بانڈی پورہ کے کئی دیہات پینے کے پانی سے محروم

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
سرینگر// شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے سوناواری بلاک سے وابستہ کئی دیہات موجودہ دور میں بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ان علاقوں کی خواتین کو صاف پانی لانے کے لئے کئی کلو میٹر کی دشوار گزار مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔نوگام، اندر کوٹ، شگن پورہ وغیرہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمے نے گھروں میں نل تو نصب کئے ہیں لیکن گذشتہ ایک ماہ سے یہ نل مکمل طور پر خشک ہیں جس کی وجہ سے موجودہ وبائی صورتحال میں بھی علاقے کے ہزاروں لوگ پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام پینے کے پانی کی فراہمی کے حوالے سے زبانی وعدے کررہے ہیں لیکن زمینی سطح پر کوئی کار گر کارروائی انجام نہیں دی جارہی ہے۔دریں اثنا جل شکتی کشمیر کے چیف انجینئر عبد الواحد نے اس ضمن میں کہا’’میرے پاس ان علاقوں میں پانی کی قلت ہونے کے بارے میں کوئی شکایت نہیں آئی ہے تاہم اگر لوگوں کی یہ شکایت صحیح ثابت ہوئی تو میں جل جیون مشن کے تحت علاقے میں نئی اسکیم پر کام شروع کراؤں گا تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے‘‘۔نوگام سے تعلق رکھنے والے شہباز نامی ایک شہری نے بتایا ’’ ہماری بستی میں قریب تمام گھروں میں نل نصب ہیں لیکن گذشتہ ایک ماہ سے پانی ہی نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ہماری بستی زائد از 25 ہزار نفوس پر مشتمل ہے قریب قریب ہر گھر میں نل نصب ہیں لیکن ان نلوں میں گذشتہ ایک ماہ سے پانی ہی نہیں ہے، پہلے چوبیس گھنٹوں میں ایک گھنٹہ پانی ہوتا تھا اور اب ایک منٹ کے لئے بھی نہیں آتا ہے‘‘۔انہوں نے مزیدکہا کہ موجودہ وبائی حالات میں بھی خواتین کو کئی کلو میٹر کی مسافت طے کر کے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے ۔موصوف نے کہا کہ نہروں وغیرہ میں بہہ رہے پانی کے استعمال سے بیماریاں پھوٹ جانے کا خطرہ ہے اور ایسے بھی کئی لوگ ہیں جو بحالت مجبوری اسی پانی کا استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانچ سو لیٹر پانی کا ٹینکر لانے کے لئے سات سو روپے ادا کرنا پڑتے ہیں جو موجودہ صورتحال میں ایک بھاری بوجھ بن رہا ہے۔لوگوں نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ محکمہ کے حکام کی نوٹس میں کئی بار یہ معاملہ لایا لیکن کوئی سدباب نہیں ہوا۔

تازہ ترین