تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    24 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

قربانی اسلام کا تاکیدی حکُم

موجودہ حالات میں عمل ترک نہ کرنے پر معتمد اور مُستند علماء کا اتفاق

سوال :  وبائی وائرس کے پھیلائو اور لاک ڈاون کی صورت حال میں سوال یہ ہے کہ قربانی کے متعلق کیا حکُم ہے ۔کیا اس میں شرعاً کوئی رخصت ہے؟ اس پُر خطر صورت حال میں جانور مہیا کرنا ،انہیں ذبح کرنا اور پھر گوشت تقسیم کرنا ،تینوں بہر حال مشکل کام بھی ہیں اور اس میں وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔اس لئے فی الوقت عوامی حلقوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے ۔علماء کرام سے اس حوالے سے سوالات بھی کئے جارہے ہیں۔لہٰذا اس پر تفصیل سے جواب مطلوب ہے، جو مسئلہ کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہو۔
عبدالمجید خان ۔بمنہ سرینگر
جواب :  قربانی اسلام کا وہ تاکیدی حکم ہے جو مسلمانوں کا شعار ہے ۔قرآن کریم میں کئی مقامات پر قربانی کا حکم دیا گیا ہے ۔سورہ الکوثر میں نماز اور قربانی دونوں کو ادا کرنے کا حکم ایک ہی آیت میں دیا گیا ہے ۔دنیا کی قریباً ہر قوم جانوروں کی قربانیاں کرتی ہے۔عرب کے مشرکین بھی بُتوں کے نام قربانی کرتے تھے ۔اسلام نے جیسے ہر عبادت کو اللہ جل شانہ کی ذات کے لئے خاص کردیا اور اس کو توحید کی لازمی شرط قرار دیا کہ غیر اللہ کے نام کی ہر عبادت شرک ہے ،اسی طرح قربانی بھی صرف اللہ کی ذات کے لئے مختص کردی گئی ،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا:جس شخص نے وسعت کے باوجود قربانی نہیں کی وہ ہرگز ہمارے عید گاہ میں نہ آئے ۔ایک حدیث میں یوں ارشاد ہے کہ حضرات صحابہ ؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ یہ قربانیاں کیا ہیں اور کیوں ہیں ؟ تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا یہ تمہارے ابا سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔یہاں سنت کے معنیٰ جاری کردہ وہ عمل جو اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہے۔لہٰذا قرآن و حدیث کی رو سے قربانی واجب ہے ۔اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جہاں یہ حکم بیان فرمایا وہیں اس عمل کی فضیلت اور اجر و ثواب بھی بیان فرمایا تاکہ قربانی کرنے والے اُس اجر و ثواب کے حصول کے لئے شوق و جذبہ سے قربانیاں کریں ۔قربانی کے عمل کو روکنے کے لئے عرصہ طویل سے مختلف طبقے طرح طرح کے اعذار اور خود ساختہ وجوہات بیان کرتے رہتے ہیں ،اُن طبقوں میں سے کچھ ایسے مسلمان بھی ہوتے ہیں جن کے ذہن بے دینی کے طرح طرح کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں لیکن آج تک قربانی کو روکنے کی یہ آوازیں غیر مؤثر رہیں۔ا س لئے کہ اُمت مسلمہ کی اکثریت کی نظروں میں یہ خیالات غیر معتبر ہیں اور مستند اور دین کے تحفظ کے حقیقی فکر مند علما ء چونکہ ان آراء کو رد کرتے ہیں اس لئے یہ تمام آوازیں اثر پذیر نہ ہوسکیں ۔آج وائرس کے عذاب کی بنا پر یہ سوال واقعتاً غور طلب ہے کہ کیا جس طرح جماعت اور جمعہ کی نمازوں میں بڑے اجتماع کے سلسلے میں تخفیف اور رخصت دی گئی کیا اسی طرح قربانی کے عمل میں کوئی رخصت ہوسکتی ہے یا نہیں۔یاد رہے کہ جیسے وبائی بیماری کے شدید خطرات کے باوجود نمازیں معاف نہیں ہوئیں ،مساجد کو اذان و جماعت کے لئے بند نہیں کیا گیا ،ہاں صرف بڑی بڑی جماعت کرنے سے بچنے کی اجازت دی گئی،اسی طرح قربانی نہ معاف ہوگی اور نہ ہی اس کی اجازت ہے کہ قربانی کا عمل موقوف کردیا جائے،نہ ہی یہ درست ہے کہ قربانی کے بجائے رقم صدقہ کی جائے اور قربانی کا ثواب مل جائے،بلکہ شرعاً حکم یہ ہے کہ قربانی ضرور کی جائے۔اس عمل کو ترک کرکے اپنے آپ کو مزید غضب خداوندی کا مستحق بننے سے بچا یا جائے۔