خاموشی کی سیاست

شورِ نشور

تاریخ    7 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


شاہ عباس
جب سے مرکزی سرکار نے جموں کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق فیصلے لئے اور اپنے اداروں کو اُن فیصلوں کو نافذ کرنے کیلئے متحرک کیا، وادی کشمیر میں ایک پُر اسرار خاموشی نافذ ہے۔’’کون کرے گا ترجمانی‘‘ کا نعرہ لگانے والے دم بخود ہیں ! وہ اپنے’’ ترجمان ‘‘کی طرف سے خاموشی توڑنے کے منتظر تھے اور جب ایسا ہوا تو وہ ایک ایسا فیصلہ تھا جو دور رس نتائج کا حامل ہے۔وہ ابھی تک اُس فیصلے کے پیچھے کارفرما وجوہات کا احاطہ نہیں کر پارہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اُن کے ’’ترجمان‘‘ کی عمر کے کچھ خاص تقاضے ہیں لیکن پھر بھی وہ ابھی تک اپنے ’’ترجمان‘‘ سے اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔مبصرین کہتے ہیں کہ جب تک علیحدگی پسند فورم کا کوئی ذمہ دار، جو ساری صورتحال جانتا ہو، آگے آکر وضاحت نہ کرے تب تک کنفیوژن بر قرار رہے گا اور ’’ترجمان‘‘ کے سیاسی مریدوں کی اُلجھنیں نہیں سلجھیں گی اور نہ اُس سیاسی فکر کی جانشینی کا مسئلہ حل ہوگا جس کی وہ ساری عمر ترویج کرتے رہے۔
سیاسی سطح پر رواں خاموشی صرف علیحدگی پسند خیمے تک ہی محدود نہیں ہے جس کے سینکڑوں لیڈران و کارکنان پابند سلاسل ہیں بلکہ مین اسٹریم کیمپ بھی چُپ سادھے ہے جس کے کم و بیش سبھی لیڈران سوائے ایک آزاد ہیں۔’’اٹانومی‘‘ کے طلبگار جانتے ہیں کہ اگست2019کے بعد اس نعرے کا رہا سہا دم خم بھی نکل گیا ہے اس لئے وہ شاید کسی متبادل اصطلاح کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ’’سیلف رول‘‘ کے سپاہی پسپائی کی مار جھیل رہے ہیں اور وہ اس حد تک بکھر گئے ہیں کہ اُنہیں اپنی صدر کی مسلسل اسیری بھی نہیں ستارہی ہے۔ ’’چھوٹا بھائی‘‘ شاید ’’بڑے بھائی‘‘ سے آنکھیں ملانے میں شرم یا ڈر محسوس کررہا ہے ۔رہی بات حال ہی میںسیاسی بساط پر ظاہر ہونے والے ایک نئے گروہ کی،ان نئے مہروں کے بارے میں بیشتر مبصرین کہتے ہیں کہ وہ موقعے کی تاک میں مرکز کے اشارے کے منتظر ہیں۔ عوامی حلقوں کی غالب رائے یہ ہے کہ مین اسٹریم سیاست دانوں کو خاموشی توڑنی چاہئے یا سیاست چھوڑنی چاہئے۔وہ زبانی حد تک جس سیاسی نظام کے وکیل رہے ہیں اُس کا بھی یہی تقاضا ہے کہ وہ عوام کا سامنا کریں اور اپنی پرانی پالیسیوں کا دفاع یا نئی پالیسیوں کی وضاحت کریں۔
یہاں کی سیاست پر اس حد تک خاموشی چھائے گی یہ کسی کے وہم و گھمان میں بھی نہیں تھا۔کیونکہ وادی کشمیر دہائیوں سے سرگرم سیاست کا اکھاڑہ رہی ہے جس میں اب گذشتہ کچھ وقت سے سٹیٹ مخالف قوتوں کا اثر و نفوض کافی حد تک بڑھ گیا تھا۔شاید یہی وجہ ہے کہ سٹیٹ نے سیاست کو اپنے حق میں کرنے کیلئے بعض اقدامات اُٹھائے اور اُنہیں نافذ کرنے کیلئے اپنی ساری مشینری کو متحرک کیا۔ایسا کرتے ہوئے سٹیٹ نے ہر اُن قوتوں کو بھی بہاکر لے لیا جو اُس کا ساتھ نبھانے کیلئے ہمیشہ تیار رہتی تھیں۔اس صورتحال نے چاروں طرف خوف کی حکمرانی نافذ کی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر ’’چیئر مین‘‘ ہر’’ترجمان اعلیٰ‘‘ ،’’ہر جنرل سیکریٹری‘‘ اور ’’ہرصدر و نائب صدر‘‘ گوشہ نشین ہے۔رہی بات عوام کی تو وہ 2019کے لاک ڈائون کے بعد کورونا لاک ڈائون کا شکار ہیں۔ اُن کی تجارت، اُن کی معیشت یہاں تک کہ اُن کے بچوں کا تعلیمی مستقبل سنگین نقصان سے دوچار ہے۔ اور تو اور اُن کے ارد گرد ہونے والی آئے دنوں کی خون ریزی نے تو اُنہیں نفسیاتی امراض میں بھی مبتلاء کر رکھا ہے۔
سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ملکی تدبیر و انتظام۔ یونان میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہوتی تھیں جنہیں Polis کہا جاتا تھا اور Polis کے معاملات کو Politike کہا جاتا تھا۔ ارسطو نے Politike کے عنوان سے سیاست پر ایک کتاب لکھی جسے انگریزی میں Politics کہا گیا اور یوں Polis کے معاملات چلانے والے Politician کہلائے۔
ماہرین کے مطابق سیاست کسی گروہ کی بنائی گئی اس پالیسی کو کہا جا سکتا ہے جس کا مقصد اپنی با لا دستی کو یقینی بنانا ہو تا ہے۔سیاست حصول اقتدار اور حصول حقوق کے لئے انجام دی جانی والی سرگرمیوں کا نام بھی ہے۔یعنی مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے مواقع تلاش کرنے کو سیاست کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو بہتر سیاست دان وہ ہوتا ہے جو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے مواقع کا فائدہ اُٹھانے کا اہل ہو۔
بعض سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ کبھی کبھی سیاسی عمل کی عدم موجودگی بھی ایک مخصوص قسم کی سیاست، جس کو باغیانہ سیاست کہا جاسکتا ہے، کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارے بھی کہیں سیاسی عمل کی عدم موجودگی کو لیکر کبھی کبھی اپنے ممبر ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور مذکورہ ممبران انتخابات،سیاسی جلسوں، پنچایتی سرگرمیوں اور اسی طرح کی اصطلاحات کا سہارا لیکر اپنا دفاع کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح کی ساری اصطلاحات اُس جمہوری نظام کی دین ہے جس نے ساری دنیا کو مسحور کر رکھا ہے اور جس کی تقلید عالمی ادارے ہر ملک پر واجب قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ نظام جمہوریت کے ایسے بھی کچھ تقاضے ہیں جن کی طرف کوئی توجہ مرکوز نہیں کی جارہی ہے ۔مثلاً سیاسی عمل کی عدم موجودگی کی وجوہات تلاش کرکے اُن کا سدباب کرنا وغیرہ۔ 
جمہوریت کی خامیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ اس میں لوگوں کی اکثریت کو سبز باغ دکھا ئے جاتے ہیںجس سے رجعت پسندقوتوں کو اقتدار یا طاقت حاصل کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے ۔ ایسے لوگ عوامی رائے کا احترام کر نے کے بجائے اپنی مرضی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ایسی قوتیں نہ صرف ہر کسی کو اپنی فکر پر لانا چاہتی ہیں بلکہ اپنے مخالفوں کو سخت سزا دینے یا کہیں کہیں اُنہیں ختم کرنے کی قائل ہوتی ہیں جس سے امن کی بجائے جنگی ماحول قائم ہوتا ہے۔
کشمیری عوام جن صبر آزما حالات کا شکار ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ایک طرف خون ریزی کا ماحول قائم ہے تو دوسری طرف اس خونریزی کیخلاف آواز بلند کرنے والوں کا فقدان ہے۔وقت وقت کے حکمرانوں نے یہاں کے عوام کے مصائب کم کرنے کے بجائے اُن میں کسی نہ کسی طرح اضافہ ہی کیا ہے۔اب جموں کشمیرمرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ ہے جس کے بارے میںمرزی سرکار نے بار بار دعویٰ کئے کہ اس خطے کو ترقی کی نئی منازل تک پہنچایا جائے گا لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ امن قائم ہوا نہ مادی ترقی کا آغاز۔ہاں، حالات کا شکارلوگ ضرور اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے سے باز رہے ۔لوگ اپنے حقوق کو لیکر بھی خاموش ہیں اور اکثر تجزیہ نگار اس خاموشی کو ہی اب اُن کی سیاست قرار دے رہے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے ایک محقق کا ماننا ہے’’عوام سرگرم رہیں تویہ سیاسی ماحول کی نشانی ہوتی ہے ،عوام کی خاموشی پر کسی کو بھی مطمئن نہیں رہنا چاہئے‘‘۔
 

تازہ ترین