تازہ ترین

برطانیہ میں مذہبی منافرت قانون پر نظر ثانی

احوالِ دنیا

تاریخ    4 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


اسد مرزا
ایسی اطلاعات ہیں کہ برطانیہ نے مذہبی منافرت قانون پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی قانون کے تحت برطانیہ نے ہندوستانی مبلغ ڈاکٹرذاکر نائک کو 2010میں ملک میں داخل ہونے پر پابندی لگادی تھی۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے انسداد دہشت گردی کمیشن کے سابق سربراہ کی قیادت میں ایک کمیٹی موجودہ قانون پر نظر ثانی اور ایک نئے قانون کی سفارش کرے گی تاکہ سماجی اجتماعات کے ذریعہ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا استعمال کرکے منافرت پھیلانے کی رجحان کو روکا جاسکے۔
پیس ٹی وی کے خلاف کارروائی
ڈاکٹر ذاکر نائک کو اشتعال انگیز تقریریں کرنے کی وجہ سے برطانیہ کی سابق وزیر اعظم تھیریسا مئے ، جو اس وقت وزیر داخلہ تھیں، نے برطانیہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔انسداد انتہاپسندی کمیشن (سی سی ای) نے گزشتہ جون میں کہا تھا کہ ڈاکٹر نائک کا چینل اسلامی انتہاپسندی کی مثال ہے اور اس کے رویے نے منافرت کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے حکام کو حاصل اختیارات پر نظر ثانی کے لیے مجبور کردیا ہے۔سی سی ای کا خیال ہے کہ پرانے قانون میں کچھ خامیاں موجود ہیں جس کی وجہ سے انتہاپسند وں کو ’نفرت کا بیج بونے‘ کا موقع مل جاتا ہے ۔کمیشن یہ بھی غور کرے گا کہ آیا نیا قانون نافذکیا جاسکتا ہے یا نہیں۔سمجھا جاتا ہے کہ قانون پر نظر ثانی کے بعد سابقہ قانون میں موجود خامیوں کو دور کرکے اسے کافی سخت بنادیا جائے گا ۔
آف کام نے ڈاکٹر نائک کے ٹیلی ویزن اسٹیشنوں کے خلاف اپنے حالیہ فیصلے میں کہا کہ اس نے پایا کہ چار پروگراموں میں براڈکاسٹنگ کے ان ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے جو جرم کو بھڑکانے، منافرت انگیز تقریر، توہین اور اہانت سے متعلق ہیں۔ اور ان پروگراموں میں بعض افراد کو ’جانوروں سے بدتر‘ قرار دیا گیا تھا اور جادوگروں کو قتل کردینے کی وکالت کی گئی تھی۔ آف کام نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ یہ نشریات ’ انتہائی سنگین نوعیت‘ کے تھے اور ناظرین کو دوسروں کا قتل کرنے پر آمادہ کرسکتے تھے۔
برطانیہ کا چیریٹی کمیشن ڈاکٹر نائک کے چیریٹی ادارے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن انٹرنیشنل کی سرگرمیوں کی تفتیش بھی کررہا ہے۔ ڈاکٹر نائک ان دنوں ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ان پر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے سفر کرنے پربھی پابندی عائد ہے۔دونوں ممالک ان پر دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ حکومت ہند نے ڈاکٹر نائک پر23ملین پاونڈ کی مالی بے ضابطگی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
سی سی ای کا منصوبہ
سی سی ای کے مطابق کمیشن کے سابق سربراہ سر مارک راولے قانون پر نظر ثانی کریں گے اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ برطانیہ کے موجودہ دہشت گردی قانون یا مذہبی منافرت کے قوانین میںکس طرح کے جرائم کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے۔سر مارک  راولے موجودہ قوانین کا مطالعہ کررہے ہیں اور یہ پتہ لگارہے ہیں کہ کیا نئے قانون کی ضرورت ہے۔ وہ اس سال کے اواخر میں اپنی رپورٹ حکومت کو سونپیں گے۔
