اللہ! اللہ! اللہ!

کہانی

تاریخ    12 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


ڈاکٹرمشتاق احمد وانی
  اتوار کا دن تھااور نومبر کا مہینہ۔سورج بادلوں کے لحاف میں مُنہ چھپائے بیٹھا تھا۔بیچ بیچ میں ٹھنڈی دُھوپ اور چھاؤ ں آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ عظمت اُللہ کو فوج سے کیپٹن کی پوسٹ سے رٹائرڈ ہوکر گھر پینشن آئے کُل پندرہ دن ہوگئے تھے ۔ایک دن چائے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اُنھوں نے اپنی بیوی ساجدہ بیگم کو کہا
’’ساجدہ ! میں اپنے پرانے دوست اور محلے دار بُدھی سنگھ سے ملنے جارہا ہوں ‘‘
ساجدہ بیگم بولی
’’وہاں سے جلدی آجایئے گا ،بازار میں گرم کپڑوں کی سیل لگی ہے ۔میں اپنے اور بچّوں کے لیے سوئٹر اور جیکٹیں خریدنا چاہتی ہوں‘‘
’’ہاں میں کوئی ڈیڑھ گھنٹے کے بعد آجاؤں گا‘‘
اُنھوں نے ہاتھ میں چھوٹی سی تسبیح اُٹھائی اور اللہ کا ذکرکرتے ہوئے بُدھی سنگھ کے گھر کی طرف چل دیئے۔تھوڑے وقت کے بعد وہ اپنے پرانے دوست بُدھی سنگھ کے گھر کے باہر گیٹ پر پہنچ گئے ۔چار منزلہ عالیشان کوٹھی کے باہر ایک کشادہ لان میں ادھ ہری  امریکن گھاس اور مختلف پھولوں سے آراستہ کیاریاں دیکھ کرعظمت اُللہ کو بہت اچھا لگا ۔گیٹ کے اندر ایک طرف نئے ماڈل کی کافی مہنگی چمچماتی گاڑی لگی ہوئی تھی ۔اُس کے ساتھ ہی دوسری طرف انگریزی نسل کا سیاہ خونخوار کُتّا سنہرے رنگ کی ایک زنجیر سے بندھا ہوا تھا ۔اُنھوں نے جھجھکتے ہوئے گیٹ پہ لگی بیل کا بٹن دبادیا تو اندر کلاسیکی گانے کے یہ بول بڑی سُریلی آواز میں گونج اُٹھے۔
مُحبت کی جھوٹی کہانی پہ روئے
بڑی چوٹ کھائی جوانی پہ روئے
 عظمت اُللہ کو دیکھ کے کُتّا زور زور سے بھونکنے لگا۔اندر سے بُدھی سنگھ کا نوکر گیٹ پر آیا اور عظمت اُللہ سے پوچھنے لگا
’’جی ،آپ کون؟‘‘
’’مجھے عظمت اُللہ خان کہتے ہیں ۔میں اپنے پرانے دوست بُدھی سنگھ سے ملنے آیا ہوں‘‘
نوکر نے اُن کی بات سُنی اور اندر جاکر بُدھی سنگھ کو اُس کے دوست کی آمد کے بارے میں آگاہ کیا۔بُدھی سنگھ خراماں خراماں بڑے مغرورانہ انداز میں گیٹ پر آیا اور لمحہ بھر تک عظمت اُللہ کے چہرے کو تکتا رہ گیا ۔عظمت اُللہ کے ہونٹوں پہ ہلکی سی مُسکان قہقہے میں بدل گئی ،کہنے لگے
’’یار! کیا مجھے پہچانا نہیں ؟میں تیرا پرانا دوست عظمت اُللہ خان ہوں ‘‘
تب بُدھی سنگھ نے عظمت اُللہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا
’’ارے یار! تُونے تو آج اپنا حُلیہ ہی بدل دیا ہے ۔مجھے تو آج تیری پہچان نہیں آرہی تھی اور پھر یوں بھی ہم کئی برسوں کے بعد آج مل رہے ہیں ‘‘
