تازہ ترین

احتیاطی تدابیراپنانے میں بے احتیاطی برتنے کاشاخسانہ

مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ سے لاک ڈائون ناگزیر:طبی ماہرین

تاریخ    10 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


پرویز احمد
سرینگر // جموں و کشمیر میں پچھلے 10 دنوں کے دوران کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں2264متاثرین کااضافہ ہوا ہے جبکہ 10دنوں میں مزید 56 افراد موت کی آغوش میں چلے گئے ۔ کشمیر میں سب سے متاثرہ ضلع سرینگر میں پچھلے 10دنوں کے دوران کورونا وائرس متاثرین میں 563 افراد کا اضافہ ہوا ۔ سرینگر ضلع میں تیزی سے وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ پر ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کیسوں میں بے تحاشہ اضافہ کی وجہ سے 3سے 4ہفتوں کا لاک ڈائون ناگزیر بن گیا ہے۔ لاک ڈائون میں نرمی کے بعد جموں و کشمیر میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ کشمیر صوبے میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع سرینگر میں پچھلے 10 دنوں کے دوران 505 افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں جسکی وجہ سے لوگوں میں تشویش کی پیداہوئی ہے۔ سرینگر ضلع میں30جون کو 41 ،یکم جولائی کو 32،2جولائی کو 51 ،3 جولائی کو 41،4جولائی کو 33، 5 جولائی کو59،6جولائی کو 65، 7 جولائی کو 61،8جولائی کو 119، 9 جولائی کو58 افرادکی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی۔  سرینگر اور وادی کے دیگر اضلاع میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کے بعد وادی میں ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سرینگر شہر میں لاک ڈائون ناگزیر ہوگیا ہے۔ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر اور وبائی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر نثارالحسن کہتے ہیں کہ لاک ڈائون میں نرمی کے ساتھ ہی متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اموات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ ڈاکٹر نثار نے کہا’’ جمعرات کو 40مریض آئے اور ان میں 30مشتبہ مریض نمونیا کا شکار ہیں‘‘۔ڈاکٹر س ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا ’’ کیسوں میں اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ وائرس کافی تیزی سے پھیل رہا ہے ‘‘۔ وبائی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر نے کہا ’’  لوگ اس بیماری کو سازش کے ساتھ جوڑ رہے ہیںجسکی وجہ سے لوگ احتیاطی تدابیر کو اپنانے میں کوتاہیاں کررہے ہیں اور انکی کوتاہیاں ہمیں دوبارہ لاک ڈائون کی طرف لے گئی ہے‘‘۔ڈاکٹر نثار نے کہا ’’ 2ہفتوں کا لاک ڈائون انتہائی ناگزیر بن گیا ہے‘‘۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے ترجمان ڈاکٹر محمد سلیم خان نے کہا’’ 3سے 4ہفتے کا لاک ڈائون ناگزیر ہوگیا ہے‘‘۔ ڈاکٹر خان نے بتایا ’’ نہ صرف کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ لوگوں کے جسم کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے‘‘۔ ڈاکٹر سلیم خان نے بتایا ’’ اموات  اور سخت علیل کیسوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے‘‘۔ڈاکٹر سلیم خان کہتے ہیں کہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے مزید لاک ڈائون کی اشد ضرورت ہے کیونکہ لوگ نہ تو ماسک ، نہ سماجی دوری اور نہ دیگر احتیاطی تدابیر کو اپنانے میں کوئی دلچسپی دکھا رہے ہیں ۔ محکمہ صحت میں کورونا وائرس کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر اویس احمد کہتے ہیں محکمہ صحت کی جانب سے ابھی تک دوبارہ لاک ڈائون کی سفارش نہیں گئی ہے لیکن اگر لوگوں نے جلد ماسک اور سماجی دوریوں کو نہیں اپنایا تو وہ خطر ناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ لاک ڈائون کا فیصلہ صوبائی اور ضلع انتظامیہ کو کرنا ہے تاہم محکمہ صحت کی جانب سے ابھی کوئی سفارش نہیں گئی۔ ڈاکٹر اویس نے بتایا ’’ جموں صوبے میں لوگ کافی حد تک ماسک اور سماجی دوری کو اپنا رہے ہیں اور اسکی  وجہ سے وہاں کافی حد تک کیسوں کی تعداد کم ہوگئی ہے‘‘۔ڈاکٹر اویس نے کہا کہ کشمیر میں صورتحال اسکے بر عکس ہے، یہاں لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کرتے جو ہر حال میں ضروری ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ اگر ہمیں زندگی میں آگے برھنا ہے تو ہم ماسک کا استعمال اور سماجی دوری کو ہر حال میں اپنانا ہوگا‘‘۔
 

تازہ ترین