تازہ ترین

سکون

کہانی

تاریخ    12 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


بلال بلالیؔ
علی بابا ایک متقی اور پرہیزگار  انسان تھے۔ وہ ہمیشہ ہاتھ میں تسبیح لئے عبادت خداوند میں مشغول رہتے تھے۔گاؤں بھر میں اس کی عبادت گزاری اور دیانتداری کا خوب چرچا تھا۔لوگ اسے امین اور صادق کے ناموں سے پکارتے تھے۔بستی میں جب کھبی بھی کوئی مسئلہ پیش آتا، تو لوگ اس کا حل تلاش کرنے کے لئے علی بابا کے پاس دوڑے چلے آتے اور وہ اس مسلے کا حل معقول طریقے سے نکال لیتے۔وہ ہمیشہ پرسکون رہتے، یاد خدا اور خدمت خلق اُن کا پسند دیدہ مشغلہ تھا۔انہوں  نے اپنی زندگی میں سکھ ہی نہیں بلکہ دکھ بھی بہت دیکھے تھے مگر کبھی اس کی پیشانی پر بل نہیں پڑے۔۔غم کو وہ اپنے آس پاس بھٹکنے بھی نہیں دیتے تھے۔وہ ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے۔ ایک دن اچانک ان کی جوان بیوی کا انتقال ہو گیا۔ پوری بستی پر ماتم کی فضا چھاگئی۔بستی کی سبھی عورتیں ماتم کرنے لگیں۔ جوان،بوڑھے سب تشویش میں مبتلا تھے کہ بیوی کا غم آخر سب غموں سے بڑا غم ہوتا ہے،کس طرح علی بابا یہ غم برداشت کر سکتے ہیں۔؟ لوگ اداس نظروں سے علی بابا کی طرف ٹکٹکی باندھے ہوئے تھے مگر علی بابا ثابت قدم رہے۔قوت برداشت کو کمزور کرنے والے وسوسوں سے متاثر نہیں ہوئے۔ 
"مجھے صبر اور نماز سے کام لینا چاہیے، ہاں!مجھے خوب صبر اور نماز سے کام لینا چاہیے۔" علی بابا اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے گویا ہوئے۔ بستی کے تمام لوگ اس کے اس رد عمل کو دیکھ کر اور زیادہ اس کے گرویدہ ہوگئے۔
      کچھ عرصہ بعد ایک دن علی بابا اپنے چھوٹے سے کمرے میں مصلّابچھائے یاد خدا میں مگن تھے کہ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز کانوں سے ٹکرائی۔علی بابا فوراً اٹھے دروازہ کھولا، تو ایک اجنبی آدمی کو سامنے کھڑا پایا۔ لمبا قد، سر پر انگریزی ٹوپی اور چہرے پر داڑھی کا نام و نشان تک نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کو گھورنے لگے۔
  " علی " اجنبی آدمی کے منہ سے بے اختیار نکل پڑا۔
علی بابا اور زیادہ حیرت ہوگئے۔ یکایک اجنبی آدمی نے علی بابا کو اپنے آغوش میں دبوچ لیااور علی بابا کے ہاتھوں میں میلا پرانا رومال تھما کر غسل خانے کی طرف چلا گیا۔علی بابا اپنے کمرے میں واپس آکر اس میلی پرانے رومال کو غور سے تکنے لگے۔اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے اسے کھولا۔
"فردوس ! آہ! میرا بچپن کا دوست،میرا جگر۔" بے اختیار علی بابا کے منہ سے نکل پڑا۔
اجنبی آدمی فردوس علی بابا کا دوست تھا،جو بچپن میں ہی اپنے والد کے ساتھ امریکہ چلاگیا  تھا۔روانگی سے ایک دن پہلے دونوں دوست بستی کے بیچ گزرتی ہوئی ندی کے کنارے بغل گیر ہوئے۔
"فردوس! یہ ندی جس میں ہم دونوں چھلانگ لگاکر نہایا کرتے تھے اور وہ خوبانی کا درخت، جہاں سے ہم خوبانیاں چرا کر لایا کرتے تھے، ہمیشہ مجھے آپ کا احساس دلاتا رہے گا۔" علی بابا اپنے رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے کہہ اٹھا۔
