تازہ ترین

بے وفا

کہانی

تاریخ    26 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


راجہ یوسف
 ’’ دیکھو میں تمہیں کہہ چکا ہوں ۔ میں تمہارے ساتھ شادی نہیں کر سکتا ۔نہیں کر سکتا۔‘‘
 ’’ کس نے کہا آپ میرے ساتھ شادی کرو ۔۔۔ شادی تو میں آپ کے ساتھ کر رہی ہوں۔‘‘
 ’’ دیکھو یہ پاگل پن ہے جو تم کر رہی ہو۔ اس سے باہر آجائو ۔ پچھتائو گی۔‘‘
 ’’ میں تو پچھتانے کے لئے ہی آپ کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں۔ پچھتانے دو نا مجھے  پلیزززز۔‘‘
  ’’ سمجھا کرو لڑکی ۔ تم ابھی جوان ہو ۔ خوبصورت ہو ۔ کوئی بھی نوجوان تمہارے ساتھ شادی کر سکتا ہے۔ تم خوشحال زندگی گزار سکتی ہو۔ میرے تو صرف دو سال نوکری کے بچے ہیں۔ پھر میں رٹائیر ہوجائوں گا۔ ‘‘
  ’’ سنئے سنئے ۔۔۔ سنئے نا۔۔۔ آپ کی یہ باتیں تو میں کئی بار سن چکی ہوں ۔ جانے کیوں محبت کے بیچ میں آپ اپنی عمر ڈال رہے ہیں ۔ کیا میں نے کبھی آپ کو اپنی عمر کے بارے میں بتایا ۔ نہیں نا۔ جب میری چھوٹی عمر  ہماری شادی میں رکاوٹ نہیں بن رہی ہے تو آپ کیوں بار بار اپنی عمر کولے کر محبت کا مزا کرکرا کر دیتے ہیں ۔ ‘‘
یوں تو لیاقت علی اٹھاون سال کا تھا لیکن وہ ابھی بھی چالیس بیالیس سال کا لگ رہا تھا۔ کنپٹیوں کے بال سفید ہو چکے تھے۔ جن میں وہ کبھی بھی کوئی کلر نہیں کرتا تھا۔ چہرہ سرخ سفید ۔ قد ساڑھے پانچ فٹ اور جسم  متنا سب  ۔ آنکھیں روشن اور لہجہ نرم تھا۔ اس کے دوستوں کی فہرست لمبی تھی ۔ جب سے سوشل میڈیا آیا تب سے اس کے دوستوں میں دن بدن اضافہ ہی ہورہا تھا۔اب تو کئی خواتین کے ساتھ بھی اس کی اچھی خاصی دوستی تھی ۔  پانچ سال پہلے اس کی بیوی مر چکی تھی ۔اس کے دو بیٹے  سرکاری ملازم تھے  ۔دونوں کی شادیاں ہوچکی تھیں اور وہ   اپنے شہر سے دور اپنی فیملیز کے ساتھ خوش تھے۔ کھبی کبھار ہی گھر آجاتے تھے یا کبھی چھٹیوں میں لیاقت علی ان کے پاس جاتا تھا۔ ویسے  انہیں  ایک دوسرے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی۔ 
لیاقت علی کے گھر میں دو نوکر تھے جو گھر کی دیکھ بھال اور سیب کے باغات کی رکھوالی کرتے تھے۔ ویسے لیاقت علی آفس کے بعد اپنا زیادہ تر وقت ایک اخبار  کے دفتر میں گزارتا تھا۔ یہ اخبار اس کے ایک دوست کا تھا۔ جہاں وہ بلا معاوضہ اخبار کی معاونت کرتا تھا۔ وہاں اس کا اچھا وقت گزرجاتاتھا۔ سحرش چار پانچ مہینے پہلے اسے فیس  بک پر مل گئی تھی۔ اس کی  فرینڈ ریکویسٹ کنفرم کرتے ہی سحرش مسینجر پر بات کرنے لگی۔ پھر یہ  سلسلہ رکا نہیں ۔ یوں تو مسینجر پر لیا قت علی کی باتیں دنیا بھر کے لوگوں سے ہوتی تھیں، جن میں خواتین کی بھی اچھی تعداد تھی، لیکن سحرش  نے آہستہ آہستہ لیاقت علی سے اس کی ذاتی معلومات حاصل کر لیں اور وہ فیس بک فرینڈ کم رہے اور ذاتی دوست زیادہ بن گئے۔ لیاقت علی کو بھی اس کے ساتھ باتیں کرنے میں مزا آتا تھا۔ وہ بڑی شائشتہ اور علم دوست لڑکی تھی۔ اب یہ دونوں زیادہ تر فون پر بات کرتے تھے اور گھنٹوں کسی بھی موضوع  پر رواں تبصرہ کرلیتے تھے۔ لیاقت علی کا مہینے دو مہینے کے بعد  دلی جانا ہوتا تھا تو وہاں ان کو ملنے کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ سحرش فون پر جتنی بے باکی سے گفتگو کرتی تھی سامنے آکر وہ اتنا ہی خاموش خاموش سی رہتی تھی اورصرف لیاقت علی کی سنتی تھی۔ دلی میں وہ ساتھ ساتھ گھومتے رہے تو ان کی دوستی آہستہ آہستہ پیار میں ڈھل گئی۔ سحرش اچھے گھرانے کی لڑکی تھی اور ماس کام میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی۔ یہ اس کا آخری سال تھا۔ پرنٹ میڈیا کے بارے میں وہ لیاقت  علی سے بہت ساری مفید باتیں سیکھ چکی تھی اور ہمیشہ اپنی کم کہتی تھی اور لیاقت علی کی زیادہ سنتی تھی۔لیاقت علی دہلی میں دو بار اس کے ساتھ اس کے گھر بھی گیا، جہاں اس کی ماں اور بہن بھائیوں سے  ملاقات ہوگئی۔  اس دوران سحرش بھی ایک بار کشمیر آگئی اور لیاقت  علی نے اسے پورا کشمیر دکھایا۔ کشمیر کے صحت افزا مقامات میں پہلگام اسے زیادہ پسند آیا حالانکہ وہ گلمرگ بھی گئی اور وہاں برف پر سکیٹنگ کی اور گنڈولا سے گلمرگ کی وادیاں دیکھ لیں۔ شکارے میں بیٹھ کر ڈل جھیل کی سیر کی اور دو راتیں ہاؤس بوٹ  میں بھی گذار دیں ۔نشاط، شالیمار، ہارون،  چشمہ شاہی، اچھہ بل ویری ناگ دیکھا ۔ مغل باغات کے ساتھ ساتھ وہ ساری نئی جگہیں بھی دیکھ لیں جو گھومنے کے لائق تھیں۔ سارا کشمیر گھومنے کے بعد بھی نہ جانے اسے پہلگام زیادہ اچھا کیوں لگا۔یہ توباتوں باتوں میں اسے بعد میں پتا چلا کہ پہلگام تو لیاقت علی کی بھی پسندیدہ جگہ ہے۔ وہ پہلگام کو پسند ہی نہیں کرتا تھا بلکہ اسے پہلگام کے ساتھ عشق تھا۔ عشق کی بات آگئی تو سحرش نے برا مان لیا۔ وہ چاہتی تھی کہ لیاقت علی عشق صرف اسی کے ساتھ کرے ۔ کوئی تیسرا ان کے پیار کے بیچ نہ آئے ۔ چاہے وہ دنیا کی حسین ترین جگہ پہلگام ہی کیوں نہ ہو۔ 
دونوں نے دلی اور کشمیر میں کتنے دن ساتھ گزارے ۔عشق  اور عاشقی کی ہزار ہا باتیں کیں۔ کشمیر کی پھولوں سے بھری وادیوں اور یہاں کے سبزہ زاروں۔لالہ زاروں اور آبشاروں نے سحرش کے انگ انگ میں عشق و مشک کی مستی  بھر دی۔ وہ لیاقت علی کو جب بھی دیکھتی تھی تو اس کی آنکھوں میں نشہ سا چھا جاتا تھامگر کیا مجال کہ دونوں میں سے ایک نے بھی دوسرے کا جسم  حاصل کرنے کی سوچی ہو۔ وہ دونوں  تو دیوانوں کی طرح ایک دوسرے کی چاہتوں میں گم تھے۔ بس کشمیر سے جاتے وقت ایرپورٹ پر الوداعی کلمات میں سحرش نے صرف اتنا کہا تھا
