لداخ میں مشرقی سرحد سے ہند چین فوجیوں کا انخلاء|3مقامات پر فوجیں پیچھے ہٹیں

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نئی دہلی //چین نے مشرقی لداخ میں ہاٹ سپرنگس اور گلوان میں 2کلو میٹر تک علاقے میں اپنی فوجوں کو واپس بلایا ہے۔ چین نے گوگرا پوائنٹ کے نزدیک بھی پیچھے ہٹنے کا آغاز کردیا ہے۔بھارت بھی انہی 3علاقوں میں اسی مسافت کیساتھ پیچھے ہٹا ہے۔ این ڈی ٹی وی اور قومی اخبار ہندو کے مطابق جہاں سے دونوں ملکوں کی فوجیں پیچھے ہٹی ہیں وہاں بفر زون قائم کئے جائیں گے ۔ ان علاقوں میں مستقبل میں پیٹرولنگ کے بارے میں اگلے 2ہفتوں کے دوران ہونے والی فوجی کمانڈروں کی میٹنگ میں فیصلہ کیا جائیگا۔میڈیا  رپورٹس کے مطابق بھارت کی فوج، جو پہلے PP14تک پیٹرولنگ کیا کرتی رہی، جس مقام پر  15جون کو جھڑپ بھی ہوئی تھی، اب یہاں تک آئندہ 30دن تک پیٹرولنگ نہیں کرسکتی۔15جون کو جس مقام پر جھڑپ ہوئی تھی اس کے ارد گرد 3.6 سے 4کلو میٹر تک بفر زون قائم کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے گلوان وادی میں PP14 میں اتوار سے پیچھے ہٹنے کی شروعات کی ہے اور یہاں قائم کئے گئے عارضی کیمپوں کو منہدم کردیا ہے۔گلوان وادی میں دونوں ملکوں کے اب 30تیس فوجی تعینات رہیں گے  جن کی ایک دوسرے سی دوری 3.6سے 4کلو میٹر تک ہوگی۔پیٹرولنگ پوائنٹس حقیقی کنٹرول لائن پر واقع ہیں اور اب چین اپنی طرف موجود ہے۔ گلوان ، ہارٹ سپرنگس، گوگرا اور پیانگ یانگ سے مشرق کی طرف سرحد پرسٹیلائٹس، ڈرون اور دیگر الیکٹرانک آلات سے نظر رکھی جائے گی۔اسکے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان ہارٹ لائن بھی موجود ہے۔بفر زون میں دونوں ملکوں کی فوج کی کوئی پیٹرولنگ نہیں ہوگی۔ذرائع نے بتایا کہ مستقبل میں دونوں ملکوں کی جانب سے بفر زونوں میں نقل و حرکت پر پولیس تعینات کی جائے گی لیکن اس ضمن میں معاملات طے کرنا باقی ہیں۔ پہلے مرحلے میں جن مقامات پر دونوں ملکوں کی فوج آمنے سامنے تھی، وہاں سے فوجیوں کو ہٹایا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ممکنہ حقیقی کنٹرول لائن سے ایک کلو میٹر اندر تک  دونوں طرف سے 50پچاس فوجی تعینات کئے جائیں گے لہٰذا 6کلو میٹر تک  دونوں طرف کے 80اسی فوجی تعینات رہیں گے۔ 

تازہ ترین