لداخ میں ٹکرائو ٹل گیا

دونوں ملکوں کا اگلی صفوں پر تعینات فوجیوں کو واپس بلانے پر اتفاق

تاریخ    7 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی

اجیت دوول اور چینی وزیر خارجہ کے درمیان کئی گھنٹوں تک بات چیت 

 
نئی دہلی// لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر ہندوستانی اور چینی افواج کے مابین گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصہ سے جاری تعطل اور محدود جھڑپوں کے بعد اتوار کو پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان ٹیلیفون پر خصوصی نمائندوں کی سطح کی بات چیت ہوئی، جس میں ایل اے سی پر آمنے سامنے کھڑے فوجی دستوں کو پیچھے ہٹانا اور سرحدی علاقوں میں امن کی بحالی کو یقینی بنانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر اجیت دوول اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اتوار کے روز ہند چین سرحد کے مغربی سیکٹر میں حالیہ واقعات کے بارے میں کھلے طورپر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا کہ انہیں سرحد پر امن برقرار رکھنے کے لئے دونوں ممالک کے لیڈروں وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جنپنگ کے درمیان قائم اتفاق رائے کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے سرحد پر قیام امن ضروری ہے ۔ یہ بات بھی واضح کی گئی کہ انہیں اختلاف رائے کو تنازعہ نہیں بننے دینا ہے ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ "دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ سرحد پر مکمل امن کے لیے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) سے متصل علاقوں سے فوج کو پیچھے ہٹانا اور سرحد پر کشیدگی کو کم کرنا ضروری ہے ۔ دونوں فریقوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ سرحد پر تناؤ کو کم کرنے کے لئے مرحلہ وار طریقے سے قدم اٹھائے جائیں"۔بیان کے مطابق انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں فریقین کو لائن آف ایکچول کنٹرول کا سختی سے احترام کرنا چاہئے اور جوں کی توں حالت کو تبدیل کرنے کے لئے یکطرفہ اقدامات نہیں کیے جانے چاہئیں۔ مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہئے جس سے سرحد پر بد امنی پیدا ہو۔دونوں خصوصی نمائندوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں طرف کے سفارتی اور فوجی حکام کو مقررہ چینلوں کے ذریعے بات چیت جاری رکھنی چاہئے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں خصوصی نمائندے دو طرفہ معاہدوں اور پروٹوکول کے مطابق سرحد پرمکمل امن بحالی کے لئے بات چیت جاری رکھیں گے ۔دریں اثناء، ذرائع کے مطابق 29 جون کو دونوں افواج کے کورکمانڈروں کے درمیان ہونے والی بات چیت اور شرطوں کے مطابق دونوں ممالک کے فوجی دستوں نے پیر سے وادی گلوان سے پیچھے ہٹنے کا عمل شروع کردیا ہے ۔ادھر خارجہ سیکریٹری ہرش وردھن نے کہا ہے کہ بھارت فوجی اورسفارتی ذرائع کے ذریعے چین کے ساتھ رابطہ بنائے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ  کہ اگر اُس ملک کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوتا،توہندچین سرحدپر صورتحال اس سے بدتر ہوتی۔انسٹی چیوٹ آف چارٹرڈاکائونٹنٹس آف انڈیا کے ایک ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممالک کے درمیان سیاست اورسفارتکاری کس طرح کام کرتی ہے عالمگیر وباء کی صورت حال میںاُس کا منظر نامہ بالکل بدلا ہوا نظر آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملکوں کو رابطہ بنائے رکھنا ہے ۔آپ رابطوں کوروک نہیں سکتے بصورت دیگر زیادہ اختلاف ،تنائواورمشکلات ہوں گی اور شایدتنازعہ بھی۔ انہوں نے کہا مثال کے طور پرچین کے ساتھ  ہمارے سرحد پر تنائو۔میرامطلب ہے کہ اگر اُس ملک کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوگا توصورتحال اِس سے بھی بدتر ہوتی لیکن کل ہی ہمارے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈول نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بات کی ۔اس سے قبل ہمارے وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے بھی چین کے وزیرخارجہ سے بات کی ۔انہوں نے مزیدکہا کہ بھارت دیگرسفارتی اور فوجی چنلوں کے ذریعے چین سے رابطہ بنائے ہوئے ہے۔ خارجہ سیکریٹری نے کہاکہ انہوں نے بھی اپنی سطح پرکئی بار اپنے ہم منصبوں سے ڈجٹلی رابطہ قائم کیا ہے۔  
 

گلوان وادی میں جو کچھ ہوا ، واضح ہے

چین بدستور سرحدی علاقوں کا دفاع کرتا رہیگا:وانگ یی

نیوز ڈیسک
 
بیجنگ // چین نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ سرحدی کشیدگی کو ختم کیا جائے۔چینی وزارت خارجہ کی جانب سے چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کی اتوار کی شب اڈھائی گھنٹے تک بات چیت کے حوالے سے تفصیلات جاری کیں ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان 4پہلوئوں پر اتفاق پایا گیا۔اول یہ کہ دونوں نے اتفاق کیا کہ دونوں طرف کی اعلیٰ لیڈر شپ کے درمیان جو اہم معاملات پر اتفاق پایا گیا ان سے رہنمائی حاصل کی جائے،جو سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کے علاوہ باہمی رشتوں کے لئے مضبوطی فراہم کریگا،سرحدی تنازعات کو صحیح تناظر میں پیش کیا جائیگا تاکہ تنائو اور کشیدگی کو ٹالا جاسکے۔دونوں نے حالیہ ایام کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر پیش رفت کا خیر مقدم کیا، دونوں طرف نے بات چیت اور مشاورت پر اتفاق کیا۔ کمانڈر سطح کی بات چیت کے دوران دونوں طرف کی افواج  جتنا جلد ممکن ہو، آمنے سامنے کی ٹکرائو کی صورتحال سے پیچھے ہٹیں گی۔وزارت خارجہ ترجمان جیائو لی جیان نے گلوان وادی سے چینی افواج کے انخلاء کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا’’ طرفین نے صف اول پر تعینات فوجیوں کو واپس بلانے پر اتفاق کیا ہے،ہمیں امید ہے کہ دونوں سمجھوتوں پر عمل در آمد کرنے پر یکساں طور پر عمل کریں گے‘‘۔دونوں ملکوں نے خصوصی نمائندوں کے درمیان روابط بڑھانے پر اتفاق کیا تاکہ ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا بحال ہو اور ایسے واقعات کو ٹالا جائے جو ممکنہ طور دوبارہ سرحدی استحکام پر اثر انداز ہو۔دوول کیساتھ بات چیت کے دوران چینی وزیر خارجہ نے کہا’’ گلوان وادی میں جو کچھ بھی ہوا، وہ واضح ہے، اور چین بدستور سرحدی علاقوں میں قیام امن کیلئے اپنی علاقائی سالمیت کا دفاع کر تا رہیگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت چین کیساتھ یہ مقصد حاصل کرنے کیلئے عوام کو مناسب طریقے سے رہنمائی کرنے کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان عمومی تعلقات بحال کرنے کی حفاظت اور اسے آگے لیجانے کی پہل کریگا۔

تازہ ترین