عظمت اُللہ ،بُدھی سنگھ کے پیچھے پیچھے مکان کی دوسری منزل پہ چلا گیا ۔بالکونی میں دو بڑی خوب صورت کرسیاں لگی ہوئی تھیں ۔دونوں اُن پہ بیٹھ گئے۔ بُدھی سنگھ نے کہا
’’یار! میری یاداشت میں تو اُس عظمت اُللہ کی شبیہ نقش تھی جو موٹا ،خوب صورت،کلین شیو،پینٹ کوٹ،ٹائی اور بھورے رنگ کی گاگل پہنے ہیرو جیسا نظر آتا تھا   لیکن آج تیری یہ آدھی سفید داڑھی ،سر پہ ٹوپی اور ہاتھ میں تسبیح دیکھ کے میں تجھے پہچان نہیں پایا‘‘
عظمت اُللہ نے کہا
’’یار! گردشِ روز وشب میں انسان کا وجود ایک جیسا نہیں رہتا ہے ۔تبدیلی تو قدرت کا قانون ہے‘‘
نوکر اندر سے شیشے کے گلاسوں میں پانی لے کر باہر آگیا ۔عظمت اُللہ نے پانی پینے کے بعد کہا
’’یار! تیرا لان اور مکان دیکھ کے میرا دل خوش ہوا ۔بہت اچھا لگا‘‘
بُدھی سنگھ نے کہا
’’باہر سے تو تُونے نے میرا مکان دیکھ لیا ،چل اُٹھ اب میں تجھے اندر سے بھی دکھاتا ہوں‘‘
بُدھی سنگھ نے سب سے پہلے دوسری منزل کے کمرے،لابی اور باتھ روم دکھائے ۔بہت بڑی لابی میں قیمتی صوفہ سیٹ لگے ہوئے تھے ۔کمروں میں ہر چیز نہایت سلیقے سے رکھی کافی پُرکشش لگ رہی تھی۔دوسری منزل میں ایک کمرے میں بُدھی سنگھ کی کم سن بیٹیوں اور بیٹے کو ایک ٹیچر ٹیوشن پڑھانے میں مصروف تھا۔ اُس کمرے میں داخل ہونے کے بعد بُدھی سنگھ نے اپنے بچّوں کو متعارف کراتے ہوئے کہا
’’میرے دوست! یہ میری بڑی بیٹی ہے ،کرن بالا،ساتویں جماعت میں پڑھتی ہے ۔اس سے چھوٹی سونی ہے ،چوتھی کلاس میں پڑھتی ہے اور یہ میرا بیٹا ہے دھنوان ،یہ پہلی میں پڑھتا ہے ‘‘
جھوٹے بچوں کو دیکھ کے عظمت اللہ کچھ حیران سا ہو الیکن اُسے فوراً یاد آیا کہ بدھی سنگھ نے عمر کا بڑا حصہ اپنی حیثیت بنانے میں صرف کیا اور شادی کافی دیر سے کی۔
  مکان کی چاروں منزلوں میں دودو باتھ روم اور کمروں میں قیمتی فرنیچر ،قالین ،ڈبل بیڈ اور المایاں بُدھی سنگھ کی شاہانہ ٹھاٹ باٹھ کو ظاہر کررہی تھیں۔ پہلی منزل میں ایک جگہ ایکویریم میں طرح طرح کی مچھلیاں تھیں اور دوسری طرف کھڑکی کے سامنے باہر ایک بڑے پنجرے میں رنگین چڑیوں کی چہچہاہٹ کانوں میں نغمگی سی پیدا کررہی تھی ۔عظمت اُللہ دل ہی دل میں سوچنے لگے کہ بُدھی سنگھ کسی بڑے عہدے پر تعینات نہیں ہے۔ نہ ہی اُس کی دھرم پتنی سروس کرتی ہے ۔لیکن اس کے باوجود بُدھی سنگھ دھن دولت کا مالک ہے ۔لگتا ہے یہ سب چمک دمک اُس ناجائز پیسے کی وجہ سے ہے جو لفافے میں دیا جاتا ہے اور نہ نہ کرتے لیا جاتا ہے ۔اپنے پورے مکان کی سیر کرانے کے بعد بُدھی سنگھ اور عظمت اُللہ دوسری منزل کی بالکونی میں آکے بیٹھ گئے ۔عظمت اللہ نے کہا
’’یار! اللہ نے تجھے بہت کچھ دیا ہے ۔کسی بھی چیز کی کمی نہیں رکھی ہے ‘‘
