انتظار اُس مسیحا کا جو مُردے میں جان ڈال دے

سوزِ دروں

تاریخ    11 جولائی 2020 (45 : 02 AM)   


منظور انجم
نیشنل کانفرنس کے روح رواں ، سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نظربندی ختم ہونے کا ان کے دوست اور دشمن سب بے صبری کے ساتھ انتظار کررہے تھے ۔بڑا تجسس تھا کہ وہ باہر آئیں گے تو کیا بولیں گے ۔ کس لہجے میں بات کریں گے اور کس رفتار کے ساتھ بولیں گے ۔لیکن ان کے باہر آنے کے ساتھ ہی یہ راز بھی کھلا کہ اب ڈاکٹر فارو ق عبداللہ وہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نہیں جس کی شوخی ٔ گفتار کا چرچا کشمیر میں ہی نہیں بلکہ برصغیر میں جاری و ساری رہا کرتا تھا ۔جس کی ہر ادا میں ایک نئی ادا ہوتی تھی ۔اُ س ڈاکٹر فاروق کو بھی 5اگست نے دفعہ 370کے ساتھ ہی نگل لیا ۔پابندیوں سے چھوٹ جانے کے بعدانہوں نے کوئی بڑی بات نہیں کی ۔کوئی الٹی سیدھی بات بھی نہیں کی۔ہر سوال کو ٹال دیا اور ہر بات کو گول کردیا ۔ان کے منہ سے کوئی تیکھا جملہ نہیں نکلا ۔لگتا ہے کہ اب وہ خود نہیں بول رہے ہیں بلکہ ان کی زبان سے ان کا جانثار ساقی صاحب بول رہا ہے ۔انہی کی طرح سلام ، دعا ، تعظیم ، تقریم کے سوا کسی سے کچھ نہیں کہا جاتا اور اب اپنے وقت کے اس مست مولا نے درگاہوں اور زیارت گاہوں پر جاکر دعائیں مانگنے کا وطیرہ اختیار کیا ہے۔گزشتہ دنوں وہ حضرت بابا ریشی کی درگاہ پر پہنچے اور وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ وہ بھی ذکر و اذکار میں مصروف ہوجائیں اور کووڈ 19سے نجات کی دعائیں مانگا کریں ۔اس طرح وہ کشمیر کے پہلے سیاست داں ہیں جو دفعہ 370کے خاتمے کے بعد اللہ کے قریب ہوگئے ہیں ۔غالب امکان یہ ہے کہ دوسرے سیاست داں بھی اب اللہ کے قریب ہوجائیں گے ۔محبوبہ مفتی ابھی نظر بند ہی ہیں ۔ ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ اللہ کے کتنا قریب ہوگئی ہیں ۔ ان کی دختر نیک اختر کا ٹویٹر بھی اب خاموش ہوگیا ہے جس سے یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ وہ بھی اللہ کے ہی قریب ہورہی ہیں ۔گیلانی صاحب پہلے ہی اللہ کے اس قدر قریب ہو گئے کہ کنٹرول لائن پار کی حریت سے بھی دور ہوگئے ۔جو لوگ اپنی عظمتوں کے میناروں سے گرجاتے ہیں، وہ اللہ کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور اللہ کے قریب جاکر وہ ان لوگوں سے بہت دور ہوجاتے ہیں جنہیں وہ اللہ ہی کے نام پر بیچ منجدھار میں چھوڑ چکے ہوتے ہیں ۔اس طرح ان کے غم و غصے اور اشتعال کی زد میں آنے سے وہ نجات پاجاتے ہیں۔
نیشنل کانفرنس محض ایک تاریخی جماعت ہی نہیں بلکہ تاریخ ساز جماعت بھی ہے ۔ اس جماعت نے تاریخ کے بہت ہی نازک اور حساس ادوار میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے ۔اس جماعت کے کردار پر بحث کی جاسکتی ہے ۔ اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے علاوہ اور کوئی سیاسی قوت نہیں تھی جو کوئی سیاسی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ۔کشمیر کے عوام نے اس جماعت پر اعتماد کیا اور اسے بھرپور حمایت اور محبت دی ۔اس کی ایک بڑی وجہ اس کے قدآور لیڈر مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی شخصیت کا طلسم بھی تھا ۔ وہ عوام کے محبوب رہنما تھے اوراس وقت تک رہے جب تک نہ انہیں قبر میں اتارا گیا ۔انہوں نے بڑے بڑے معرکے بھی لڑے ، شکستیں بھی کھائیں اور سمجھوتے بھی کئے لیکن انہوں نے ہمیشہ عوام کے جذبات اور احساسات کو کسی نہ کسی طرح سے نیشنل کانفرنس کے ساتھ وابستہ رکھا ۔ انہوں نے یہ احساس زندہ رکھا کہ یہ جماعت ہندوستان کے ساتھ الحاق کی حمایت کرنے کے باوجود کشمیریوں کی اپنی جماعت ہے جو بنیادی حقوق کیلئے لڑ سکتی ہے ۔ان کے فرزند ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو یہ جماعت وراثت میں ملی لیکن ان سے یہی ایک بھول ہوئی کہ انہوں نے مقامی جذبات اوراحساسات کو اس جماعت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رکھا ۔