 ’’ میں بہت جلد آپ کے ساتھ شادی کروں گی۔‘‘
’’ کیا ۔۔۔؟‘‘  لیاقت علی جیسے اس اچانک حملے کے لئے تیار ہی نہیں تھا۔ 
  ’’ یس ۔۔۔ آئی مین اٹ ۔۔۔‘‘
  اس کے بعد جب وہ فیس بک یا فون پر بات کرتے تھے تو سحرش ایک ہی رٹ لگائے رہتی تھی کہ وہ شادی کب کر رہے ہیں؟ 
لیاقت علی نے اسے کئی بار سمجھا یا۔ دنیا کے رسم و رواج بتا ئے۔ سماجی خوف و ڈر کی دہائی دی لیکن سحرش ایک بات بھی ماننے کے لئے تیار نہیں تھی۔ حالانکہ لیاقت علی کو سماج کی زیادہ پرواہ  بھی نہیں تھی اور نہ اسے اپنے بیٹوں سے کوئی ڈر تھا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ سحرش اور اس کی عمر میں چوبیس پچیس سال کا فرق تھا، جو اچھی بات نہیں تھی ۔ 
  ’’ کیوں اپنی زندگی برباد کرنے پر تلی ہو۔ میں تمہیں کیا دے پائوں گا۔ میری ملازمت کے صرف دو سال بچے ہیں۔ ۔ ۔ پھر
 ’’ پھر کیا۔ پھر تو زیادہ آرام کی زندگی ہوگی۔ نہ آفس کی پریشانی، نہ کہیں آنے جانے کا جھنجٹ ۔پھر تو موجاں ہی موجاں  ہے۔‘‘
 ’’ پاگل ۔۔۔  جب رٹائرمنٹ کی زندگی شروع ہوگی ۔ اس کے بعد میں تمہارا کتنا ساتھ دے پائوں گا۔ زیادہ سے زیادہ دس بارہ سال۔‘‘
 ’’ ووووو ۔۔۔ دس بارہ سال ۔۔۔ یہ تو بہووووت۔۔۔۔ ہیں ۔ میں تو یہ مان کے چلتی ہوں ’سو برس کی زندگی سے اچھے ہیں، پیار کے دو چار دن۔ ‘‘
’’ یہ کہنے کی باتیں ہوتی ہیں ۔ زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ پھر کیا کروگی یہ پہاڑ سی زندگی لے کر ۔‘‘ 
 ’’ میں تو چاہتی ہوں کہ تم سو سال سے بھی زیادہ جیو۔  پھر اس میں سے  تمہاری جتنی مرضی  مجھے  اتنا ہی وقت  دے دینا ۔ دس سال  ۔۔۔ میں تو بس سال دو سال مانگتی ہوں ۔ وہ بھی مل جائیں تو بہت ہیں۔ ‘‘
پھر لیاقت علی کی ایک نہ چلی  اور سحرش کے ساتھ شادی کرلی۔ وہ لیاقت علی کی ایک ایک بات کا خیال رکھتی تھی۔ جس میں اس کی خوشی ہوتی  وہی اپنے لئے بھی خوشی بنالیتی۔ لیاقت علی کو کچھ سوچنے کی مہلت بھی نہیں مل رہی۔ ابھی اس کے دل میں کوئی خیال سر اٹھاتا ہی تھا تو سحرش اس کی تکمیل کیلئے کھڑی ہوتی تھی۔ لیاقت علی کو ساری زندگی میں اتنی خوشیاں نہیں ملی تھیں جتنی سحرش  سے اسے اس ایک سال میں ملی تھیں۔ کبھی کبھی لیاقت علی کو لگتا تھا کہ سحرش کچھ تھکی تھکی سی لگتی ہے تو یہی سوچتا تھا کہ دہلی کی لڑکی ہے اورپڑھائی لکھائی میں مصروف رہی ہے ۔  شاید بہت زیادہ گھریلو کام کرنے سے تھکتی ہے یا کشمیر کی ہوا کا فرق پڑا ہے۔ وہ بار بار اسے کام کرنے سے روکتا تھا، اور گھر کے نوکروں سے کام کرانے کے لئے کہتا تھا، لیکن سحرش کو لیاقت علی کے سارے کام خود کرنے میں مزا آتا تھا۔ 
