مژھل کی 20ہزار آبادی کو برقی رو کا انتظار

ترسیلی لائنیں اور کھمبے نصب، زیڈ گلی میں ٹاور ندارد، برف پڑی تو بجلی گل ہوگی

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // دشوار گزار پہاڑی ڈھلوانوں سے بجلی کی ترسیلی لائنوں اور کھمبوں کو نصب کرنے کے دوران حکام نے کوئی بھی ٹھوس منصوبہ نہیں بنایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُن پسماندہ علاقوں تک بجلی نہیں پہنچ سکی ہے جہاں کی آبادی برقی رو کیلئے ترس رہی ہے ۔ سال2020کے آخر تک ہر گھر کو بجلی پہنچانے کے سرکاری دعوئوں کے بیچ 20ہزار نفوس پر مشتمل مژھل کی آبادی آج کے اس جدید دور میں بھی چوب چراغ جلا کر اپنے گھروں کو روشن کر رہی ہے ۔مژھل کیلئے ڈیڑھ سال قبل شروع کی گئی دین دیال اپادھیائے سکیم بھی مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں اور گھنے جنگلوں میں گذشتہ سال بھی نومبر میں برف باری کے نتیجے میں بجلی کے کھمبوں اور لائنوں کو نقصان پہنچا تھا  ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی اُمید نہیں ہے کہ اس سال بھی علاقہ بجلی سے فیضیاب ہو گا ۔یاد رہے کہ سال2018میں حکام نے مژھل کو بجلی فراہم کرنے کیلئے دین دیال سکیم کے تحت رقوم کو منظوری دی اور کلاروس سے مژھل تک محکمہ کو 1200 بجلی کے کھمبے نصب کرنے تھے ۔پچھلے سال اگرچہ محکمہ نے سکیم کا کام 90فیصد مکمل کر لیا تھا تاہم نومبر 2019میں ہونے والی بھاری برف باری کے نتیجے میں کھمبے اور تاریں زمین بوس ہو گئیںاور اس سال پھر سے محکمہ کو ٹوٹے پھوٹے کھمبے اور تاریں نصب کرنی پڑی ہیں ۔ایک سینئر آفیسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ برف باری سے کھمبوں اور تاروں کو کوئی نقصان نہ ہوتا اگر زڈ گلی اور اس کے گردنواح کے علاقوں ،جہاں 20فٹ برف پڑتی ہے، پر ٹاور نصب ہوتے ۔ مذکورہ آفیسر نے بتایا کہ سکیم منظور کرنے کے دوران منصوبے میں ٹاور نصب کرنے کا کوئی بھی ذکر نہیں تھا اگر ٹاور نصب ہوتے تو یہ سکیم مکمل کی گئی ہوتی اور مژھل کو بجلی سپلائی بھی فراہم کی گئی ہوتی ۔ پوشواڑی ، دودھی ، چونٹی واری پائین ، چونٹی واری بالا ، ڈوبن ، رنگ پائین ، رنگ بالا ، ڈپل ، کٹواڑہ اور مژھل مکمل طور پر بجلی سے محروم ہیں۔یہاں کے لوگوں کو کئی سال قبل سولر لائٹس فراہم کی گئیں تھی وہ بھی اب ناکارہ ہو چکی ہیں ۔ ایس ٹی ڈی ونگ کے ایگزیکٹیو انجینئر ڈویژن سوپور فاروق احمد نے اعتراف کیا کہ پچھلے سال برف باری کے نتیجے میں سکیم کو نقصان پہنچا  ۔انہوں نے کہا کہ اس سکیموں کا کام 2 حصوں میں کیا جا رہا ہے پہلے حصہ میں ترسیلی لائنوں اور کھمبوں کی تعمیر مکمل کرنی تھی اور دوسرے حصہ میں ریسونگ سٹیشن کا کام مکمل کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا محکمہ نے کھمبوں اور تاروں کو نصب کرنے کا کام 90فیصد مکمل کر لیا ہے ۔ جبکہ دوسرے حصہ کے تحت رسیونگ سٹیشن کی عمارت تیار کر لی ہے۔انجینئر کا کہنا تھا کہ رواں سال نومبر میں مژھل کو بجلی فراہم کی جائے گی ۔
 

تازہ ترین