بعد اَزموت

فلسفہ ٔ موت

تاریخ    14 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹرامتیازعبدالقادر،بارہمولہ
موت تجدیدِمذاقِ زندگی کانام ہے۔موت ایک ایسی مسلّمہ حقیقت ہے جس سے کسی کومفرنہیں۔انسان میدانِ جنگ میںہویامحصورقلعے میں، زمین کی تہوں میں جاچھپے یاآسمان کی وسعتوں میں ڈیرا جمالے، حالتِ امن میں ہویا حالتِ جنگ میں، صحت مندجوانِ رعنا ہو یا بڑھاپے کی سرحدکو پہنچا ہوا کمزور و نحیف ہڈیوںکاڈھانچہ،مقربِ خدابندہ ہویاشیطان کاولی،غرض ہرایک کشاںکشاں اپنے رب سے ملاقات کی اوربڑھ رہاہے:
’تم جہاںبھی ہوگے،موت تمہیںجاپکڑے گی،چاہے تم مضبوط قلعوںمیںکیوںنہ رہ رہے ہو۔‘‘(النساء:۷۸)
مولاناروم نے ’مثنوی‘میںکیاخوب لکھاہے  ؎
 چوں قضا آمد طبیب ابلہ شود
آں دوا درنفع خود گمرہ شود
(جب وقت قضاآتاہے توطبیب(ڈاکٹر)بھی بے بس ہوجاتاہے۔نفع دینے والی دوابھی تب بے اثرہوجاتی ہے۔)
زمین کی موت کاخوف نہیںبلکہ ہمیںموت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس دنیامیںانتخاب ہورہاہے اصل زندگی (جنت) کو آباد کرنے والوں کا۔ موت سے بڑھ کرہماراکوئی محافظ ہی نہیںاورزندگی وموت کی کشمکش میںفاتح ہمیشہ موت ہی رہی ہے۔زندگی سے قبل موت ہی لکھی جاتی ہے۔ ہم ایسی شاہراہ پرمحوِسفرہیںجس کی منزل ازل سے ہی طے ہے۔موت اللہ کے رحم کاہی حصہ ہے، اس لئے مرنے والے کو’مرحوم‘ کہا جاتا ہے۔قبرکامرحلہ بالکل ایساہی ہے جیسے امتحان کے بعد ایک سکوت اور خاموشی ہوتی ہے۔ روح فرشتوںکی تحویل اور نگرانی میںابدی حیات کے انتظار میں رہتی ہے اور جسم آہستہ آہستہ مٹی کی ’بھوک‘ مٹادیتاہے۔نتائج کے لئے محشرمیںہماراقیام ہوگااوریہ وہ دن ہے جس دن کفارکوعلم ہوگاکہ اس قیام سے بدرجہابہتران کے لئے موت ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ روزقیامت جب ان کی روح کاوصال ان کے جسم سے ہوگااوراپنے اعمال کابدلہ جہنم کی صورت میںدیکھیںگے اورچکھیںگے تووہ پکاراٹھیں گے،آہ و بکاکریںگے اورمالک(داروغہ جہنم)سے فریادکریںگے کہ اللہ سے ہمارے لئے موت کاہی سوال کر و تاکہ ان سختیوںسے خلاصی ہو: ’وہ پکاریںگے اے مالک!تیرارب ہماراکام ہی تمام کردے تو اچھا ہے۔‘ (الزخرف ۷۷)
قرآن نے زندگی اورموت کے سلسلے کوچارادوارمیںتقسیم کیاہے۔ عالمِ نفوس، عالمِ دنیا،عالمِ برزخ اورعالمِ حشر۔اللہ فرماتاہے:’لوگو!تم اللہ کے منکرکس طرح ہوتے ہو،دراںحالیکہ تم مردہ تھے،تواس نے تمہیںزندگی بخشی،پھروہی مارتاہے،اس کے بعدزندہ بھی وہی کرے گا۔پھراسی کی طرف لوٹائے جائوگے۔‘(البقرہ ۲۸)