   ایک دن  لیاقت علی صبح کا اخبار دیکھ رہا تھا کہ سحرش  چائے کی ٹرے  لیکر آگئی ۔ ٹیبل پر چائے کی ٹرے رکھتے ہی وہ دوسرے صوفے پر گر گئی۔ حالانکہ اس نے خود کو کافی سنبھالا تھا۔ صوفے کا بازو پکڑنے کی کوشش بھی کی تھی۔ لیکن وہ پھر بھی ایک طرف لڑھک گئی تھی۔ لیاقت علی جلدی سے اٹھا۔ سحرش کو آوازیں دیں لیکن وہ ہوش میں نہیں تھی ۔ نوکروں کی مدد سے وہ اسے ایک بڑے اسپتال میں لے آیا ۔۔۔
پرائیوٹ اسپتال میں سحرش کو کئی گھنٹے بعد ہوش آگیا ۔ تب تک ٹسٹ کرانے کے لئے اس کے کئی بار بلڈ سمپل لئے گئے ۔ لیاقت علی یہاں سے وہاں دوڑتا رہا۔  کچھ قریبی دوست بھی  آ گئے تھے۔ لیکن شام تک وہ لوگ بھی  چلے گئے جب سحرش کوپوری طرح سے ہوش آیا۔  وہ اکیلاہی تھا  ۔ اب وہی سحرش کے ٹسٹ جمع کر رہا تھا۔  اور لگاتار ڈاکٹروں سے مل رہا تھا۔ آخر وہ ٹسٹ اور ضروری کاغذات کا پلندہ لیکر تھکا ہارا سحرش کے بیڈ کے قریب آگیا۔  سحرش نے آنکھیں کھول دیں اور مسکرا کر لیاقت علی کو دیکھنے لگی۔لیکن لیاقت علی اس کا جواب مسکراہٹ سے نہ دے پایا۔  وہ ایک ٹک سحرش کو دیکھ رہا تھا۔ 
 ’’ کیا تم جانتی تھیں؟ ۔‘‘
 ’’ ہاں ۔۔۔‘‘ سحرش نے مختصر جواب دے دیا
 ’’ کب سے ؟ ‘‘ 
 ’’ جب میں کشمیر آئی تھی۔ اور جاتے وقت آپ کو شادی کا پرپوزل دیا تھا۔‘‘
’’ کیوں کیا ایسا تم نے ۔‘‘ 
  ’’  میں زندگی کے یہ آخری پل آپ کے ساتھ گذارنا چاہتی تھی۔ ان کو حسین بنانا چاہتی تھی ۔  مجھے ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ میں زیادہ سے زیادہ ایک سال اور جی پائوں گی۔۔۔  لیکن دیکھو نا  ،  تمہارا پیار  مجھے دوسرے سال میں لے کر آگیا۔  شاید ابھی بھی کچھ اوردن جیوں تمہارے ساتھ۔‘‘  وہ مسکرا رہی تھی  لیاقت  علی کے ہونٹ بند تھے۔لیکن اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی جاری  ہوگئی تھی۔
 ’’ نہ۔۔۔نہ۔۔۔نہ ۔۔۔‘‘ سحرش نے اپنی لرزتی انگلیوں سے اس کے آنسوں صاف کرنے کی کوشش کی۔ لیاقت علی نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا ۔ اب سحرش کے ضبط کا بھی باندھ ٹوٹ چکا تھا۔ وہ زور زور سے رو رہی تھی۔ اور لیاقت علی اسے سینے سے لگا کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔روتے روتے سحرش کی ہچکی بندھ چکی تھی۔
 ’’ دیکھو نا مجھے کتنا اعتبار تھا تم پر ۔  مجھے یقین تھا کہ اگر میں مروں گی تو تمہاری  ہی بانہوں میں مروں گی ۔‘‘
 ’’ بے وفا ۔۔۔ سچ کہتے ہیں کہ یہ لڑکیاں بے وفا ہوتی ہیں۔  وقتِ ضرورت پر ہی دھوکہ دیتی ہیں ‘‘  
سحرش اپنا چہرہ لیاقت علی کے سینے کے ساتھ رگڑ رہی تھی ۔ اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہورہی تھیں ۔ لیکن معصوم سی مسکراہٹ  اس کے ہونٹوں پر  جیسے ثبت ہوکر رہ گئی تھی۔  
 
���
اننت ناگ کشمیر، موبائل  نمبر9419734234