نئی تعلیمی پالیسی اور نو خیز نسل

شاہین کو خاکبازی پر آماد ہ نہ کریں

تاریخ    7 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


آصف اقبال شاہ
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی قوم کی زندگی اور ترقی و سر بلندی کا راز اس کے تعلیمی نظام پر منحصر ہوتا ہے۔ اگرقوم کا تعلیمی نظام بہتر اور معیاری ہو،تو اس کے نتیجے میں اچھی اور معیاری نسلیں تیار ہوتی ہیں، جو اس قوم کی ترقی و سربلندی، خوش حالی کی جد وجہد میں اپنا رول ادا کرتی ہیں۔اب اگر صورتِ حال اسکے بر عکس ہو تو پھر نسلوں کی نسلیں غیر معیاری نظامِ تعلیم کی بھینٹ چڑھتی ہیں جسکے نتیجے میںقوموں کامستقبل تاریک بن جاتا ہے۔ مؤثر اور بہتر نظام تعلیم کے زیرِ سایہ قوموں کی تقدیرنکھاری اور سنواری جاتی ہے ۔ نظام ِتعلیم کے خاکوں میں رنگ بھرنے کے لئے معیاری نصابی کتابیں،ذہین و فطین اسا تذہ اور معقول تعلیم و تدریس کا بند وبست کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔معیاری کتا بیں،ماہر اور قابل اساتذہ ، دلکش کلاس روم، درس و تدریس سے منسلک ضروری مواد( TLM )دستیاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خواشگوار ماحول کے ہوتے ہوئے بچوں کے نرم و نازک ذہنوں میںعلم کی شمع روشن کی جا سکتی ہے،حکمت و دانائی کے دیپ جلائے جا سکتے ہیں اور زندگی جینے کا ڈھنگ سکھایا جا سکتا ہے۔ عصرِ حاضر میں ہزاروں تعلیمی اداروں کے ہوتے ہوئے بھی لاکھوں زیرِ تعلیم طلباء تشنہ لب ہیں۔ معلم اور متعلم دونوں مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ تعلیم و تعلم کا یہ مقدس شعبہ بھی تجارت کی نذر ہوا۔علم و عرفان کا نور نو نہالوں کے ذہنوں میں منتقل کرانے کا یہ پیغمبرانہ مشن بھی ایک تجارت بن چکا ہے۔ شاندار عمارتیں، زرق وبرق وردیاں اور کتابوں کاانبار ہوتے ہوئے بھی تعلیم کاحقیقی مقصد حاصل نہیں ہو پا رہا ہے ۔ 
خیر بات ہے معصوم بچوں کے وزنی کتابی بستوں کی۔کتابی بستوں کا وزن کم کرنے سے متعلق حالیہ حکومتی حکم نامہ کی عوامی حلقوں میںخوب پذیرائی ہورہی ہے لیکن اسکے ساتھ جو اور ایک معاملہ جڑا ہوا ہے ،وہ بہت ہی توجہ طلب ہے اور کسی جامع تعلیمی پا لیسی کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے۔سرکار کی جانب سے جاری کئے گئے حکم نامہ میںتمام سکولوں کے ذمہ داراوں کو اس بات کا مکلف ٹھہرایا گیاہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دوسری جماعت تک کے زیر تعلیم بچوں کو گھر کیلئے کوئی بھی ہوم ورک نہیں دیا جانا چاہئے ۔دوسری جماعت تک سبھی بچوں کو سکولوں سے دیاجانے والا کام اب ایک جرم ثابت ہوگا ا ور پری پرائمری کلاسوں میں زیر تعلیم بچوں کے لئے بناء کتابوں کے پڑھانا ایک نیا اصول بن گیا،یعنی اِن بنیادی کلاسوں میں پڑھنے والے بچوں کے لئے زبانی پڑھائے جانے کا انتظام ہونا چا ہئے۔ سچ یہی ہے کہ بنیادی کلاسوں میں پڑھنے والے ان معصوم بچوں کے لئے بھاری بھرکم بستوں کولے کر سکول جانا سرا سران کے ساتھ نا انصافی ہے اور یہ عمل تعلیمی اصولوں کے عین منافی ہے۔ یہ بھی اپنی جگہ ایک زندہ حقیقت ہے کہ بنیادی کلاسوں میں پڑھنے والے بچوں کے لئے سکول ایک تفریح گاہ ہے جہاں وہ ماں کی راحت بخش کوکھ اورگھر کی چار دیواری سے باہرنکل کر ایک وسیع دنیا سے متعارف ہوتے ہیں اور کھیلتے کھیلتے پڑھائی کی جانب راغب ہوجاتے ہیں۔ 
بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ذہن میں ایک سوال گردش کررہاہے کہ کیا سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ایسی سہولیات اور انفراسٹریکچر دستیاب ہے جسکے ہوتے ہوئے معصوم بچے سکولوں کی جانب راغب ہوسکتے ہیں۔ کھیلتے کھیلتے دی جانے والی تعلیم کیلئے کھیل کا میدان ، سمارٹ کلاسز، معیاری TLM کے ساتھ ساتھ دلکش و دلآویز کلاس رومز کا ہونا لازمی ہے جو ہمارے اکثر تعلیمی اداروں میں میسر نہیں ہیں اور اِن حالات میں بنیادی کلاسوں میں زیرِ تعلیم بچوں کو بھلا کیسے معیاری تعلیم کتابوں کے بغیر دی جا سکتی ہے۔
 بہر کیف جس طرح چھوٹے بچوں کے لئے بھاری بھرکم بستوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ عین یہ بھی اپنی جگہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ بچے زیادہ اپنے گرِد و نواح اورہم عمر بچوں کی صحبت میں رہ کر نئی چیزیںسیکھتے ہیںلیکن اس بات سے قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ طباعتی مواد  یعنی کتابوں، اخباروں،چارٹس ،میگزینوں اور تصویر وںسے تیار کردہ کتابوں کی ورق گردانی سے بچے گھر اور سکول میںبنیادی حروف شناسی اور اُنکی پہچان کے ساتھ ساتھ لکھائی پڑھائی سے متعارف ہوتے ہیں۔Jhon Hart امریکہ کے ایک معروف دانشور اور ماہرِ تعلیم نے شاید اسی لئے یہی اصول اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا ہوا ہے۔اُنکی دو مشہور کتا بیںHow Teachers Learn(1964)اورHow Children Feel(1964)اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ کوئی بے معنی وبے مقصد عمل نہیں ہے کہ ہم بچوں کو بنیادی طورپر A for AppleاورB for Ballپڑھاتے ہیں۔ آغاز میں بچوں کو ان چیزوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ مختلف آوازیں ، حروف کی مختلف شکلیں اور ان مختلف شکلوں کو آپس میں جوڑنا سکھایا جاتا ہے ۔علاوہ ازیں انہیں تصواراتی دُنیا سے نکال کر عملی تصویروں سے آشنا کیا جاتا ہے۔From absract to concrete کے اس طریقہ تعلیم سے بچوں کے مختلف اعضائے حس متحرک رہ کراُنکے ذہنوں کے دریچوں پر یہ چیزیں نقش ہوتی ہیں ۔اس کار گر طرز تدریس سے چھوٹے بچوں کی صلا حیتیوں کو نکھارا جاتا ہے۔
کسی بھی نظامِ تعلیم کو عملی جامہ پہنانے میں اسا تذہ کا رول الم نشرح ہے ۔بقولِ محمد عنایت اللہ سبحانی ’ ایک عام استاداگر طلبہ کو سال بھر میں ایک کتاب پڑھاتا ہے،تو ایک ماہرِفن استاد ایک ہی سال میں طلبہ کے ذہن و دماغ میں اپنے فن کی پوری ایک لائبریری انڈیل دیتا ہے‘۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ کیلئے ورکشاپ منعقد کئے جاتے ۔جدید طرز تدریس سے انہیں پوری طرح ٹرینڈ کیا جاتا اور اُنکی تجاویز وآراء ملحوظِ نظر رکھ کر نئی پالیسی تر تیب دی جاتی۔