اطلاعات کے مطابق کمیشن کو منافرت پھیلانے کے بہت سے واقعات کا پتہ چلا ہے۔لیکن چونکہ وہ موجودہ قانون کے دائرے میں نہیں آتے ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکی۔ ان لوگوں میں صرف ڈاکٹر ذاکر نائک ہی نہیںبلکہ یورپ میں اخوان المسلمون اسلامک کونسل کے ہشام الحدید بھی شامل ہیں۔
کمیشن نے حال ہی میں Gab   اور  4 Chan  جیسی سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ، انتہائی دائیں بازو کی انتہاپسندوں تنظیموں کی طرف سے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے متعلق تبصروں کی نشاندہی کی ہے۔ان چینلوں کو کرائسٹ چرچ کے حملہ آور برینٹن ٹیرینٹ جیسے دہشت گرد استعمال کرتے ہیں۔خیال رہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر ہونے والے حملوں میں 51 افراد مارے گئے تھے۔
سی سی ای کی متنازعہ سربراہ سارہ خان کہتی ہیںکہ’’ منافرت انگیز انتہاپسندی نے مل جل کر رہنے کی ہماری روایت کے لیے خطرہ پیدا کردیا ہے۔ اور بہت سے انتہاپسند افرا داور تنظیمیں ، خواہ ان کا تعلق انتہائی دائیں بازو سے ہو، اسلام پسندوں سے ہو یا کسی اور سے ہو، قانونی گرفت میں آئے بغیر ، ملک میں آن لائن اور آف لائن دونوں ہی طرح سے سرگرم ہیں۔‘‘  سی سی ای کا قیام 2017میں لندن برج پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد مارچ2018میں عمل میں آیا تھا۔
برطانیہ کا تدارکی لائحہ عمل 
یہ اقدامات کوئی نئے نہیں ہیں ۔تدارکی لائحہ عمل(پریوینٹ اسٹریٹیجی) برطانیہ میں انسداد دہشت گردی لائحہ عمل CONTEST کا حصہ رہا ہے۔اسے 2003میں اس وقت کی ٹونی بلیئر کی لیبر پارٹی حکومت نے شروع کیا تھا۔پریوینٹ نے ابتدا میں CONTEST میں کوئی اہم رول ادا نہیں کیا تاہم 7جولائی 2005کو لندن میں ہونے والے حملوں کے بعد پریوینٹ اسٹریٹیجی کی اہمیت بڑھ گئی کیوں کہ حکومت ’ گھر کے اندر پروان چڑھنے والی‘ دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کرنا چاہتی تھی۔
اس لائحہ عمل کے تحت انتہاپسندی اور دہشت گردی کے مسئلے کو مسلمانوں اور اسلام سے جوڑ کر دیکھا گیا اور دہشت گردی کے خطرے کو اسلامی خطرہ سمجھا گیا۔حالانکہ پالیسی دستاویزات میں دیگر گروپوں اور دہشت گردی کی دیگر شکلوں(مثلا ً دائیں بازو کی دہشت گردی) کا بھی ذکر ہے لیکن پالیسی کا اصل زور اسلامی دہشت گردی پر ہی ہے۔مزید برآں اس میں ’برطانوی قدروں‘ کو سکھانے پر زور دیتے ہوئے مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں پر توجہ مرکوز کی جائے جو یہ نہیں جانتے کہ ’برطانویت‘ پر کس طرح عمل پیرا ہونا چاہئے۔
دہشت گردی کے خطرے کی اس انداز میں توضیح نے نہ صرف اسے مسلمانوں تک مخصوص کردیا بلکہ بیشتر عو ام میں یہ تاثر پیدا ہوگیا اور ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی کہ مسلمان صرف دہشت گردی او رتشدد میں ملوث رہتے ہیں،اس کے نتیجے میں’اسلامو فوبیا‘میں مزید اضافہ ہو ا۔اس نقطہ نظر کی وجہ سے حکومت کو بھی مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے ، ان کے خلاف تشدد اور سماجی کنٹرو ل کے دیگر وسیع تر طریقہ کار کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوئی۔