بُدھی سنگھ نے کہا
’’میں تو ایشور،اللہ کو مانتا ہی نہیں ہوں ۔یہ سب میری اپنی محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے ،دوست!‘‘
عظمت اُللہ ،بُدھی سنگھ کی ملحدانہ باتیں سُن کر چونک گئے ،کہنے لگے
’’ارے! یہ تُو کیا کہہ رہا ہے !یہ کائنات ایک خود کار مشین کی طرح تھوڑی ہے ۔اس کا خالق ومالک ہے جو اسے بڑی حکمت وقدرت سے چلا رہا ہے ۔اُس عظیم غیبی طاقت کو ہم خدا،ایشور ،اللہ اور کئی دوسرے ناموں سے پکارتے ہیں ۔میرے دوست ! ہر چیز اللہ نے پیدا کی ہے‘‘
بُدھی سنگھ نے کہا
’’کوئی ایشور،اللہ ،بھگوان نہیں ہے ۔یہ سب وہم اور خیالی باتیں ہیں ۔میں نے سائنس پڑھی ہے ۔سائنس ہر بات کا  ٹھوس ثبوت چاہتی ہے ۔یہ سب ارتقا ہے ،ارتقا۔کیا تُونے ڈارون کی تھیوری نہیں پڑھی ہے ؟یار! ہم سب بندر کی اولاد ہیں ۔یہ حرام وحلال ،جائز وناجائز اور رشتوں کے بندھن کوئی معنی نہیں رکھتے ۔یہ سب مذہب اور دھرم کے ٹھیکیداروں نے اپنا دبدبہ قائم رکھنے کے لیے بنائے ہیں ۔میں کسی بھی مذہب اور دھرم کو نہیں مانتا ہوں ‘‘
بُدھی سنگھ نے جیب سے سیگریٹ کی ڈبی نکالی ، لائٹر سے ایک سیگریٹ سُلگائی اور دوسری سگریٹ عظمت اُللہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگا
’’یہ لے سیگریٹ پی لے‘‘
عظمت اُللہ نے کہا
’’نہیں ۔میں سیگریٹ نہیں پیتا ہوں‘‘
سگریٹ کا دُھواں بُدھی سنگھ کے مُنہ سے مرغولوں کی صورت میں نکل کرہوا میں تحلیل ہوتارہا اور عظمت اُللہ کو گُھٹن سی محسوس ہونے لگی ۔اُنھوں نے اپنی کرسی ذرا دُور کھسکالی اورپھر بُدھی سنگھ کو سمجھانے لگے
’’ یار بُدھی سنگھ! کوئی بھی چیز خود بخود وجود میں نہیں آتی ہے ،وجود میں لائی جاتی ہے ۔کیا تُونے راون،فرعون اور نمرود کے بارے میں نہیں سُنا یا پڑھا ہے ؟ اُنھوں نے بھی تو خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور پھر اُن کا کیا حشر ہوا‘‘
بُدھی سنگھ نے کہا 
’’میرے دوست! میں نے ڈارون کو پڑھا ہے ،فرائڈ کو پڑھا ہے ،کارل مارکس کو پڑھا ہے اور نطشتے سے میں بہت متاثر ہوں ۔راون ،فرعون اور نمرود کے قصے سب فرضی ہیں ۔نہ آپ نے راون ،فرعون اور نمرود کو دیکھا ہے اور نہ میں نے ۔اس لیے ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔بس زندگی کو اینجوائے کرنا سیکھواور پتا ہے نفسانی اور جنسی خواہشات کو دبانا کئی طرح کی بیماریوں کو جنم دیتا ہے ‘‘
موحد اور ملحد کے درمیان مباحثہ چل ہی رہا تھا کہ اسی دوران بُدھی سنگھ کی بیوی سلوچنا بنارسی ساڑھی کا پلّو سنبھالتی ہوئی ایک ٹرے میں پھل لے کے سامنے آگئی۔اُس نے ٹرے ایک چھوٹے سے ٹول پہ رکھ دی اور ہاتھ جوڑتے ہوئے عظمت اُللہ کو نمستے کہا
