سورہ حجرات کی چند آیات اور معاشرہ سازی...قسط تیسری

روشنی

تاریخ    3 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


فدا حسین بالہامی

فرمانبرداری کا فقدان:

 موجودہ دور کا انسان علی الخصوص ایک مسلمان ایسا لگتا ہے کہ وہ پوری دنیا کو تابع فرمان دیکھنا چاہتاہے اور کسی کے تابع رہنا اسے گوارا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی فرمانروائی چاہتا ہے اور فرمانبرداری کسی کو راس نہیں آتی۔افسری کے دلدادہ سب ہیں، ماتحتی کو ہر ایرا غیرا بھی کثرِ شان تصور کرتا ہے۔جسے کھٹیا پر بیٹھنے کی سد ھ نہیں وہ کھڈ پینچ (مکھیا ) بنا پھرتا ہے۔اسی لئے لیڈروں کی بھرمار ہے اور پیرو کاروںکے سلسلے میں قحط الرجال ۔ہر ایک دوسرے شخص کا باغی ہے۔ کوئی کسی کو ماننے اور سننے کے لئے آمادہ ہی نہیں۔ہر ایک اپنی ہی رائے کو پورے عالم پر مسلط کرنے کے فراق میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسا تابعداری اور فرمانبرداری کا مادہ ہی کسی آسیب نے آدم زاد سے اچک لیا ہو۔خودسری اور خود خواہی کا راج ہے، ایثار گری اور ہمدردی کا کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ اجتماعی مصالح کی کسے فکر ہو یہاں تو ہر فرد خود غرضی اور خود خواہی کی خول میںریشم کے کیڑے کی طرح بند ہے۔نتیجہ بھی سامنے ہے کہ جہاں کل تک اطاعت کا چلن تھا وہاں آج بغاوت نے قبضہ جمایا ہے۔ یہ بغاوت ذہنوں ،دلوں ، گھروں ،دفتروں، محلوں،بستیوں،اداروں ،حتیٰ کہ عبادت گاہوں میں سرائیت کر گئی ہے۔ جس کا راست نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی ،مذہبی ، سماجی ،فلاحی،پارٹیاںبے شمار ہیں اور ان میںہر چڑھتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے ۔بسا اوقات مسجدوں ،امام بارگاہوں، دینی درسگاہوں، یتیم خانوںکی نت نئی تعمیر کے پیچھے بھی اقتدار ،تصرف ،اور اختیار کی رسہ کشی ہی کارفرما ہوتی ہے ۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہر کوئی سربراہی اور عہدے کا خواہاں ہے ۔عام کارکن بن کر کام کرنے کے لئے کوئی تیار ہی نہیں۔ چنانچہ جب ایک پارٹی میں کسی کی یہ ذاتی خواہش پوری نہ ہوئی تو وہ اپنی پارٹی کھڑا کر دیتا ہے تاکہ وہ بلا شرکت غیرے اس کا سربراہ بن جائے اور اسی کا حکم اور سکہ چلے۔ ایک مسجد ، امام باڑہ یا یتیم خانہ کے اوقاف کی چیئرمین شپ جب اسے نہیں ملی تو اس نے اسی مسجد ،امام باڑے اور یتیم خانے کے بغل میں ہی اسی نام سے ایک اور تعمیر کھڑا کر دی۔وادی کشمیر کے تناظر میں بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ یہاں اسوقت اتنے نمازی ہی نہیں جتنی مسجدیں ہیں اور اتنے یتیم ہی نہیں ہیں کہ جتنے یتیم ہیں اور اتنے ذکرِ حسین ؑ کرنے والے موجود نہیں ہیں کہ جتنے امام باڑے ہیں اور نتیجہ انتشار و افتراق کے سوا کچھ بھی نہیں۔                                                 

 رسولِ اکرمؐ کے ادب و احترام اورفرمانبرداری کا دائرہ اثر:

 قرآن کریم نے بحیثیت ہادی و رہبر آنحضرت ؐ کے حوالے سے صاحبانِ ایمان کو جو فرمانبرداری اور ادب و احترام کا درس سکھایا ہے، اس کا ایک مقصد یہ ہے کہ ایک فردِ مسلم کی نفسیات اسی قالب میں ڈھلے کہ وہ ہر زمانے میں ہر صاحبِ تعظیم شخصیت کا ادب و احترام کرے ۔اور اپنے امیرو رہبر ( وہ چاہے جس عنوان سے بھی ہو) کے ہر جائز حکم کو بغیر چوں وچرا تسلیم کرے اور اپنے آپ کو احکام کی پابندی کا مجسم نمونہ بنائے۔
امامت و رہبری کا معاملہ امت کے بارے میں اس قدر حساس اور اہم ہے کہ حضورؐ کی ایک حدیث کے مطابق اگر تین مسلمان کہیں عازم سفر ہوں تو انہیں ایک کو بحیثیت امیر منتخب کرنا چاہیے۔اسے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ فرمان پذیری کا سلسلہ بنیادی سطح تک جاپہنچے جسے سماج کی تمام اکائیاں مضبوط اور مستحکم ہوںاور یوں افتراق وانتشار کا قلع قمع ہو۔چنانچہ پیغمبر اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ’’ جماعت رحمت ہے اور تفرقہ بازی عذاب‘‘(التمہید جلد ۲۔ ص۔۔ ۲۸۱ بحوالہ امامت و اجتہاد)۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جماعت یقینا رحمت ہے لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔ اور ان میں چند شرطیں یہ ہیں۔
 اس جماعت کے افراد بنیادی عقائد و نظریات میں ہم عقیدہ ،ہم فکر ہوں۔
 ان کے سامنے کوئی مخصوص ومشترکہ اور بلند ہدف ہو جس کو پانے کے لئے جماعت میں شامل فراد کایک رخ اور یک سوہونا نہایت ہی لازمی ہے ۔
جماعت و امت کے تکامل اور معنوی و دنیاوی پیشرفت کا ان سب کو خاص خیال ہو۔ 
انہیں ذاتی مفادات سے بڑھ کر ملی مفادات کی فکر ہو۔
ایک ایسی عبقری اور نہایت ہی پر کشش شخصیت اس قوم کے دامنِ تاریخ میں ہو جو نہ صرف اسوہ کاملہ کا درجہ رکھتی ہو بلکہ اس کے ساتھ تمام افرادِملت کے جذبات و احساسات وابستہ ہوں۔
ہر دور میں کوئی ایسا قائد ورہبر اس ملت کے پاس ہو جس کی شخصیت و کردار کی ہمہ جہتی اسوۂ کاملہ سے قریب تر ہو۔یعنی یہ اپنے دور میں اس سرمدی شخصیت کی نمائندگی کا حق ادا کر سکے۔
 ان نکات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں سورۂ حجرات کی پہلی آیت میں جس حسِ پیروی اور جذبۂ اطاعت کو ابھارا جا رہا ہے ،وہ دورِ نبوی تک ہی محدو د نہیں ہے بلکہ ہر دور پر محیط ہے۔ نہ صرف پیغمبرِ رحمت ؐکے ادب و احترام کا یہاں تقاضا ہو رہا ہے بلکہ ہر دور میں آپ ؐ کی سیرت و کردار کے قالب میں ڈھلنے والا نمائند ہ اور نمایاں فرد کی فرمانبرداری بھی اسی کا تسلسل اور ضمیمہ قرار پائے گا۔رسولِ اکرم ؐکے اس نمائندے کو اسلامی اصطلاح میں امام، خلیفہ، امیر ، ولی الامر کہا جاتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘ (بخاری، مسلم)ایک اور حدیث میں آپ ؐ نے فرمایا ’’کہ مسلمان پر (امیر کے حق میں) سمع و طاعت لازم ہے چاہے اس سے مطلوب حکم بذاتِ خود پسند ہو یا نہ ہو ۔ الا یہ کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے، ایسی صورت میں سمع و طاعت لازم نہیں ہو گی۔(مسلم …کتاب الامارہ)
