سیاسی شراکت داری۔ نظام کو دوام بخشنے کا واحد ذریعہ

زاویہ نگاہ

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ہلال احمد تانترے
لفظ ’’سیاست‘‘ اردو میں ’’ساس ‘‘ سے مشتق ہے۔ انگریزی میں اِسے   کہتے ہیں جو کہ یونانی لفظ  سے اخذ کیا گیا ہے۔ دونوں کا مطلب شہر، ریاست، خطہ اراضی، ملک وغیرہ ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانا ہے۔ اول روز سے ہی یہ لفظ اہل علم کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔لیکن اِس علم میں باقی علوم کی طرح کوئی ایک مخصوص نظریہ نہیں پایا جاتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں مختلف طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس علم کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس کا سب سے زیادہ زُور اِس بات پر رہا ہے کہ کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں کس طرح کے طریقہ ہائے کار اختیار کیے جائیں ۔ اُن طریقہ کاروں میں بھی جس ایک چیز پر سب سے زیادہ دھیان دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جس خطہ اراضی کی آبادی کو کسی نظام کے تلے منضبط کرنا ہو ، اُس میں آبادی کے جملہ ارکان کا آپس میں کون سا تعلق ہونا چاہیے، تاکہ وہ خطہ اراضی سماج کے مختلف شعبہ جات میں ترقی کرتی چلی جائے۔ سماج کے انسانی و غیر انسانی ارکان کے مابین اگر موافق تعلقات(cordial relations) نہ ہوں تو یہ بد امنی و انارکی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔
اس انارکی و بد امنی کا پیشگی قلع قمع کرنے کے لیے سیاسی شراکت داری کا عمل خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سلسلے میں تاریخ جو سبق ہمیں فراہم کرتی ہے وہ یہ ہے کہ نظام کوئی بھی ہو، اُس میں اگر لوگوں کی شرکت نہ ہو وہ نظام بالآخر شورش کی نذرہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔ اسی لیے نظاموں کی جنگ کو لے کر اول روز سے ہی تاریخ نے مختلف ہائے نظامات دیکھے ہیں۔ اُن مختلف نظاموں کے پیچھے مختلف قسم کی طاقتیں تھیں۔ یہ طاقتیں اسلحہ ، فلسفے،شخصیات، نظریے، تعلیم، تربیت، فوج وغیرہ کی وساطت سے کام کر رہی تھیں۔ ایسے کئی سارے نظریے میدان میں اُتر آئے، کئی ساری طاقتوںنے اپنا زور آزمایا، کئی ساری شخصیات نے اپنی زندگیاں کھپا دیں، کتابوں کی لائبرریاں قلم کاروں و اہل دانش نے لکھ ڈالیں، زور آزمائیاں بھی کی گئیں، لیکن اکیسویں صدی میں آج پہنچ کر بھی اگر ہم وہ سبق حاصل نہ کرسکے جو تاریخ سے ہمیں ثابت ہو رہا ہے تو ہم سے بڑا کوئی ا حمق و ناہنجار نہیں ہو سکتا۔
نظام کوئی بھی ہو، اُسے اگر عام لوگوں پر اُن کی مرضی کے بر خلاف تھونپا جائے تو وہ نظام زیادہ دیر تک ٹِک نہیں سکتا۔ جس طرح ایک بیچ کے دانے کے اندر درخت بننے کی صلاحیت ودیعت کر دی ہوتی ہے ، اُسی طرح ایسے نظام کے اندر بہت جلد ختم ہونے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ کسی نظام کے خدوخال اصل میں بنائے ہی جاتے ہیں عام لوگوں کے لیے۔ وہ نظام اگر عام لوگوں کی خواہشات کے مطابق ان کے سامنے پیش نہ کیا جائے تو یہ لازمی سی بات ہے کہ ایسے نظام کے خلاف ہر کسی کے دل و دماغ میں نفرتوں کا انبار موجود ہوگا۔ اُن نفرتوں کو اگرتھوڑی دیر کے لیے بزور ِ شمشیر دبابھی دیا جائے، لیکن انسانی جذبات اتنی غیر اہم نہیں ہوتی ہیں کہ انہیں دبانے سے وہ دب جائیں۔ بلکہ کسی نہ کسی موڈ پر وہ جذبات انسان کے قول و فعل پر حاوی ہو ہی جاتے ہیں۔ 