عظمت اُللہ نے پوچھا
’’بھابھی جی ! کیا حال ہے ؟‘‘
سلوچنا نے جواب دیا
’’بھائی صاحب ! سب کُشل منگل ہے‘‘
بُدھی سنگھ نے ہنستے ہوئے کہا 
’’میرے دوست! میری بیوی سلوچنا پر بھی ایشور ،اللہ کا بھوت سوار ہوا ہے ۔یہ بھی زیادہ تر پوجا پاٹھ میں ہی لگی رہتی ہے ۔مجھے اس پہ ہنسی آتی ہے اور یہ ایشور کا نام جپتی رہتی ہے ۔اس نے تو گھر میں ایک کمرہ پوجا روم کے طور پر رکھا ہے‘‘
عظمت اُللہ نے بڑے اطمینان سے کہا
’’بھابھی بہت اچھا کام کرتی ہے۔اپنے خالق و مالک کی پوجا کرتی ہے ۔اس سے اچھا کام اور کیا ہوسکتا ہے ‘‘
سلوچنا کہنے لگی
’’بھائی صاحب ! ان کو سمجھایئے ۔یہ کسی بھی دیوی ،دیوتا کونہیں مانتے ہیں ۔جب سے میری ان کے ساتھ شادی ہوئی ہے تب سے میں نے ان کو مندر کی طرف جاتے نہیں دیکھا ۔یہ کہتے ہیں بھگوان نہیں ہے ۔کھاؤ ،پیو ،عیش کرو بس یہی سب کچھ ہے‘‘یہ کہتے ہوئے سلوچنا اندر چلی گئی۔
عظمت اُللہ نے بُدھی سنگھ کو اللہ کے ہونے کا احساس دلانے کی ایک بار پھر کوشش کی ،کہنے لگے
’’دیکھ میرے دوست! ہم سب نے ایک دن  باری باری مرنا ہے ۔یہ دُنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزاء۔عمل کی بنیاد پر ہی ہم مرنے کے بعد جنت یا جہنم میں داخل کیے جائیں گے‘‘
 بُدھی سنگھ نے مُسکراتے ہوئے کہا 
’’ارے کوئی جنت اور جہنم نہیں ہے ۔یہ سب روایتی باتیں ہیں ۔ہاں یاد آیا غالب ؔنے بالکل صحیح کہا ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن 
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
عظمت اُللہ نے کہا
’’لیکن اسی شاعر نے یہ بھی تو کہاہے کہ نہ تھا کچھ تو خدا تھاکچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور بُدھی سنگھ کو کہنے لگے
’’اچھا میرے دوست! میں چلا ۔کافی دیر سے میں گھر سے آیا ہوں ۔مجھے یہاں سے جاکر بیوی کے ساتھ بازار جانا ہے‘‘
بُدھی سنگھ نے کہا
’’یار! دوپہر کا کھانا تیار ہے ۔کھانا کھا کے جا‘‘
عظمت اُللہ نے نہیں مانا ۔وہ گیٹ کے باہر نکل آئے اور اپنے گھر چلے گئے ۔راستے میں چلتے ہوئے اُن کے دل میں یہ بات بار بار کھٹکتی رہی کہ 
بُدھی سنگھ کی بُدھی بھرشٹ ہوگئی ہے ۔اسی لیے وہ ایشور ،اللہ کو نہیں مانتا ہے ۔
بُدھی سنگھ نے دوپہر کا کھانا کھایا اور کچھ وقت کے بعد سو گیا ۔کوئی چار بجے کے قریب وہ نیند سے جاگا اور چائے کا ایک کپ پیا۔پھر وہ بیوی بچّوں کے ساتھ ہنسی مذاق کی باتیں کرتا رہا۔دیکھتے دیکھتے  شام کے ملگجی سائے پھیلنے لگے ۔رات ہوگئی ۔نوکر اور بچّوں نے کھانا کھایا اور اپنے کمرے میں سونے چلے گئے ۔آخر پہ بُدھی سنگھ نے بیوی کے ساتھ کھانا کھایا ۔سونے سے پہلے اُس نے الماری سے وہسکی کی بوتل نکالی ،گلاس میں تھوڑی شراب اُنڈیلی اور بیوی سے کہنے لگا