اس کے نتیجے میں نیشنل کانفرنس کے مقابل مقامی جذبات اور احساسات کی علامت کے طور پر مسلم متحدہ محاذ کا جنم ہواجس کی قیادت نے بعد میں ان احساسات اور جذبات کو علیحدگی کے ہدف تک جاپہنچایا ۔ کانگریس کے ساتھ 1986ء کا انتخابی اتحاد ڈاکٹر عبداللہ کی وہ غلطی ثابت ہوئی جس نے عسکریت کو جنم دیا۔اس کے بعد مرکز کے پاس عسکریت اور علیحدگی کے خلاف نیشنل کانفرنس کے علاوہ کوئی سیاسی ڈھال نہیں تھی اور اس نے اس کا خوب استعمال کیا ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کو استعمال تو ہونے دیا لیکن اس کے بدلے میں نہ ریاستی عوام کے لئے اورنہ ہی نیشنل کانفرنس کے لئے کوئی تحفظ حاصل کیا۔یہاں تک کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت شیخ خاندان کی تیسری نسل کو منتقل ہوئی ۔اس مرحلے پر حالات بہت بدل چکے تھے ۔نئی دہلی کو یہ محسوس ہورہا تھا کہ نیشنل کانفرنس کو ایک واحد سیاسی قوت کے طور پر باقی رکھنا مناسب نہیں ہے ۔ایک نئے گیم پلان کو آزمانے کا دائو کھیلا گیا ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے نیشنل کانفرنس کے مقابل اپنا ایک مقام حاصل کیا حالانکہ زمین کی تہوں میں اس کا کوئی بیج نہیں تھا لیکن اس کے عروج کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے ۔اس کے ہاتھوں میں سبز جھنڈے تھے ۔ اس کا انتخابی نشان جماعت اسلامی کا انتخابی نشان تھا اور آخر کار اس نے نیشنل کانفرنس سے اقتدار چھین لینے میں کامیابی حاصل کرلی ۔یہ کھیل جاری تھا کہ ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا عروج ہوا اور آخرکار ریاست جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار کا قیام عمل میں آیا ۔بھارتیہ جنتاپارٹی کے انتخابی منشور میں دفعہ تین سو ستر کا خاتمہ پہلے نمبر پر تھا اور یہ وہ جماعت ہے جو اپنے ایجنڈ ے کو کسی مصلحت کے ماتحت رکھنے کی قائل نہیں ۔ اس نے اپنا ایجنڈا مکمل کرلیا اور نیشنل کانفرنس کے ساتھ پی ڈی پی بھی دیکھتی رہ گئی ۔حقیقت میں جو کچھ بھی ہوا ،اس میں ان دونوں جماعتوں کا دانستہ یا نادانستہ کردار رہا ہے اور علیحدگی پسند قیادت بھی بری الزمہ قرار نہیں دی جاسکتی ۔دفعہ 370ہی ختم نہیں ہوا بلکہ ریاست بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ۔ مرکز کے زیر انتظام دو علاقے بن گئے ۔ اب ڈومیسائل کی آفت بھی نازل کردی گئی ہے ۔اس عظیم تر تباہی کے موقعے پرنہ کسی تاریخ ساز جماعت کا کوئی وجود زمین پر دکھائی دے رہا ہے نہ کسی علیحدگی پسند جماعت کا ۔ جن لیڈران کی نظر بندی ختم ہوگئی ہے، انہیں پوری طرح سے سانپ سونگھ گیا ہے ۔وہ اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں دے رہے ہیں کہ اب ان کے ذہنوں میں کیا ہے ۔ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں ۔اطوار یہ بتارہے ہیں کہ انہوں نے موجودہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے اور وہ اس انتظار میں ہیں کہ اسی حالت کے ساتھ اقتدار کے حصول کی کوئی صورت نکل آئے ۔ عوام اس صورتحال کو بہت اچھی طرح سے سمجھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ عسکریت جیسے خوفناک آپشن کو آخری سہارے اور آخری امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں ۔مرکزی سرکار نے انہیں سازشوں اور نفرتوں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔اپنے لیڈروں نے انہیں دھوکے اور دغا کے سوا کچھ نہیں دیا ۔پاکستان نے ان کا استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔حالات نے چورو ں ، بدمعاشوں ، منشیات کے تاجروں ، پیشہ ورانہ کالجوں کی سیٹیں بیچنے والوں کا بڑا گروہ پیدا کیا جس نے دو دو ہاتھوں سے دولت اکھٹا کرکے کشمیر کی زمین کے بھائو آسمانوں پر پہنچا کر غریبوں کے لئے زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کا خواب دیکھنابھی ناممکن بنادیا ۔ایک طرف یہ قیامت ہے تو دوسری طرف مذہبی ، سیاسی اور تہذیبی شناخت کے خاتمے کا خوف ہے ۔ ایسے میں قتل و غارت گری اور خون خرابہ بھی قبولیت کی نفسیات پیدا ہونا فطری امر ہے ۔