علی بابا کے ہاتھوں میں تھمایا ہوا یہ میلا پرانا رومال وہی رومال ہے جو فردوس نے الودع کے وقت نشانی کے طور پر اپنے دوست علی کے ہاتھوں سے چھین لیا  تھا۔ کچھ دیر بعد فردوس غسل خانے سے نہاکر کمرے میں داخل ہوئے۔اس بار علی بابا نے اسے زور سے گلے لگا لیا۔دونوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو امڈ آئے۔خوب ایک دوسرے کی خبر پرسی ہونے لگے۔۔۔
" فردوس ! پورے پنتالیس برس کے بعد آپ امریکہ سے واپس یہاں لوٹ آئے۔اتنے عرصے میں اپنے دوست کا گھر کیسے یاد رہا۔؟"
"علی ! بستی میں قدم رکھتے ہی پہلے میں گاؤں کے بیچ گزرتی ہوئی اْس ندی کی جانب دوڑ پڑا،جہاں ہم بچپن میں لکڑی کے چھوٹے سے پل سے چھلانگ لگاکر نہایا کرتے تھے۔وہاں لکڑی کے پل کے بجائے لوہے کا پل دیکھا۔پھر خوبانی کے بڑے درخت کی جانب لپکا، وہاں تو عجب حال دیکھا،خوبانی کے درخت کا کہیں نام و نشان تک نہیں۔اْس جگہ پر اب موبائل فون نٹ ورک کا ٹاور کھڑا پایا۔ساری بستی گھوم آیا۔ سب کچھ بدلہ بدلہ سا لگا سوائے ایک پرانی وضع کے مکان کے۔ دل نے اندر سے صدا دینی شروع کی کہ یہی آپ کے یار کا مسکن ہے۔فوراً دوڑ کے دروازہ پر کھڑا ہوا۔
  "ہاں فردوس ! سب کچھ بدل گیا،بس ایک ہی چیز تب سے آج تک قائم و دائم ہیں،اور وہ ہے آپس کا پیار،محبت۔"
   پیار محبت کی جھلکیاں فردوس نے بستی میں قدم رکھتے ہی دیکھی تھیں۔ بابا نور صاحب کے آستانہ پر لنگر لگا ہواتھا ، چار چار آدمی ایک تھالی میں کھانا کھا رہے ہیں۔ کھیتوں میں دس دس آدمی مل جل کر کام کر رہے ہیں۔لوگوں کی ایک ٹولی چنار کے سائے تلے سماوار کی چائے پی رہے ہیں۔سب کچھ فردوس نے بستی میں قدم رکھتے ہی دیکھ لیا تھا۔
"فردوس ! آج اچانک آپ بستی کیسے لوٹ آئے۔"
"یار ! میں امریکہ میں ایک بہت بڑی کمپنی کا مالک ہوں۔گاڑی،بنگلہ، دھن دولت اور عزت سب کچھ میرے پاس ہیںلیکن ایک چیز ہے جو مجھے بہت تلاش و جستجو کے بعد بھی وہاں حاصل نہیں ہو سکی۔" 
"فردوس میرے یار ! ایسی کیا چیز ہے جو تمہیں وہاں اتنے بڑے ملک میں بھی مل نہ سکی۔"
"علی میرے جگر!وہ انمول چیز سکون ہے۔ ہمیشہ دل بے قرار و مضطرب رہتا۔۔۔۔۔سکون کی طلب میں میں نے کیا کچھ نہیں کیا۔" 
 "آہ! فردوس،میرے پیارے ! سکون اور بے چینی سمجھو ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، گاؤں ہو یا شہر دونوں ہر جگہ ایک ساتھ رہتے ہیں۔"
  "علی! کچھ پلے نہیں پڑ رہا ہیں۔۔۔ سیدھے بولو" 
" تعجب ہے کہ لوگ سکون کی تلاش میں کیا کیا نہیں کرتے،مگر نادان بھول بیٹھے ہیں کہ سکون پر ہم نے اپنے ہاتھوں غلاف چڑھا کر اُسے الماریوں میں بند کر کے رکھا ہے۔جس دل میں دنیا کی مکروہات نے پناہ لی ہو، اُس میں سکون اپنا گھر بسا نہیں  سکتا،آپ چاہتے تو امریکہ میں بھی سکون حاصل کر سکتے تھے۔"
        "وہ کیسے۔؟"
علی انگلی سے سامنے رحل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔"وہ رہا سکون ،جائو اپنے دل کو دنیا کی مکروہات سے پاک کرو اور سکون حاصل کرو۔"
آگے رِحل پر کلام پاک پڑا ہوا تھا۔ فردوس کلام پاک کی طرف نظر دوڑاتے ہوئے کپکپاتی زبان میں: "میں تو سچ مچ اسے بھول بیٹھا تھا۔"
    فردوس کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔۔۔کلام پاک کو سینے سے لگا کر سکون کی کیفیت محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔
���
ولرہامہ لنگیٹ ،کپواڑہ ،موبائل نمبر؛ 7006067138