الغرض اس آیت ِ کریمہ اور اس کے ذیل میں دئیے گئے احادیث اور دالائل سے یہ بات بطورِ کلی اخذ ہو تی ہے کہ بندۂ مومن میں اتباع اور فرمانبرداری کا مادہ کماحقہ ہونا چاہیے چاہے وہ کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ کبھی بھی اپنے آپ کو مطلق خود مختار نہ سمجھے ۔بلکہ حاکم و فرمانروا ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے کو آئین و اصول سے بالا تر نہ جانے۔اگر اطاعت ِ رسول ؐ کی اصل غرض و غایت اور وسیع تر معنیٰ امت مسلمہ کے ذہن نشین ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں یہ فساد و انتشار کی تلخی سے چھٹکارا پا کر پھر سے نظم و ضبط کی شیر ینی سے آشنا ہو جائے۔
رسولِ کریم ؐ کے تئیں والہانہ ادب و احترام اور ان کی بغیر چوں و چرا اطاعت کا راست اثر یہ ہوگا کہ ایک مومن مودب و محترم اور مطیع ہوگا ،اس کے ہاتھوں اصول شکنی کا شائبہ تک نہ ہو گا۔ یہ نہ صرف اپنے عظیم پیغمبر ؐ کے تابع فرمان ہوگا بلکہ اسلامی اصولوں پر کھرا اترنے والا ہر امیر و رہبر اسے تابعدار اور فرمانبردار پائے گا۔ بارگاہِ رسالت ؐسے ادب و احترام کی بیش قیمتی جوہر حاصل کرنے والے شخص کے لئے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کہ وہ کسی بھی فرد بشر کے تئیں بے ادبی کا مرتکب ہو۔کیونکہ ادب و احترام کی یہ تعلیم ہمہ جہت اور وسیع ہے اور اس کا اطلاق بھی کسی خاص دائرے تک محدود نہیں ہے۔قرآن کریم اوررسولِ اکرمؐ کے فرامین اور سیرت کے مطابق ہر مومن و مسلمان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں با پ ،استاد،صاحبان علم و دانش ،عمر رسیدہ افراد وغیرہ کا ادب و احترام کرے۔اپنے تو اپنے غیر اقوام سے تعلق رکھنے والے معزز افراد کو بھی بے عزت نہیں کر سکتا ہے ۔ کیونکہ رسولِ اکرام ؐ نے فرمایا ہے کہ ـ’’اذ اتاکم کریم قوم فاکرمو‘‘جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز فرد آجائے تو اس کے ساتھ عزت سے پیش آو۔‘‘یوں کہنا بھی مناسب ہوگا کہ بلاشبہ ر سولِ رحمتؐ تمام عالمین کے لئے باعثِ رحمت ہیں ۔اور پوری انسانیت کے لئے خصوصی طور مینارِ ہدایت ہے ۔ آپ ؐ کے حقیقی پیروکاروں کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے کہ وہ اس رحمت کو دربار رسالتؐ سے حاصل کر کے پوری دنیا میں اسے عام کردیں۔اگر رسولِ کائناتؐ ادب و احترام کا مرکز و محور ہیں تو اس مرکز و محور سے وابستہ درخشاں ستارے ادب و احترام ، تہذیب و شائستگی ، حسن اخلاق اور، بہتریں کردار و گفتار کے حامل ہوں تاکہ ان کی چمک دھمک سے موجودہ دور کی تمام تر ظلمتوں کا وجود نابود ہو جائے۔
رابطہ : 7006889184
ای میل: 
fidahussain007@gamail.com
 
 
 

تازہ ترین