلند ہیں اور اس میں شبہ نہیں کہ ان کی شاعری کے انہی عناصر نے ان کو عظمت سے ہمکنار کیا ہے۔لیکن جس طرح ان کی شاعری میں ان سب کا اظہار و ابلاغ ہوا ہے ،وہ بھی اس کو عظیم بنانے میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے اردو رباعی میں ایک نئی روچ پھونک دی۔اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑادی۔ان کی رباعیوں میں منفرد خیالات جابجا ملتے ہیں ؎
مند ر کی کنشت کی کہ ہو گھر کی آگ
خوراک ہی ہوتی ہے سمند ر کی آگ
میں برف کے ماحول  میں رہتا ہوں مگر
کم پڑتی نہیں ہے میرے اندر کی آگ
فرید پربتیؔنے سیاسی،تہذیبی ،معاشرتی موضوعات کو بھی اپنی رباعی کا حصہ بنایااور انفرادی رنگ کے پردے میں اجتماعی تجربات کی ترجمانی کی ہے۔ انہوںنے اپنے تجربات میں نئی ذہنی رو کو عام کیا ہے جو بدلتے حالات اور اس کی تشریح وتعبیر سے وجود میں آتی ہے۔ نیز انہوں نے اپنے شاعرانہ خیالات میں جو سیاسی، سماجی، مذہبی، تاریخی اور فلسفیانہ عناصر شامل کیے ہیں، وہ دراصل جدید ماحول کے خاص اور عام دونوںکے طبقوں کے محسوسات ہیں۔انہوں نے موجودہ زندگی اور معاشرے کے مختلف اور متضاد پہلوئوں میں مماثلت تلاش کرتے ہوئے مختلف جدبات میں وحدت قائم کرنے کی جو کوشش کی ہے ،وہ صحت اور سادگی کے ساتھ اپنی مختلف صورتوں میں نمایاں ہوتے ہیں۔زندگی کی پستی کے بنیادی عناصر میں خلوص اور دیانت کی جس کمی کا ذکر ہوتا ہے، تخلیق کار اس کی شدت کو حددرجہ محسوس کرتا ہے۔اس تعلق سے سلسلہ خیالات کا ہجوم بعض اوقات اسے تنہائی سے بھی دوچار کرتا ہے۔اور اس کی تنہائی کا عکس سلسلہ خیالات میں مزید ایک خیال کا اضافہ کرکے اردو رباعی کو مزید وسعت دیتی ہے۔فرید پربتیؔنے اپنے باطن کی پیچید گیوں کو جوکہ بیش تر سماجی گرو ہ بندی اور مذہب وروایت سے ان کے کمزور ہوتے رشتوں کی عطا کردہ ہیں،اپنی رباعیوںمیں اس طرح بیان کی ہے کہ گردو پیش کی دنیا کا آئینہ بھی محسوس ہوتی ہے۔ ؎   
ڈوبا بھی نہ تنکے کا سہارا مانگا
اک بار نہ ہی میں نے دوبارا مانگا
اے قرب کے بے انت سمندر میں نے   
اب تک نہ کبھی تجھ سے کنارا مانگا
فرید پربتیؔکی رباعیات کا سرا جہاں ایک طرف شاعری کے لب لہجہ سے ملتا ہے وہیں دوسری طرف ان کی شاعری عصر جدیدکی انسانی پیچیدگیوںکی بھول بھلیوں میں زیست کرنے والے احساس اور ذی شعور فرد کی انا کا اظہار بھی ہے۔چنانچہ اپنے اختصار کے اعتبار سے رباعی میں اظہار اور ادا کی سرحدیں ہوتی ہیںلیکن فریدؔ ایک کہنہ مشق شاعر کے طور پر معجزہ بیانی کے رموز سے آشنا ہیں ۔وہ زندگی کے ہر طرح کے دقیق مسائل سے فنی طور پر نبرد آزماہونے اور ترسیل واظہار کے مشائل کی حدود کو توڑنے ،بلکہ ان کو وسعت عطا کرنے کے اسرار و  رموز سے واقف ہیں۔ان کا نظریہ ادب کے تئیں دراصل کسی خاص نظریہ زیست یا نظریہ فن سے ملتا نہیں ہے۔بلکہ ان کا بنیادی سروکار شعریت اور شعری اظہار سے ہے۔ اظہار کے دوران فرید پربتی ؔکا لہجہ کہیں بھی بے لحن یا خالی از شعریت نہیں ہوتا ہے کیونکہ شاعری کے ضمن میں وہ تجربے کے قائل نہیں ہیں بلکہ کلاسیکی غزلیہ شاعری کی موسیقیت اور الفاظ و تراکیب کی تراش وخراش سے فرید ؔ حسب ضرورت مستفید ہوتے ہیں لیکن اپنے مخصوص و منفرد جدیدلہجے اور نئے شعری پیکروں کی تشکیل کے عمل پر گرفت بھی قائم رکھتے ہیں۔ ؎
پید ا ہیں یہاں سبھی، نہاں میں ہی ہوں
کس سے کہوں بے نام ونشاں میں ہی ہوں
مدت سے جو جلتی ہے نہ بجھتی ہے فریدؔ
اس آتش ہستی کا دھواں میں ہی ہوں
بہرحال 2003میں منظر عام پر آنے ولا ان کی رباعیات کا مجموعہ ’’فرید نامہ‘‘ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ فرید پربتی ؔجموں و کشمیر کے اردو ادب میں ایک خاص مقام پر فائز ہیں۔اس مجموعے کی آمد سے دبستان جموں وکشمیر کے شعر وادب میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔جس میں سماجی ،سیاسی،مذہبی ،تاریخی ،اقتصادی،منفی اور مثبت رخ،،انسانی اور غیر انسانی رشتے کو نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کرنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی ہیں۔اس مجموعے میں کشمیری تاریخ و تہذیب اور ثقافت و معاشرت کو فنی خوبصورتی کے ساتھ منصہ شہود پر لایا گیا ہے۔ شاعر کشمیر کا شدید تاثر بھر پور انداز میں پیش کرنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔فرید پزبتی ؔکے ہاں کشمیریت اور کشمیری ماحول اور موسمیاتی عمل اپنی سفاکیت کے ساتھ پوری طرح جلوہ گرہے۔ان رباعیوں میں جمالی کیفیت بھی ہے اور قدرتی حسن بھی ہے۔یہ رباعیاں کشمیر ی تہذیب و تمدن کی بھر پور عکاسی کرتی ہیں۔  ؎
واقف میں ہر اک خواب کی تعبیر سے ہوں
میں حسن ہوں اور حسن کی جاگیر سے ہوں
کہتے  ہیں مجھے یوسف ثانی اے دوست
کنعاں سے نہیں وادی کشمیر  سے ہوں
رابطہــ: رعناواری سرینگر،9103654553
(یہ مضمون فرید پربتی مرحوم کے یوم ولادت کے سلسلے میں شائع کیاجارہا ہے)

تازہ ترین