قرآن نے ایک اورمقام پرواضح کیاہے کہ دوزندگیاںاوردوموت ہیں۔جس سے معلوم پڑتاہے کہ قبرمیںاس طرح کی زندگی نہیںدی جاتی جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔اگرموت کے متصل بعدہی قبرکے اندرجسم کوروح لوٹادی جاتی ہے تب یہ تین زندگیاںاورتین موت ہوئیںجوکہ قرآن کے بیان سے صاف ٹکراتاہے۔مجرمین کوروزحساب جب ان کے اعمال دکھائے جائیںگے اللہ اس لمحے کی عکاسی کرتے ہوئے فرماتاہے:’وہ کہیںگے ،اے ہمارے رب!تونے ہمیںدومرتبہ موت دی اوردومرتبہ زندہ کیا۔تواب ہم نے اپنے گناہوںکااقرارکرلیاہے،توکیانکلنے کاکوئی راستہ ہے؟‘(غافر ۱۱)
دنیامیں بھیجاجانے والاانسان درحقیقت آخرت کامسافرہے۔انسان کی اصل شخصیت کوجسے قرآن میں’نفس‘سے تعبیرکیاگیاہے اورجوانسان کے جسمانی وجودسے بالکل الگ ایک مستقل وجود ہے، اسے جب جسم سے الگ کردیا جاتا ہے، اسی کانام موت ہے۔ اس کے لئے ایک خاص فرشتہ مقررہے جس کے ماتحت فرشتوںکاایک پوراعملہ ہے۔جسم خاکی ہے،ایک ’لباس‘جسے ’نفس‘نے پہناہے۔یہ لباس موت کے وقت اتاراجاتاہے اوراپنی اصل یعنی خاک کولوٹایاجاتاجہاںیہ جسم خاک میںپنہاںہوجاتاہے۔اس موت کے بعدسفرآخرت میںجس مرحلے سے انسان کاگزرہوتاہے،اسے برزخ سے تعبیر کیا جاتاہے۔یہ فارسی لفظ’پردہ‘کامعرب ہے اوراس حدِفاصل کے لئے استعمال ہواہے،جہاںمرنے والے قیامت تک کے لئے رہیںگے۔یہ گویاایک روک ہے جوانہیںواپس آنے نہیںدیتی۔عالمِ برزخ کی اصطلاح اسی سے وجودمیںآئی ہے۔اس میںانسان زندہ ہوگالیکن یہ زندگی جسم کے بغیرہوگی البتہ روح کے مشاہدات،تجربات ،احساسات اورشعورکی کیفیت ایک خواب کی سی ہوگی اورقیامت کے صورسے اس کیفیت سے تمام مردے نکل اٹھیںگے اورمیدانِ حشرمیںجسم وروح کے ساتھ دوبارہ کھڑے ہونگے۔مرنے کے بعدجب کچھ لوگ اِس دنیامیںواپس لوٹنے کی تمنا کریں گے تو انہیں کہا جائے گا ’ہرگز نہیں، (یہ نہیں ہوسکتا) یہ تو ایک (حسرت بھرا) کلمہ ہے جسے وہ کہے گا،وگرنہ ان کے آگے ایک پردہ ہے، اُس دن تک کے لئے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔ ‘(المومنون ۱۰۰)
موت کے بعد جو سفر شروع ہوگا، اس میں روح پر کیا گزرتی ہے؟ قرآن کے غائرمطالعہ سے جوتصویرسامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ روح کواُس وقت تک کے لئے ایک خاص دنیامیںرکھاجاتاہے جب تک کہ پوری انسانیت کی زندگی اوران کی جزاوسزاکامرحلہ نہیںآجاتا۔