’’سلوچنا! میں اُن مردوں میں سے نہیں ہوں جو گھروں میں بیویوں کے سامنے بڑے شریف بن کے رہتے ہیں ۔لیکن گھر سے باہر وہ سب کچھ کرتے ہیں جس کی اجازت نہ قانون دیتا ہے اور نہ اخلاقیات۔میں تمہارے سامنے شراب کے یہ دو گھونٹ پینا چاہتا ہوں ۔وہ بھی محض دوائی کے طور پر ۔اسے پینے کے بعد آدمی تمام رنج وغم بھول جاتا ہے اور آرام کی نیند سوتا ہے‘‘
عورت ،کتنی ہی تلخ اور تیز مزاج کی کیوں نہ ہو ،باغیانہ ذہنیت کے مرد کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے ۔سلوچنا نے اتنا ہی کہا
’’یہ شراب آپ کو اندر ہی اندر کھوکھلا کردے گی‘‘ 
    بُدھی سنگھ نے ایک ہی سانس میں شراب کا گلاس پی لیا اور بستر پر دراز ہوگیا۔رات کو ایک بج کر اکاون منٹ پر اُسے پیشاب میں درد کی ترنگ محسوس ہوئی ۔وہ واش روم گیا لیکن اُسے پیشاب کی آمد محسوس ہونے کے بعد بھی پیشاب نہیں آرہا تھا ۔اُس نے بیوی کو جگایا ۔وہ پریشان ہوگئی ۔نوکر اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا۔آدھی رات کا وقت اور بُدھی سنگھ کا درد سے بلبلانا !نوکر کو ڈرائیونگ بھی نہیں آتی تھی کہ بُدھی سنگھ کو اسپتال ہی لے جاتے ۔وہ بار بار واش روم کی طرف دوڑتا لیکن پیشاب کا اخراج اُس کے مقام خاص سے سے نہیں ہو پارہا تھا ۔سلوچنا تشویشناک حالت میں دوائی کی کوئی ایسی ٹکیا تلاش کر رہی تھی جس کے کھانے کے بعد اُس کے گھر والے کو آرام آئے ۔بُدھی سنگھ کے کراہنے کی آواز جب اُس کے بچّوں نے سُنی تو وہ بھی جاگ گئے ۔بچّے باپ کی حالت دیکھ کے رونے لگے ۔اسی دوران بُدھی سنگھ بستر پر آلتی پالتی مار کے بیٹھ گیا ۔اُس نے آنکھیں بند کردیں اور دل ہی دل میں کچھ بُدبُدانے لگا ۔اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔کچھ ہی وقت کے بعد اُسے تکلیف میں افاقہ محسوس ہوا ۔اُس کے چہرے کی کھوئی ہوئی رنگت لوٹ آئی ۔اُس نے پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ پر بمشکل قابو پایا ۔وہ واش روم کی طرف دوڑا اور آرام سے پیشاب سے فراغت پانے کے بعد بستر پر آکے لیٹ گیا ۔بیوی ،بچّوں نے اُسے بہتر حالت میں دیکھ کے اطمینان کی سانس لی اور سب سو گئے۔
دوسرے دن صبح جب بُدھی سنگھ نیند سے بیدار ہوا تو اُس کے مزاج میں بہت نرمی آگئی تھی ۔چائے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اُس نے بیوی کو کہا
’’سلوچنا! میں تھوڑے وقت کے لیے عظمت اُللہ کے پاس جارہاہوں ‘‘
’’جایئے‘‘بیوی نے اجازت دے دی۔
