تازہ ترین

عیدالاضحیٰ آج

روایتی گہماگہمی اور چہل پہل مفقود،بڑے اجتماعات کی اجازت نہیں

تاریخ    1 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//وادی میں کرونا وائرس کے پھیلائو کے بیچ آج سنیچر کو عید الضحیٰ منائی جارہی ہے،تاہم عید پر بڑے اجتماعات کا اہتمام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔کشمیر میں مسلسل تیسری عید ہے جس میں روایتی گہما گہمی اور چہل پہل دیکھنے کو نہیں ملے گی۔عالمگیر وبائی بیماری کرونا وائرس کے پھیلائو اور اموات میں اضافے کے نتیجے میں عید الضحیٰ کی خوشیاں پھیکی پڑ چکی ہیں،جبکہ اس سے قبل امسال عید الفطر بھی کورنا اوائرس کے پھیلائو کے بیچ منائی گئی تھی اور اس عید پر بھی کوئی بھی روایتی جوش و خروش دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔سال گزشتہ5اگست کو مرکزی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کے آئین کی تنسیخ اور تقسیم کے فیصلے کے بعد پیداشدہ صورتحال کے نتیجے میں12اگست کو عید الضحیٰ منائی گئی تھی،جس میں بھی روایتی گہما گہمی دیکھنے کو نہیں ملی تھی۔ کووِڈ-  19 میں اضافے کے نتیجے میں عید سے قبل بالخصوص عرفہ کو بازاروں میں کوئی خاص جوش و خروش اور چہل پہل بھی دیکھنے کو نہیں ملی،جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عید کس قدر پھیکی  ہونے کا احتمال ہیں۔ بازاروں سے عرفہ کے روز رونق بھی غائب رہی،جبکہ دکانوں پر بھی لوگوں کی بہت کم تعداد خریداری کر رہی تھی۔ عید پر تاہم قربانی کے جانوروں کی خریداری اگرچہ کی جارہی تھی،تاہم اس کاروبار سے تعلق رکھنے والے کوٹھداروں اور بکروالوں کا کہنا تھا کہ صرف30فیصد خریداری ہوئی۔ قربانی کے جانوروں کی کم خرید و فروخت کے نتیجے میں عید پر قربانی کی روایتی چہل پہل بھی دیکھنے کو نہیں ملے گی۔ ماہرین صحت اور علمائے دین  نے پہلے ہی ضوابط کے تحت قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے اورانکے گوشت کو تقسیم کرنے کی صلاح دی ہے۔اس دوران مسلسل تیسری عید کو بھی عید کے پیش نظر بڑے اجتماعات منعقد نہیں ہونگے۔ گزشتہ برس بھی جامع مسجد سرینگر اور درگاہ حضرت بل کے علاوہ خانقاہ معلیٰ اور دیگر درگاہوں سے منسلک مساجد سمیت قصبوں کی جامع مساجد میں با جماعت نماز عید کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی،اور امسال بھی عید الفطر پر کرونا وائرس کے نتیجے میں درگاہوں،جامع مساجد اور اور خانقاہوں میں نماز عید باجماعت ادا ہونے سے رہ گئی تاہم چھوٹی مساجد میں سماجی فاصلوں کو عملاتے ہوئے نماز عید کی ادائیگی ہوئی تھی۔عید الضحیٰ پر بھی مسلسل تیسری بار جامع مسجد سرینگر،درگاہ حضرت بل اور دیگر بڑی مساجد میں نماز عید کی ادائیگی ممکن نہیں ہے،جبکہ بیشتر درگاہ اور خانقاہوں کو کووِڈ کے نمودار ہونے کے ساتھ ہی سیل کیا گیا تھا۔
 
 