قوموں کی تقدیریں اس کے رہنمائوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں ۔ رہنما ہی طوفانوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں اور ساحل تک پہنچنے کی راہیں بھی نکالتے ہیں لیکن جہاں سے اس قوم کی تباہی اور بربادی کی داستاں شروع ہوتی ہے، وہاں سے رہنمائی اوررہبری کے نام پر رہزنی اور فریب کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ہمارے سیاسی رہنمائوں نے اقتدار کی سیاست سے باہر نکلنے کی زحمت کبھی گوارا نہیں کی ۔ انہیں اپنے لئے بڑی بڑی جائیدادیں بنانے سے ہی فرصت نہیں ملی اوراپنے قرابت داروں کی تقدیریں بدلنے کے علاوہ ان کا کوئی ہدف نہیں تھا۔انہوں نے نظریات کو ایک دوسرے میں غلط ملط کرکے قوم کے ذہنوں میں انتشار پیدا کیا ۔ قومی دھارے کی سیاست نے ہر ضرورت کے وقت علیحدگی پسندی کا لبادہ اوڑھ لیا اور علیحدگی پسند سیاست نے کوئی فیصلہ کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس نہیں ر کھا ۔مذہبی رہنمائوں نے بھی ہوا کے رخ کے ساتھ ہی اپنی تاویلوں کو بدلنے کا طریقہ اختیار کیا ۔ کتنی ساری فاش غلطیاں ہوتی رہیں لیکن انہوں نے کبھی غلط کو غلط نہیں کہااورجب انہوں نے غلط کو غلط نہیں کہا تو ان کا صحیح بھی صحیح نہیں رہا۔ وہ بھی اسی رو میں بہہ گیا جس میں انہوں نے اپنے آپ کو بہایا۔ہمارے دانشوروں نے بھی دانش کی ساری رفعتوں سے اتر کر محبتوں اور عقیدتوں کے بتو ں پر لفظوں کے پھول چڑھاکر واہ واہ حاصل کی ۔اس طرح سے وہ سب لوگ جو قوم کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتے تھے، اس کے وسیع تر بگاڑ کے عمل میں شامل ہوئے۔نتیجہ وہی ہونا تھا جو ہوا ۔ افسوس یہ ہے کہ اس حسرتناک انجام کو دیکھنے کے باوجود بھی نہ سوچ بدل رہی ہے اور نہ ہی طریقہ بدل رہا ہے ۔تباہی کو اس سے بھی زیادہ بڑی تباہی میں بدلنے کا ہی عمل جاری ہے ۔
ہمیں اس مخصوص سوچ کو بدلنا ہے جو ہمیں تباہی کے اس مقام پر لے آیا ہے ۔ہمیں اپنے سیاسی نظرئیے بھی تبدیل کرنے پڑیں گے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ عقاید کیا واقعی درست ہیں جنہوں نے بدنامی اور بربادی کے سوا اس ملت کو کچھ نہیں دیا ۔ہمیں ہندوستان جیسے ملک کے ساتھ سیاسی لڑائی لڑنی ہے ۔ ہمیں ہندوستان کے عوام کی حمایت حاصل کرنی ہے تاکہ حکومت پر دبائو ڈالا جاسکے۔ ہمیں پاکستان کو قائل کرنا پڑے گا کہ وہ ہمارے معاملات میں کس کس بات کا خیال رکھے ۔لیکن یہ سب کون کرے گا ۔ایسا جگر کس کے پاس ہے ۔ ایسی ہمت او ر صلاحیت کس کے پاس ہے ۔فاروق عبداللہ سب کچھ نہیں تو بہت کچھ کرسکتے تھے لیکن وہ کرنا نہیں چاہتے ۔محبوبہ مفتی نے ثابت کیا ہے کہ وہ شور شرابہ تو کرسکتی ہیں لیکن اتنی سیاسی صلاحیت ان میں نہیں کہ اپنے اتحادی کے ارادوں کو پہچان سکتی۔میر واعظ بہت سارے بندھنوں میں بندھے ہوئے ہیں ،اس لئے ان سے بھی کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی ۔گیلانی صاحب اب عمر کے اس پڑائو پر ہیں جہاںان پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا ۔الطاف بخاری سے بھی اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے ۔ تاریگامی کے پاس سیاسی صلاحیتیں تو ہیں لیکن ان کی زمین تنگ ہے ۔ سب مل کراس قوم کو بچانے اور بدلنے کے لئے اٹھ کھڑے نہیں ہوسکتے ۔ اس لئے خود اس قوم کو ہی اس نازک ترین مرحلے پر اپنے آپ کو بچانے اور اپنی تقدیر بدلنے کاعزم کرنا ہوگا ۔ اپنی صفوں سے ایسے لوگ پیدا کرنے ہوں گے جو جدوجہد کو ایک نئی جہت عطا کریں ۔

 

تازہ ترین