یاد رہے کہ جب کسی خطہ کے لوگ مجموعی طور پر قربانی کے عمل کو ترک کردیتے ہیں تو پھر عذاب کی ایک شکل یہ بھی آسکتی ہے کہ انسانی جانوں کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔لہٰذا قربانی جس جس پر واجب ہے وہ اس واجب کو ہرگز ترک نہ کرے۔ چنانچہ پوری دنیا کے ہر جگہ کے معتمد و مستند علماء کا یہی فیصلہ ہے کہ قربانی ہرگز ترک نہ کی جائے۔اگر ایک گھر کے متعدد افراد پر قربانی واجب ہے تو ہر ہر شخص الگ الگ قربانی کرے۔گھر میں مثلاً میاں بیوی پر الگ الگ قربانی واجب ہو یا باپ بیٹوں پر الگ الگ قربانی لازم ہو مگر صرف ایک قربانی پر اکتفا کیا گیا تو جن کی قربانی باقی رہ گئی اُن کے ذمہ شرعی حکم باقی رہ گیا ،غرض کہ گھر کے جس جس فرد پر قربانی واجب ہو اُس کو یہ فریضہ ادا کرنا لازم ہے ،جس فرد کی قربانی باوجود لازم ہونے کے نہیں کی گئی وہ ترکِ واجب کا گنہگار ہوگا۔ اس لئے سُستی،کاہلی ،معمولی اعذار یا کسی اور فریب کی بِنا ء پر قربانی ترک نہ کی جائے ۔
موجودہ وبائی بیماری اور دوسری بہت ساری پریشانیوں میں مبتلا اُمت مسلمہ کے لئے کثرتِ اعمال ،کثرتِ استغفار اور اللہ کو راضی کرنے والے کام ہی بچائو کا راستہ ہے اور عید الاضحیٰ کے دن سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اور اللہ کی بار گا ہ میں سب سے زیادہ قبول ہونے والا عمل یہی قربانی ہے ۔اب اس کے بعد قربانی کے چند مسائل درج ہیں۔(۱) دس ذی الحجہ کی صبح کو جس کے پاس چھ سو بارہ (۶۱۲)گرام چاندی کی قیمت کے بقدر رقم موجود ہو یا اتنی چاندی ہو یا اتنی رقم کے بقدر ضروریات اصلیہ کے علاوہ گھریلو استعمال کی چیزیں ہوں ،اُس پر قربانی واجب ہے۔(۲)مشترکہ گھروں میں زوجہ کے زیورات اور رقوم خود اُس کی اپنی ہو تو اس پر مستقل قربانی لازم ہے ۔وہ بالغ اولاد جو والد کے ساتھ رہائش پذیر ہو اور اُس کے اپنے قبضے یا اُس کے اکونٹ ۶۱۲ گرام چاندی کی قیمت کے بقدر رقم ہے تو اُس پر بھی قربانی لازم ہے۔اس وقت جب کہ یہ سطور لکھی جارہی ہیں یہ قیمت 34,300/=، چونتیس ہزار تین سو، روپے ہے۔اصل میں یہ قیمت عید الاضحیٰ کے دن دیکھی جائے گی ۔(۳) قربانی کے ایام تین دن ہیں :۱۰؍۱۱؍ ۱۲؍ تاریخ ایام قربانی ہیں۔۱۲؍ ذی الحجہ غروب آفتاب سے پہلے پہلے ذبح ہونا ضروری ہے ۔(۴)اگر قربانی کرنے کی تمام تر کوشش کے باوجود قربانی نہ ہوسکے تو پھر یہ رقم غرباء و مساکین میں بطور صدقہ تقسیم کردی جائے یا کسی ایک کو ہی بطورِ صدقہ یہ رقم دی جائے ۔(۵)قربانی کرنا اگر گھروں میں مشکل ہو تو دوسرے مقامات جہاں آسانی سے قربانی ہوسکے وہاں وکالتاً قربانی کرانا درست ہے اس کا فائدہ اُٹھاکر اس ِ لازم حکم پر عمل کیا جائے ۔(۶)قربانی کا گوشت اگر سارا کا سارا اپنے گھر کے استعمال کے لئے رکھا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے اور اگر آج کے ماحول میں گوشت تقسیم کرنا مشکل ہو تو اپنے گھر میں محفوظ جگہ رکھا جائے اور حسب ضرورت استعمال کیا جائے ۔(۷)قربانی دوسرے ایسے علاقوں میں کرانا جہاں مفلوک الحال افراد کی تعداد زیادہ ہے ،یہ طرز عمل افضل اور باعث اجر ہے۔یہ وکالتاً قربانی ہوگی ۔(۸)وہ افراد جو دوسرے شہروں یا دوسرے ملکوں میں ہوں اور وہاں وہ قربانی نہ کرپائیں وہ اپنے گھر والوں کو قربانی کرنے کا وکیل بنائیں اور اُن کے گھر والے یہاں خود یا دوسرے کسی ادارے کے ذریعہ قربانی کراسکتے ہیں۔(۹)قربانی کا جانور نَر ہو یا مادہ دونوں کی قربانی درست ہے اور جو نَر جانور خصی کردیا گیا ہو اُس کی قربانی افضل ہے۔(۱۰)قربانی کی کھال مدارس اسلامیہ، جہاں زکواۃ و صدقات خرچ کرنے کا پورا شرعی اصول ضابطہ زیر عمل ہے، دینا زیادہ بہتر و افضل اور بہت سارے دینی فوائد کا حامل ہے۔تاہم جو ادارے یا جو بیت المال چرم قربانی وصول کریں وہ اس کے استعمال کا شرعی ضابطہ مستند عللماء سے تفصیل کے ساتھ معلوم کریں اور اُسی کے مطابق عمل کریں۔