لیفٹیننٹ گورنر کی مبارکباد

رہنماخطوط اور قواعد وضوابط پر عمل پیرا رہنے کی تاکید 

نیوز ڈیسک
 
جموں//لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرمرمو نے جموںوکشمیر کے عوام کو بالعموم او رمسلم برادری کو بالخصوص عید الاضحی کے مقدس موقعہ پر مبارک باد پیش کی ہے ۔ اپنے مبارکبادی کے پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس تہوار سے قربانی ، سخاوت اور فیاضی کا درس ملتا ہے ۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ یہ مبارک موقعہ یوٹی میں مزید خوشگوار ماحول قائم کرنے اور خوشحالی او رترقی کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ ہر تہوار امن و یکجہتی کو ترقی دینے کا موقعہ فراہم کرتا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ یہ عید اس روایت کو مزید فروغ دے کرسماج کے مختلف طبقوں کے مابین امن و آشتی اور مذہبی یگانگت کو مزید مستحکم بنائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر لوگوں کو تہوار مناتے ہوئے اِنتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے رہنما خطوط او رقواعد و ضوابط پرعمل پیر ا رہنے کے لئے کہا۔اُنہوں نے جموں وکشمیر یوٹی کے لئے امن ، ترقی اور خوشحالی کی دعا کی۔
 

سعو دی عرب سمیت متعدد ممالک میںعید الالضحیٰ منائی گئی

 نماز عید کی ادائیگی کے بعد سنت ابراہیمی کی پیروی میں جانور قربان کئے گئے 

سرینگر//سعودی عرب، فلسطین، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں سمیت یورپ، امریکا، کینیڈا، انڈونیشیا، جاپان اور افغانستان کے علاوہ دنیا کے دیگر خطوں میں عیدالاضحٰی مذہبی جوش جذبے سے منائی گئی۔عید الفطر کے علاوہ مسلمانوں کا دوسرا اہم ترین تہوار عیدالالضحیٰ ہے جو قمری کیلینڈر کے آخری مہینے ذوالحجہ کی 10 سے12 تاریخ تک منائی جاتی ہے،تاہم اس سال کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی اہم مسلمان ممالک بشمول پاکستان، متحدہ عرب امارات اور الجزائر نے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔اسی طرح رواں سال سعودی عرب نے اعلان کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے حج نہایت محدود ہوگا جس میں صرف10 ہزار افراد شرکت کرسکیں گے۔دنیا کے بیشتر ممالک میں عید الاضحیٰ کا آغاز دو رکعت نماز عید کی ادائیگی کے ساتھ ہوا۔تاہم اس سال مساجد میں شرکا ء کی تعداد بھی کم دیکھی گئی جبکہ کئی ممالک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی۔کینیڈا کے وزیر اعظم نے اس موقع پر ٹوئٹر پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے عوام کو عید کی مبارک باد دی۔نماز عید کے بعد مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے بکرے، دنبے، گائے یا اونٹ کی قربانی کرتے ہیں۔اس سلسلے میں ہر جگہ قربانی کے جانوروں کی فروخت کے لیے خصوصی منڈیاں قائم کی جاتی ہیں۔رواں سال بھی دنیا بھر میں صاحب حیثیت مسلمانوں نے عید کے دن نماز عید کی ادائیگی کے بعد حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی عظیم قربانی کے جذبے کی یاد میں جانوروں کو ذبح کیا۔واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان سمیت چند ممالک میں عید الاضحیٰ آج یعنی سنیچر کو منائی جائے گی۔ادھر پاکستانی  اخبار’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان میں ایک چھوٹے سے گاؤں کے لوگوں نے گزشتہ روز ہی عید کی نماز اور جانوروں کی قربانی کرتے ہوئے دن کا آغاز کیا۔رپورٹ کے مطابق مقامی رویت ہلال کمیٹی کے رکن نے ذوالحجہ کے چاند کی 5لوگوں کی شہادت سننے کے بعد جمعرات کے روز عید کا اعلان کردیا۔دوسری جانب شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں میں عید الاضحیٰ آج منائی جارہی ہے جبکہ ضم شدہ ضلع کے دیگر علاقوں میں ہفتے کے روز عید منائی جائے گی۔
 

تازہ ترین