تازہ ترین

حکومت کیلم کولگام کے سیلاب متاثرین کو گھر فراہم کرنے میں ناکامؔ| 6برسوں سے عارضی شیڈوں میں مقیم24کنبوں کومشکلات

تاریخ    6 جولائی 2020 (00 : 02 AM)   


عارف بلوچ
اننت ناگ// سال  2014 کے تباہ کن سیلاب میں کولگام ضلع کے ٹینکی پورہ کیلم کے چوبیس کنبے چھ برس گزر جانے کے باجود بھی ابھی ٹین کے عارضی شیڈوں می رہائش پزیر ہیں اور سرکار ان کے لئے رہائشی بندوبست کرانے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔ کولگام ضلع کے ٹینکی پورہ کیلم میں 2014کے تباہ کن سیلاب نے قریباََ2درجن مکانوں کو بہا لیا تھا جس کے سبب ان مکانوں میں رہائش پزیر کنبے کھلے آسمان تلے آگئے تھے ۔ حکومت نے متاثرہ کنبوں کو غلام مصطفی میموریل اسپتال کیلم اور اس کے بغل میں قائم سرکاری ٹین شیڈوں میں منتقل کیا تھااور اعلان کیا تھا کہ حکومت اُنہیں جلد سرکاری زمین فراہم کرے گی تاکہ یہ لوگ پھر سے اپنے مکانات تعمیر کر سکیں ،تاہم 6سال کے طویل عرصہ  گزرنے کے بعد بھی نئے گھروں کی تعمیر کااُن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔محمودہ نامی ایک خاتون نے نم آنکھوں سے کشمیر عظمٰی کو بتایا کہ وہ لوگ سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔گرمی کی تپش کے سبب ٹین شیڈوں میں دم گھٹ رہا ہے ،ایک ہی کمرے میں سبھی افراد خانہ کا اٹھنا بیٹھنا اور سونا کسی تکلیف دہ ہے ۔معقول رہائشی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اُن کے بچوں کے رشتوں میں رکاوٹ آرہی ہیں ،جس کے سبب کئی بچے شادی کی عمر کو پار کر گئے ۔محمد الطاف نامی  ایک متاثرہ نوجوان نے کہا کہ تباہ کن سیلاب میں اُن کا سارا سرمایہ بہہ گیا ،سر چھپانے کے لئے صرف ٹین شید ہی اُن کے کام آئے۔انہوں نے مزیدکہا کہ حکومت نے اُس وقت سرکاری زمین فراہم کرنے کا وعدہ تو کیا ،تاہم6سال گزرجانے کے بعد بھی اس وعدے کوحکومت عملی جامہ پہننانے میں ابھی ناکام ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ روز سرکاری دفاترکے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گئے ہیںاور کرایہ کی آڑ میں جمع پونجی سے بھی محروم ہوگئے  ۔اس کے علاوہ ٹین شیڈوں میں مسلسل رہائش پزیر رہنے سے اُن کے صحت پر بھی بُرا اثر پڑا ہے ۔نوجوان لڑکے لڑکیاں جوشادی کی دہلیز پر کھڑے ہیں ،کوتاہم اپنا گھر نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی رشتہ دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔اُنہوں نے لیفٹینٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کی بنیاد پر اُنہیں زمین فراہم کرے تاکہ آنکھوں میں سجائے  گھربنانے کے اُن کے خواب  شرمندہ تعبیر ہو سکیں۔تحصیلدار دیوسر رشید احمد نے کہا کہ سرکار نے پہلے ہی کاڈورہ علاقہ میں سرکاری زمین جوکہ شاملات ہے، کی نشاندہی کی ہے جس پر زمینداروں کے درخت ہیں اور اُنہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ،کیس زیر سماعت ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے کیس کے خلاف اپنے اعتراضات پیش کئے ہیں ،تاہم لاک ڈائون کے باعث کیس کی سماعت نہیں ہوپارہی ہے تاہم اُنہیں اُمید ہے کہ عدالت کا فیصلہ متاثرہ کنبوں کے حق میں آئے گا۔