کچھ ہی وقت کے بعد وہ عظمت اُللہ کے گھر پہنچ گیا ۔آگے عظمت اُللہ گھر کے لان میں کرسی پہ بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے ۔بُدھی سنگھ کو گھر میں آتے دیکھ کر وہ حیران ہوگئے ۔پوچھنے لگے
’’میرے دوست! آج میرے غریب خانے پر کیسے تشریف آوری ہوئی؟‘‘
بُدھی سنگھ کے چہرے پر بشاشت تھی ۔اُس نے کہا
’’عظمت اُللہ ! یار! مجھے تُو بہت یاد آرہا تھا ۔اسی لیے تیرے پاس چلا آیا۔چل اندر مجھے تجھ سے ایک ضروری بات کہنی ہے ‘‘
عظمت اللہ، لمحہ بھر کے لیے تشویش میں پڑگئے کہنے لگے
’’یار! خیریت تو ہے؟‘‘
بُدھی سنگھ نے کہا 
’’ہاں یار! ایک خوشخبری سُنانا چاہتا ہوں ‘‘
   دونوں ڈرائنگ روم میں چلے گئے ۔اندر ابھی کرسیوں پر بیٹھے ہی تھے کہ بُدھی سنگھ فوراً کھڑا ہوگیا اور عظمت اللہ کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے کہنے لگا
’’عظمت اُللہ ! یار ! اللہ ہے! اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے ۔یہ سارا سنسار اُسی کا ہے ۔وہی ہمارا خالق ومالک ہے ‘‘
 پھر بُدھی سنگھ نے اپنے ساتھ پیش آمدہ رات کا سارا واقعہ سُناتے ہوئے کہا
’’یار! میں نے جب رات کو تکلیف کی حالت میں آنکھیں بند کیں اور آنسو بہاتے ہوئے دل ہی دل میں صرف تین بار اللہ! اللہ ! اللہ! کہا تو میری تکلیف یکدم ختم ہوگئی‘‘
عظمت اُللہ نے بڑی مُشکل سے اپنی ہنسی پہ قابو پاتے ہوئے کہا
’’میرے دوست! راہِ راست پر آنے میں اگرچہ تُونے کسی حد تک دیر کردی ہے لیکن پھر بھی دیر آید درست آید ۔مجھے تیری خوشی ہورہی ہے‘‘
دونوں آپس میں باتیں کررہے تھے کہ اسی دوران عظمت اللہ کا بڑا بیٹا چائے لے کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوا ۔چائے پینے کے بعد بُدھی سنگھ، عظمت اُللہ کے گھر سے بازار چلا گیا ۔اُس نے ایک کُتب فروش کی دُکان سے دو کتابیں ’’بہشتی زیور‘‘اور’’بھگوت گیتا ‘‘خریدیں اور اُنھیں لے کر اپنے گھر پر آگیا ۔ اُس کی بیوی سلوچنا رسوئی میں دوپہر کاکھانا تیار کرنے میں لگی ہوئی تھی ۔وہ سیدھا اُس کے پاس رسوئی میں چلا گیا اور اُسے بڑے پیار سے ’’بہشتی زیور‘‘ کتاب پکڑاتے ہوئے کہنے لگا
’’سلوچنا ! میں تمھارے لیے ’’بہشتی زیور ‘‘لایا ہوں ،ہندی رسم الخط میں ہے تُم اسے بڑی آسانی سے پڑھ سکو گی اور اپنے لیے ’بھگوت گیتا ‘لایا ہوں‘‘
سلوچنا حیرت سے ایک نظر اپنے پتی دیو کے چہرے پر ڈالنے لگی اور دوسری نظر ’’بہشتی زیور ‘‘پر ۔بُدھی سنگھ نے بیوی کی حیرت کو دیکھتے ہوئے زور زور سے گانا شروع کردیا 
’’ایشور ،اللہ تیرے نام ،سب کو سنمتی دے بھگوان!‘‘
 
���
اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اُردو 
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری( جموں کشمیر)
موبائل نمبر؛7889952532
 

تازہ ترین