یہ اسی لیے ہے کہ ماہرین سیاسیات نے ہمیشہ سے ہی سیاسی شرکت (Political Participation) پر زور دیا ہے۔ سیاسی شرکت سے مراد عام لوگوں کو ملک کے نظام و قوانین بنانے میں اپنی رائے دینا ہے۔ انہیں یہ احساس بہم پہنچانا ہے کہ وہ ملک کو چلانے میں شراکت دار(stakeholders) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے جتنی زیادہ سیاسی شراکت داری ہوگی اُتنے ہی زیادہ ملک کے پھلنے پھولنے کے امکانات ہیں۔ 
سیاسی شراکت داری کو عملانے کی خاطر ماہرین ایک اور چیز پر بھی زور دیتے ہیں اور وہ ہے سیاسی بالیدگی (Political Sociolization)۔ عوام جتنی زیاد ہ سیاسی اعتبار سے فکری طور پر بالغ ہوگی،اتنا ہی زیادہ ان کی رائے موثر ہوگی۔ ملک کے نظام کو چلانے کی خاطر جس نظام کا انتخاب ہوگا ،اس میں بالغ النظر لوگوں کی شرکت فائدے سے خالی نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اگر عوام کی سیاسی شراکت داری کو ممنوع ٹھہرایا جائے، یا اُن کے اندر سیاسی فکر کو بالیدگی بخشنے والی سرگرمیوں پر قدغنیں لگا دی جائیں، تو ایسے نظام کو قطعی طور پر عوامی یا جمہوری نظام سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا نظام کچھ مصنوعی چیزوں کے بل پر کچھ دیر کے لیے کھڑا تو رہ سکتا ہے لیکن اُس کے اندر دوام نہیں ہوگا۔اپنی ہی عوام کے ہاتھوں ایسے نظام کا جنازہ بالاخر بہت جلد نکلنے ہی والا ہوتا ہے۔ 
عوام کے اندرجتنی زیادہ سیاسی بالیدگی اور اُس کے بعد ان کو سیاسی شراکت داری میں حصہ لینے کی سہولیت ہوگی، اتنا ہی زیادہ وہ نظام پائیدار ہوگا۔ اس ضمن میں اس چیز کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ رائے اور انتخاب کے عمل میں کسی کا کامیاب ہونا یا ناکامیاب ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اور سیاسی عمل آوری میں یہ چیزیں کوئی معنی بھی نہیں رکھتیں، اصل معاملہ سیاسی بالیدگی کی عمل کو فروغ دینا اور سیاسی شراکت داری کی راہوں کو آسان بنانا ہے۔ اسی میں عوام اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتی ہے۔ کچھ لوگ ان چیزوں کا اظہار قول سے کرتے ہیں اور کچھ فعل سے۔ 
لوگوں کے مجموعی قول و فعل کو جب مد نظر رکھا جائے ، اسے اہمیت دی جائے تو ہی کوئی نظام استوار ہو سکتا ہے۔ ا س سلسلے میں عوام کو اس بات کا احساس دلانا بھی معنی خیز ہے کہ ان کی آرا کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس چیز کے عین برعکس اگر عوامی امنگوں و احساسات کو دبایا جائے ، طاقت کے بل پر ، تعلیم کی وساطت سے، ذرائع ابلاغ کو استعمال میں لاکر، یا کسی اور طریقہ کار کو اختیار کرکے، تو انہی ہتھگنڈوں کے اندر اُس نظام کی تباہی و بربادی کا راز مضمر ہے۔
(مضمون نگار جامعہ کشمیر کے شعبہ سماجی ورک کے محقق ہیں)
 

تازہ ترین