گمشدہ جانور کا مسئلہ

س- ہم نے ایک بچھڑے کو قربانی کو نیت سے پالا تھا لیکن وہ کہیں گم ہوگیااب اس بچھڑے کی گمشدگی کے باوجود کیا ہم پر قربانی کرنا لازم ہوگی۔ انظر احمد پیر
ج:- اگر شرعی ضوابط کے مطابق آپ پرقربانی واجب ہے تو بچھڑے کے گم ہونے کے باوجود آپ کو قربانی کرنا لازم ہے ۔ اور اگر آپ پر قربانی واجب نہیں ہے تو پھر بچھڑے کے گم ہونے کے بعد آپ پر قربانی کرنا لازم نہیں ۔ 
قربانی ہر اس مسلمان پر لازم ہے جو عیدالضحیٰ کے دن ۶۱۲گرام چاندی یا اس کی قیمت کے بقدر رقم کا مالک ہو ۔ یعنی جس مقدار پر زکوٰۃ اور صدقہ لازم ہوتاہے اگر وہ مقدار موجود ہے تو پھر بہرحال قربانی کرنا لازم ہے جیسے کوئی شخص زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے رقم مخصوص کرچکا تھا مگر ادائیگی سے پہلے رقم گم ہوگئی تو دوسری رقم ادا کرنی لازم ہے ۔

خواتین کے ملکیتی زیورات اور قربانی کا مسئلہ

س:-اگر کسی عورت کے پاس اتنے زیورات ہوں جن پر زکوٰۃ کا حکم لاگو ہو جاتاہے کیا اس عورت پر قربانی بھی لازم ہو جاتی ہے ۔اگر اس کے ذمہ قربانی بھی ضروری ہو تو وہ عورت رقم کہاں سے لائیگی اور قربانی کریگی ۔ کیا ایسی عورت اپنے شوہر سے مطالبہ کرنے کا حق رکھتی ہے کہ شوہر اس کی طرف سے قربانی کرے۔    ایک خاتون…نوشہرہ سرینگر
ج:- قربانی جس طرح مرد پر لازم ہوتی ہے اسی طرح عورت کے پاس جب اتنی مالیت کے زیورات ہوں جن پر زکوٰۃ لازم ہوجاتی ہے تو اس عورت پر بھی قربانی لازم ہے۔ نقد رقم نہ ہو تو زیورات فروخت کرکے قربانی کرے یا اپنے شوہر سے قرض لیکر قربانی کر ے اگر شوہر خوشی و رضامندی سے زوجہ کی طرف سے بھی قربانی کرے یہ شوہر کازوجہ پر خصوصی احسان ہوگا ۔ اگر زوجہ کی طرف سے قربانی نہ کرے تو زوجہ گنہگارہوگی کیونکہ یہ حکم اُسی پر ہی ہے ۔زیورات ایک قیمتی مال ہے اگر یہ مال اللہ کا حکم پورا کرنے میں صرف ہو تو ایک صاحبِ ایمان کے لئے اس میں لیت ولعل کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ لہٰذا جس عورت پر قربانی لازم ہو وہ لازماً قربانی کرے۔ چاہے شوہر کی معاونت سے یا اپنے زیورات بیچ کر ۔
 