مڈل اور سیکنڈری کلاسز میں زیر تعلیم بچوں کے کتابی بستوں کے وزن کا انحصار نصابی کتابوں کی ترتیب و تقسیم پر منحصر ہے۔اس حوالے سے جموں و کشمیر سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجو کیشن کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ کتابوں کی ترتیب و تدوین میں اس چیز کا خاص خیال رکھیں کہ ایک طرف سے مکمل مطلوبہ نصاب کا مواد کتابوں میں پوری طرح موجود ہو اور دوسری طرف ان کتابوں کا وزن بھی کم کیا جاسکے۔ظاہر ہے ایسا کرنے میں کتابوں کی طباعت،تصویروں ،تو ضیحی شکلوںاور دیگر نقشوں اورڈیا گراموں کو اگرچہ کم نہیں جا سکتا ہے تاہم  ترجیحی بنیادوں پرمبا دیات اور غیر ضروری باتوں کو چھوڑ کرمعلومات سے پُر مضامین کو ترتیب دینے والی ان کتابوں میں بنا کسی کمپرومائز کے شامل کرنے میں کسی بھی قسم کا تغافل و تساہل نہ برتا جائے۔محدود مضامین پر مشتمل معلومات سے لبا لب مواد سے ہی اسکا نپٹارا کیا جا سکتا ہے  اور اس طریقے سے کتا بوں کا وزن کم ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار بر قرار رہ سکتا ہے۔
سرکار کی جانب سے جاری ہونے والی اس نو  ٹیفکیشن کی رو سے سبھی تعلیمی اداروں کو اس چیز کا پابند بنایا جا رہا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت سکولوں میں صرف چند مخصوص مضامین پڑھائے جا ئیں گے جسکے نتیجے میںتعلیمی اداروں میں اخلاقیات،اسلامیات ،معلومات عامہ،آرٹ اینڈ کلچر اور روایتی اقدار سے منسلک پڑھائے جانے والے مضامین تدریسی نظام الاوقات سے یکسر معدوم ہوںگے اور مستقبل میں ایسے میںہماری نوخیز نسل اپنی مذہبی تعلیمات کی واقفیت اور روایتی اقدار سے بے بہرہ رہ تو نہیں رہ سکتے ہیں؟۔سرکار نے تعلیم کے اس پہلو کو نظر انداز کیوں کیا ہے؟ یہ جاننا ابھی باقی ہے۔ بھلایہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی نوخیز نسل کو بلوغیت کی دہلیز پر قدم رکھنے تک گھپ اندھیرے میں رکھ کر اُنہیںمذہب،تہذیب،فن اور معلومات عامہ سے نا آشنا رکھیں اور اُنکی پڑھائی کوتفہیم ، تحفظ ،تذکر اور تدبرکے علی الرغم   فوری حافظہ تک محدود رکھیں اورانہیں وہی دوا پلائی جائے جو وقت کے حکمرانوں کو راس آتی ہو۔یوںتوہماری یہ نو خیز نسل ایک روبورٹ نسل تیار ہوگی جو اخلاق اور آداب سے با لکل عاری ہوگی۔ چند مخصوص مضامین کی واقفیت کے علاوہ انکو کسی اور چیز سے سر وکار نہیں ہوگا۔ ایسا کرنے سے کیا ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہاں قائم مشینری سکولوں کے ساتھ ساتھ اُن سکولوں ،جو  مذہبی اقلیت کے زیر نگرانی چل رہے ہیں اور مختلف تہذیبوں سے وابستہ والدین کے بچوں کو اُنکی مرضی کی تعلیم سے اُنہیں محروم رکھنا ہے۔ شاید سرکار اس پہلو کو سمجھنے میں یکسر نا کام رہی ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ اپنی اس نو ٹیفکیشن پر از سر نو غور کر کے تمام متعلقین کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھتے ہوئے ایک نئی حکمتِ عملی تر تیب دے جس سے حقیقی تعلیم کامقصد پورا کیا جا سکے۔  معیاری نظام ِ تعلیم سے ہی ہماری نوخیز نسل کی شخصیت کو نکھارنے، انکی پوشیدہ صلاحیتیوں کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔یہ نسل ملت کا بیش قیمت سرمایہ ہے ۔ اسکی ترقی ملت کی ترقی اور اسکی بربادی ملت کی بربادی ہے!
رابطہ :  9622669755
 

تازہ ترین