حکومت گوکہ اس بات سے انکار کرتی ہے ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ مسلم اداروں کی نگرانی پریوینٹ اسٹریٹیجی کا لازمی جز ہے۔ جس میںشدت پسندی کو دہشت گردی کے وسیع تر خاکے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔اور اس طرح موجودہ صورت حال کے تئیں کے اقدامات کرکے مستقبل میں ہونے والے حملوں کوکنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔دہشت گردی کے خطرے کو’اسلامی خطرہ‘ سمجھا جاتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کو’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
پریوینٹ کے نفاذ سے قبل برطانوی حکومت’ اسلامی دنیا سے روابط‘ (ای آئی ڈبلیو) کی حمایت کرتی تھی۔ای آئی ڈبلیو کا مقصدملک او ربیرون ملک مسلم دنیا ‘ میں برطانیہ کے متعلق نقطہ نظر کو تبدیل کرنا اور برطانیہ کو ایک’جدید ، کثیر ثقافتی اور روادار‘ ملک کے طور پر پیش کرنا تھا۔ای آئی ڈبلیوکا مقصد صرف بیرون ملک برطانوی خارجہ پالیسی کی تفہیم کا فروغ ہی نہیں بلکہ اند رون ملک انتہاپسندی سے مقابلہ کرنا اور برطانیہ میں اسلام کی تفہیم کو فرو غ دینا بھی تھا۔
پریوینٹ اور ای آئی ڈبلیو میں خامیاں
لیکن پریوینٹ اور ای آئی ڈبلیو دونوں ہی پروگراموں میں اصل مسئلے کا خیال نہیں رکھا گیا اور نہ ہی انسداد دہشت گردی لائحہ عمل کے فروغ میں مثبت رول ادا کرنے والے کلیدی کرداروں کی درست نشاندہی کی گئی تھی۔ای آئی ڈبلیو میں کامیاب برطانوی مسلمانوں کی مثبت امیج کو پیش کرنے اور انہیں کامیاب برطانوی شہری بتانے پرغیر ضروری زور دیا گیا اور پریوینٹ میں مسلم ادارو ں اور نوجوانوں کے خلاف نگرانی کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ دونوں پروگراموں میں مسلم کمیونٹی کے رہنماوں اور مذہبی شخصیات سے مدد لینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کمیونٹی نے اسے مسترد کردیا اوراسلامو فوبیا کو بڑھانے کا ذریعہ قرار دے دیا۔
مبینہ ’منافرت انگیز تقریروں ‘ کے متعلق مسائل یا ان کے حقیقی مفہوم کوسمجھنے کے بجائے تجزیہ کاروں نے انہیں لفظی معنوں میں لیا کیوںکہ انہیں نہ تو ا ن کمیونیٹیز کے زبانوں کے پس منظر کا کوئی علم تھا اور نہ ہی نفسیات اور ان کے اقدار کی کوئی سمجھ، جن کی نگرانی کا کام انہیں سونپا گیا تھا۔ لہذا وہ اپنے سیاسی آقاوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے حسب خواہ مشورے دیتے رہے۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عرب  دنیا یا ہندوستان میں واقع ایسے اداروں یا افراد پرپیسے خرچ کئے جاتے جو صائب اور مناسب مشورے دینے والے ہیں۔
عرب یا ہندوستانی مذہبی رہنما ان پروگراموں میں کلیدی رول ادا کرسکتے تھے کیوں کہ برطانوی مسلمانوں کی بڑی اکثریت یا تو عرب یا پھر ہندوستانی نزاد ہے۔ لیکن انہیں یاتو لاعلمی کی وجہ سے یا پھر جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ۔گوکہ برطانیہ میں مقیم امام اور مذہبی رہنماوں کے مسلمانوں کے ساتھ بہتر روابط ہیں لیکن عرب دنیا یا ہندوستان کے مذہبی رہنماوں کے برطانوی مسلمانوں پر اثرات کے مقابلے میں ان کے اثرات کمتر ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ کمیونٹیز کے درمیان دوری کو ختم کرنے کی وسیع تر تنظیمی صلاحیت نہیں رکھتے اور برطانوی سماج میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے بجائے بے خیالی میں مذہبی منافرت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ آپ بی بی سی اردو اور خلیج ٹائمز سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ ای میلasad.mirza.nd@gmail.com)
 

تازہ ترین