کیا عورت بھی قربانی کاجانورذبح کرسکتی ہے ؟

مسئلہ
 
انعام عظیم تیمی
 
جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سعودیہ
 
  اسلام نے عورت پر فقط پردہ کو فرض کیا تھا اور کیا ہے۔پردہ اور اسلامی حدود و قیود میں رہ کر جائز امور سے منع نہیں کیا تھا،لیکن آج معاشرے میں نہ یہ کہ صرف عورت سے ان کے فقط عورت ہونے کی بنا پر بہت سارے حقوق چھین لیے گئے ہیں بلکہ ترقی یافتہ اس دور میں مرد حضرات بھی بڑے فخر سے کہتے ہیں،میں تو جاھل ہوں،یہ کام فقط مولوی،مولانا اور فضیلت الشیخ ہی کرسکتے ہیں۔آج بھی عوام پڑھے لکھے سے مراد صرف ان حضرات کو ہی سمجھتے ہیںجنہوں نے کسی مکتب،مدرسہ،جامعہ،کالج اور یونیورسیٹیوں کا دورہ کیے ہوں،اگر کسی نے گھر بیٹھے ہی تعلیمی وسائل کو اپنا کر قرآن حفظ کیا،ان علوم و فنون کو پڑھا جسے پڑھنے کیلئے لوگ دور دراز کا سفر کرتے ہیں،تب بھی وہ لوگوں کے نزدیک عالم نہیں ہیں،لوگ انہیں مولوی اور فضیلت الشیخ نہیں مانتے ہیں،ان سے قربانی اور عقیقہ کا جانور ذبح نہیں کرواتے ہیں۔
 مدارس،جامعات،کالج اور یونیورسیٹی کا تعلق علم سے ہوسکتاہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جن کا تعلق ان جگہوں سے ہوں،فقط وہی عالم اور مولانا ہوں گے،آج کے اس ترقی یافتہ دور میں تقریبا ہر شخص انٹرنیٹ یوز کرتاہے، بڑی سہولت کے ساتھ ہرزبان میں ہم دین کے متعلق مواد حاصل کرسکتے ہیں اور بڑی آسانی کے ساتھ ہم وہاں سے سیکھ سکتے ہیں،اگر آپ کسی مسئلے کو سیکھ جاتے ہیں تو آپ اس مسئلے کے عالم ہیں۔
 لیکن افسوس صد افسوس کہ آج ہم دین کے بنیادی تمام مسائل کو جاننے کے باوجود بھی جہالت کا بہانہ بناکر دین سے بہت دور ہوچکے ہیں،ابھی قربانی کے ایام بہت قریب ہیں،ہرشخص قربانی کے تعلق سے مضامین لکھ رہے ہیں،سوچا میں بھی ایک مسئلہ کی وضاحت عصر حاضر کے تناظر میں کردوں،میں اپنے گاوں میں ہرسال قربانی کے پہلے دن بیس ،پچیس جانور تک ذبح کر ہی دیتاہوں،جن گھروں میں قربانی کرتاہوں ان کے یہاں تمام مسئلے مسائل کو جاننے والے مرد و خواتین بھی ہوتے ہیں،عالمت اور فضیلت کے کلاسوں میں پڑھنے والے ان کے بیٹے اور بیٹیاں ہوتے ہیں،لیکن قربانی فقط ان ہی سے کرواتے ہیں جو مولوی کے نام سے مشہور ہوتے ہیں۔
مرد حضرات جو مولوی کے نام سے مشہور ہوں یا نہ ہوں ،وہ بھی قربانی کرسکتے ہیں،انہیں اپنے قربانی کے جانور خود سے ہی ذبح کرنے چاہئے،یہی افضل ہے،نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سینگوں والے،دوچتکبرے مینڈھے ذبح کیے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا(صحیح  بخاری،کتاب الاضا
 حی،باب التکبیر عندالذبح 5565)نیز حجۃالوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے تھے،اور یہ عمل اس لئے بھی افضل ہے کہ یہ فعل تقرب الٰہی کا باعث ہے،اور ایسا فعل جو قربت الٰہی کا سبب ہو،اس میں نائب مقرر کرنے کی بجائے اسے خود سرانجام دینا بہتر ہے یہ مسئلہ تو بہت حد تک شاید سب کو معلوم ہی ہوگا،دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ گھر کی عورتیں بھی قربانی کرسکتی ہیں،اگر وہ قربانی کرنا جانتی ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے کی خواتین قربانی اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں،شریعت کے اعتبار سے جو کام مرد کرسکتاہے،وہ عورت بھی کرسکتی ہے،الا یہ کہ اس کی ممانعت کی دلیل آجائے،سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ نیاپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں خود ذبح کریں(فتح الباری25/10)۔
 مختصر یہ کہ اگر آپ کو قربانی ذبح کرنے کی لمبی دعا یاد نہ ہو تو مختصر سی دعا پڑھ کر خود سے ذبح کریں،کسی مولوی سے تبرک سمجھ کر ذبح نہ کروائیں،افضل یہی ہے کہ آپ خود سے ذبح کریں۔اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین یارب العالمین۔