تازہ ترین

لاک ڈائون میں نرمی کا دوسرا دن

بازاروں میں گہماگہمی،اشیاء ضروریہ کی خریداری

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//لاک ڈائون کی بندشوں میں انتظامیہ کی جانب سے نرمی کے بعد سرینگرکے بازاروں اور تجارتی مراکز میں عیدالاضحی کے پیش نظردوسرے روز بھی لوگوں کی چہل پہل دیکھنے کو ملی تاہم عید سے قبل بازاروں میںجس طرح خریدو فروخت ہوتی تھی ،وہ دیکھنے کو نہیں ملی اور زیادہ تر لوگ اشیائے خوردنی کی خریداری کرتے ہی نظر آئے۔انتظامیہ نے عید سے قبل دو روز تک اشیائے ضروریہ کی دکانوں کو کھلنے کی اجازت دی تھی،تاہم بدھ بعد از دوپہر دیگر دکانیں بھی کھلنے شروع ہوئے اور لوگوں نے بھی خرداری کی۔ شہر کے گونی کھن میں خواتین کی کافی تعداد جمع ہوئی اور دکانوں پر بھی گہما گہمی دیکھنے کو ملی،تاہم دکاندروں کی بار بار کی تاکید کے باوجود خریداروںکی خاصی تعداد دکانوں میں بغیر ماسک پہنے داخل ہو رہی تھی۔ مہاراج بازار،سرائے بالا،مائسمہ،کوکر بازار،ریگل چوک،مددینہ بازار،مکہ مارکیٹ،لالچوک اور دیگر نواحی علاقوں میں صبح سے ہی عید خریداروں کا تانتا بندھا رہا،جس کے نتیجے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد لولچوک میں جمع ہوئی۔طویل ترین لاک ڈاون کے بعد شہر سرینگر کے مختلف بازاروں میں رونق لوٹ آئی اور لوگوں کی کثیر تعداد عید الاضحی کے پیش نظر اشیاء ضروریہ کی چیزیں خریدنے کیلئے گھروں سے نکلے ۔لالچوک اورسیول لائنز کے دوسرے بازاروں میں کوئی خاص یا بالکل ہی رش نہیں تھا۔کم قلیل تعدادمیں نوجوان اورزیادہ خواتین ولڑکیاں آتے جاتے ،دکاندار اورچھاپڑی فروش کے پاس جاکرملبوسات کی قیمتیں معلوم کرتے رہے،لیکن خریداری کم لوگ ہی کرتے دیکھے گئے۔دن بھر سیول لائنز کے بازاروں اورمکہ مارکیٹ میں کچھ ایسی ہی صورتحال رہی۔ یوم عرفہ سے ایک دن قبل وادی کے بازاروں میں بھاری رش ہوتا تھا تاہم آج کوروناوائرس کے نتیجے میں لوگ محدود طریقے سے ہی بازاروں میں نظر آئے ۔ عام طور پر یوم عرفہ سے ایک دن قبل شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر بازاروں میں لوگوں کا جم غفیر ہوتا تھا تاہم کووڈکی19کی وجہ سے لوگ بازاروں میں کم ہی دیکھے گئے۔ شہر سرینگر کے مختلف علاقوں کے بازاروں میں لوگوں نے عید الاضحی کیلئے ضروریہ اشیاء کی خریداری کی جس میں گوشت ، مرغ، سبزی اور بیکری کی خریداری میں لوگ مصروف رہے تاہم جس قدر پہلے عرفہ سے قبل بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ ہوا کرتی تھی آج دکھائی نہیں دی ۔ 
 
 

چہرے پر ماسک ،نہ سماجی دوری

کورونا رہنما خطوط کی کھلے عام دھجیاں اڑا دی گئیں

بلال فرقانی
 
سرینگر// بازارو ںمیں عیدخریداری کے دوران کورونا ضوابط اور رہنما خطوط کی کھلے عام دھجیاں اڑا دی گئیں اور ایسا نظر آرہا تھا کہ شائد کرونا وائرس کو اہل کشمیر نے شکست دی۔ انتظامیہ نے عید خریداری کیلئے بدھ اور جمعرات کو بندشوں میں نرمی دیکر اشیائے ضروریہ کے دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی تھی۔کل دوپہر کے بعد سرینگر کے کئی بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ امڈ اآئی اور خریداری میں جٹ گئی۔ خریداری کے دوران بیشتر لوگ بغیر ماسک نقل و حرکت اور خریداری کرتے ہوئے دیکھتے گئے۔جن دکانوں کے باہر صاف لکھا تھا کہ بغیر ماسک کوئی بھی صارف دکانوں میں داخل نہ ہو ،ان دکانوں میں بھی خریداروں کی بھیڑ جمع ہوئی اور دکاندار وں نے بھی خاموشی اختیار کرنے میں عافیت سمجھی۔ شہر کے گونی کھن بازار میں انتہا ہی ہوئی جہاں پر بیشتر خواتین بغیر ماسک کے خریداری کر رہی تھیں،وہی جسمانی فاصلے کو عملانے کے ضوابط کی کھلی عام دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ نجی گاڑیوں میں سوار لوگوں نے اگر چہ کسی حد تل ماسک پہن رکھی تھی تاہم چھوٹی مسافربردار گاڑیوںمیں سوار بیشتر مسافر ماسکوںکے بغیر دیکھے گئے ۔صورتحال کو نظارہ کرتے ہوئے سجاد احمد نامی ایک صارف کا کہنا تھا’’بازاروں کی حالت دیکھ کر ایسا نظر آرہا تھا کہ کشمیر سے کرونا وائرس کو باہر دھکیلا گیا ہے،حالانہ حقیقت یہ ہے کہ وادی میں روزانہ 10افراد اوسطً کرونا کے نتیجے میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں لوگوں کی اس بے پرواہی اور غفلت شعاری  کے نتائج بھی سامنے آئیںگے۔
 

تازہ ترین