دارالافتاء جامعہ العلوم الاسلامیہ،بنوری ٹاون کراچی پاکستان کے ایک مفتی صاحب ایک سوال کے جواب میںلکھتے ہیں:’اس بارے میںروایات بھی مختلف ہیںاورعلماء کے اقوال بھی مختلف ہیں۔مگرتمام نصوص کوجمع کرنے سے جوبات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نیک ارواح کااصل مستقر’علیّین‘ ہے(مگراس کے درجات بھی مختلف ہیں)،بدارواح کااصل ٹھکانا’سجّین‘ ہے اورہرروح کاایک خاص تعلق اس کے جسم کے ساتھ کردیاجاتاہے،خواہ جسم قبرمیںمدفون ہویادریامیںغرق ہویاکسی درندے کے پیٹ میں۔الغرض جسم کے اجزاء جہاںجہاںہوںگے روح کاایک خاص تعلق ان کے ساتھ قائم رہے گااوراس خاص تعلق کانام ’برزخی زندگی‘ہے۔جس طرح نورِآفتاب سے زمین کاذرہ چمکتاہے،اسی طرح روح کے تعلق سے جسم کا ہرذرہ ’زندگی‘ سے منور ہوجاتا ہے‘‘  (www.banuri.edu.pk)  
شہدائے احدکی ارواح کے بارے میںقرآن ہمیںمطلع کرتاہے کہ: ’راہِ خدامیںقتل ہونے والوںکومردہ خیال نہ کرنا،وہ زندہ ہیںاوراللہ کے ہاںرزق پارہے ہیں۔‘(اٰل عمران۔۱۶۹)
سورۃ المومنون میںروح اللہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہتی ہے،’رَبِّ ارجعُون‘ اے میرے رب مجھے لوٹادے۔‘ اس کے جواب میں’کلّا‘ (ہرگزنہیں)اسی روح کوکہاجاتاہے۔نیزعذابِ قبرکے حوالے سے قرآن میںجواشارہ ملتاہے اس کے لئے فرعون و اٰل فرعون کی مثال بیان کرتے ہوئے اللہ فرماتاہے کہ ان کی ارواح کوصبح وشام آگ پرپیش کیاجاتاہے:
’دوزخ کی آگ ہے جس پرصبح وشام وہ پیش کئے جاتے ہیں اور قیامت کے دن فرشتوں کو حکم ہوگاکہ آل فرعون کوجہنم کے بدترین عذاب میںداخل کردو۔‘ (غافر۴۶)
ثواب وعذابِ قبرکی یہ دومثالیںہیںجوقرآن نے واضح کی ہیں۔کچھ اذہان سوچتے ہیںکہ کیاہم محشرمیںاسی شکل وصورت کے ساتھ اٹھائے جائیںگے؟کیاہم ایک دوسرے کوپہچانیںگے؟قرآن بتاتاہے کہ ہاںیہی شکل وصورت،یہی قالب ہوگا ، جو ’شخصیت‘ (روح) بطورِ امانت فرشتوںکی تحویل میںتھی،وہ اسی قالب میںلوٹادی جائے گی۔یہی خاندان اور برادریاں ہونگے۔ ہم ایک دوسرے کوایسے ہی پہچانیں گے۔ ایسانہ ہوا تو پھر سوال و جواب، جزا و سزا چہ معنی دارد؟ انسان اس دنیا میں لامحدود خواہشات لے کر آتا ہے، جو اس محدود دنیا میں پورے ہونا ناممکن۔ اس کے لئے لامحدوددنیاہی درکارہے جوکہ محشرکے بعدہی عطاہوگی،وہاںوقت اورعمرکی رفتار’رُک‘ جائے گی۔ زمین وآسمان نئے نوامیس وقوانین سے بدل دئے جائیں گے۔(ابراھیم:۴۸) وہاںکوئی بوڑھاہوگااورنہ ہی موت ہی آئے گی۔ لامحدود دنیا میں لامحدود خواہشات کاسامان فراہم کیاجائے گا۔ حقیقت آشکارا ہوجائے گی، اس لئے غم ہوگانہ کوئی خوف  ؎
خیرے کُن اے فلاںوغنیمت شمارعمر
زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاںنماند
(شیخ شیرازی)
 

تازہ ترین