تازہ ترین

سرحدوں پر امن اور سلامتی کے قائل

اختلافات بات چیت سے طے کرنے میں یقین رکھتے ہیں: بھارت

تاریخ    10 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی// وزارت خارجہ کے ترجمان انوارگ کشیپ نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سالمیت اور علاقائی کلیت پر کوبنائے رکھنے کیلئے بھارت پرعزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت سرحدوں پر امن بنائے رکھنے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنے کو ضروری سمجھتا ہے ۔ایک آن لائن بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ حقیقی کنٹرول لائن کااحترام کیاجانا چاہیے اوریہ سرحدی علاقوں میں امن امان بنائے رکھنے کیلئے لازمی ہے ۔سری واستو نے کہا قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈول نے چین کے وزیرخارجہ وانگ یی کودوٹوک الفاظ میں حقیقی کنٹرل لائن اور گلوان وادی میں پیش آئے حالیہ واقعات پر بھارت کی پوزیشن سے آگاہ کیا۔ سرحدی بات چیت کیلئے دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں ڈول اور وانگ لی کے درمیان ٹیلی فون پر دوگھنٹے کی بات چیت کے بعددونوں ملکوں نے مشرقی لداخ میں تنازعہ کے مقامات سے فوجوں کو پیچھے ہٹایا۔  سری واستو نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر نے اس بات پرزوردیا کہ بھارت کی فوج نے ہمیشہ ذمہ دارانہ رویہ کااظہار کیالیکن اس کے ساتھ ساتھ ہماری فوج ملک کی سالمیت اور کلیت کو بنائے رکھنے کیلئے پرعزم ہے ۔اس دورا ن واقف کار حلقوں کے مطابق دونوں ملک آج پھر سرحدی تنازعے پر آن لائن میٹنگ کریں گے ۔بریفنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین کے گلوان وادی سے متعلق حالیہ دعوے بے بنیاد اور بڑھا چڑھا کر پیش کئے گئے ہیں اور حقیقی کنٹرول لائن کاسختی سے احترام کیا جاناچاہیے کیوں کہ یہ سرحدی علاقوں میں امن امان بنائے رکھنے کی بنیاد ہے.۔انہوںنے کہا کہ ہمارا یہ یقین ہے کہ سرحدی علاقوں میں امن امان بنائے رکھنے کیلئے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے دور کیا جانا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی ہم ملک کی سالمیت اور علاقائی کلیت کو بنائے رکھنے کیلئے پرعزم ہے ۔
 

بھارت نے موثر اقدامات کئے:چین

نیوز ڈیسک
بیجنگ//چین نے جمعرات کو کہا کہ مشرقی لداخ میں چینی اور بھارتی فوج نے گلوان وادی اورحقیقی کنٹرول لائن کے دیگر مقامات پرپیچھے ہٹنے کیلئے ’’موثراقدام‘‘کئے ہیں اور طرفین کے مابین فوجیوں کو پیچھے ہٹانے پر اتفاق ہوجانے کے دوروزبعدصورتحال ’’مستحکم اوربہتر‘‘ہورہی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زیائولیجن کا یہ بیان نئی دہلی میں واقف کارحلقوں کی طرف سے دیئے گئے بیان کہ چینی فوج نے تمام عارضی ڈھانچے ہٹادیئے ہیںاور مشرقی لداخ کے گرم چشموں میں ٹکرائو کے مقام پرفوج کو پیچھے ہٹایاہے،کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔زیائو نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ کمانڈر سطح کی بات چیت میں دونوں ملک متفق ہوئے تھے کہ گلوان وادی اور دیگر مقامات پر فوجوں کو پیچھے ہٹایا جائے گا۔بھارتی فوج نے گلوان وادی اور دیگر مقامات پر صف اول پر فوج کو پیچھے ہٹانے میں موثر قدم اُٹھائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرحد پرصورتحال مستحکم ہے اور بہتر ہورہی ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان مزید بات چیت کے بارے میں پوچھے جانے پر زیائو نے کہا کہ دونوں اطراف فوجی اور سفارتی سطح پر بات چیت اور رابطے میں رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ سرحد پر ٹکرائو کو کم کرنے میںبھارت ہمارے ساتھ تعاون کرے گا۔اتوار کو بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈول اور چین کے وزیرخارجہ وانگ یی کے درمیان ٹیلی فون پر دوگھنٹے طویل بات چیت کے بعد سوموارکودونوں اطراف کی فوجوں نے پیچھے ہٹناشروع کیا۔نئی دہلی میں سرکاری ذرائع نے کہا کہ چینی فوج نے پہلے ہی گلوان وادی کے پٹرولنگ پوائنٹ14سے فوج اور ٹینٹوں کوہٹایا ہے۔ 

تازہ ترین