انتظامی مشینری …بہتری ہنوز دُور است!

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


سرما کی کٹھن سردی کے دوران کشمیر سے ناطہ توڑ کر جموں کی گرم ہوائوں میں اس بار8ماہ گزارنے کے بعد بالآخرسرینگر میںسیول سیکریٹریٹ کھل گیا ۔اس موقعہ پر لیفٹنٹ گورنر نے انتظامی سیکریٹریوں کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں اُن سے کہاگیا ہے کہ وہ عوامی مسائل کے ازالہ کیلئے تمام اضلاع میں جانے کا پروگرام ترتیب دیں گے تاکہ برسر موقعہ عوامی مسائل کا جائزہ لے کر ان کے حل کی کوئی سبیل نکالی جاسکے ۔میٹنگ کی روداد کے حوالے سے جو سرکاری بیان جاری کیاگیا ،اُس میں انتظامی مشینری کی فعالیت کے حوالے سے زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے ہیں۔ اقتدار و اختیار کی اعلیٰ کرسیوں پر براجمان حضرات کے منہ سے بات نکلے توسادہ لوح عوام اسے حتمی تصور کر لیں ،شاید ایسا دنیا میں کہیں ہوتا ہو لیکن جموں و کشمیر میں بالعموم اور کشمیر وادی میں بالخصوص یہ باتیں کسی کے پلے نہیں پڑتیں ۔کشمیری عوام سیاسی طور انتہائی بالغ اور الفاظ کی جادوگری سے بخوبی واقف ہیں بلکہ وہ1931سے یہی کچھ دیکھتے آرہے ہیں ،اسلئے اگر انہیں یہ کہا جائے کہ موجودہ انتظامیہ آپ کے تمام امراض کی دوا ہے اور وہ تسلیم کریں ،ایسا سوچنا نہ صرف یہ کہ خوش فہمی ہے بلکہ دن کو رات کہنے کے مترادف ہوگا۔لیفٹنٹ گورنر کس انتظامیہ کی بات کرتے ہیں؟۔ شاید اس بات سے بھی غافل ہیں کہ زمینی سطح پر لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ انتظامیہ کس چڑیا کا نام ہوتا ہے۔اس بات سے انکار نہیں کہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے بعدلیفٹنٹ گورنر نے بے شک نظام کو بدلنے کی کوشش کی۔ انتظامیہ میں شفافیت لانے اور جوابدہی کا عنصر پیدا کرنے کیلئے شکایت سیل کا قیام عمل میں لانے کے علاوہ عوامی مشکلات کے فوری ازالہ کیلئے لیفٹنٹ گورنر کے پرائیوٹ آفس کو عوام کیلئے وقف کیا گیالیکن ان دونوں اداروں کا کیا حشر ہوا ،سب کے سامنے ہے۔آن لائن شکایت سیل میں مجبور شہری شکایت کرے توپہلے مہینوں تک جواب نہیں ملتا اور پھر اگر جواب ملتا بھی ہے تو وہ انتہائی نامعقول ہوتا ہے ۔جہاں تک پرائیوٹ آفس کا تعلق ہے تو وہاں شکایات کااندراج ہوتا تو ہے لیکن ازالہ کیلئے خدا سے عمر ِخضر کی دعا ضرور کرلینی پڑتی ہے ۔ملازمین کی من مانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہمارے نظام میں سنتری سے لیکر منتری تک ہر کوئی اپنے آپ کو حرف آخر تصور کرتا ہے ۔کہیں کوئی باز پرس نہیں ہے ،رشوت کا بازار گرم ہے ،اگر کوئی پکڑا بھی جاتا ہے تو کیس اتنا کمزور ہوتا ہے کہ چند ہی پیشیوں میں چھوٹ جاتا ہے ۔پیسہ خرچ کئے بغیر کوئی کام ہی نہیں ہوتا ہے اور اگر کوئی کام ہوتا بھی ہے تو وہ کام کے نام پر کلنک ہی ہوتا ہے ۔سڑکیں خستہ ہیں،طبی ادارے مفلوج ہیں،تعلیمی ادارے بے جان ہیں،بجلی کا حال بے حال ہے ،پانی کی قحط رسانی ہے اور حکومت بالکل انجانی ہے ۔ایسے میں کوئی بلند بانگ دعوے کرےتو اُسے کیا کہئے۔ جموں اور سرینگر سے شائع ہونے والے اخبارات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطہ ناشاد مسائلستان بن چکا ہے ۔لیفٹنٹ گورنر دفتری کام میں مشغول رہتے ہیں اوربیشتر بیروکریٹ دفاتر سے نکلنا گوارا نہیں کرتے اور اگر کبھی ایسا اتفاق ہوتا بھی ہے تو وہ ہواخوری تک ہی محدود ہوتا ہے جس کے دوران ان کی تعظیم کیلئے ضلع کے کلیکٹر سے لیکر گائوں کا نمبردار تک ان کو سلام بجا لاتا ہے۔ نہ اظہار رائے کی آزادی ہے اور نہ ہی آزادی اجتماع میسر، ایسے ہلاکت خیز ماحول میں جمہوری قدریں پروان چڑھیں تو کیسے؟۔ لیفٹنٹ گورنر کی نیت پر شک کرنے کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ۔وہ واقعی بدلائو لانا چاہتے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے اپنی طرف سے جو حتی الامکان کوشش کی ،اُس سے بھی کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن پھر حالات کے رخ کو بدلنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے، جو یقینا ان میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وقت آچکا ہے کہ وہ قول کو عمل میں تبدیل کریں اور اگر وہ واقعی ایک مثالی انتظامیہ چاہتے ہیں تو اس کیلئے وہ پہلے اپنے مشیروں اورپھر افسر شاہی کی لگام کس لیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو نتائج برآمد ہونا شروع ہوجائیں گے ورنہ موجودہ مایوس کن حالات میں تبدیلی کی اُمید رکھنا عبث ہے۔
 

تازہ ترین