سید علی شاہ گیلانی کا اہم اعلان ،حریت کانفرنس سے مستعفی

کہا فورم میں قیادت سے کھلی بغاوت کی گئی،موجودہ صورتحال کے تناظر میں فیصلہ لینا پڑا

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//بزرگ مزاحمتی لیڈر سید علی گیلانی نے پیر کو اچانک اور غیر متوقع طور پر حریت(گ) سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت کی موجودہ صورتحال کے نتیجے میں وہ اس فورم سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ حریت(گ) کے تا حیات چیئر مین تھے۔گیلانی کی طرف سے پیر کو47سکینڈ کا آڈیو بیان جاری کیا گیا،جس میں کہا گیا ’’کل جماعتی حریت کانفرنس کی موجودہ صورتحال مد نظر رکھتے ہوئے میں اس فورم سے مکمل علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کرتا ہوں،اس ضمن میں حریت(گ) کی تمام اکائیوں کو ایک تفصیلی خط کے ذریعے مطلع کیا گیاہے، اللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے‘‘۔حریت اکائیوں کو بھیجے گئے مکتوب میں سید علی گیلانی کہتے ہیں ’’پچھلے کافی عرصہ سے بالعموم اور گذشتہ دو برسوں سے بالخصوص حریت پاکستان زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے بہت ساری شکایات موصول ہورہی تھیں،فورم میں شفافیت اور احتساب کے اس عمل سے بچنے کیلئے آپ (اراکین) کے نمائندوں نے کنونیئر سے عدم تعاون کا سلسلہ شروع کر کے ایک پروپیگنڈا مہم کا باضابطہ آغاز کیا جس میں میرے بیانات اور قوم کے نام پیغامات کو شکوک وشبہات کی بھول بھلیوں میں گم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی‘‘۔انہوں نے لکھا ہے’’حتیٰ کہ میرے آخری سفر کے حوالے سے میری وصیت پر تحقیقاتی کمیشن بٹھا کر اْن کے عزائم کھل کر سامنے آگئے، یہی نہیں بلکہ انہوں نے تمام تر اخلاقی، آئینی اور تنظیمی ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر خود ساختہ شوریٰ منعقد کر کے اس غیر آئینی فیصلے کی تصدیق کی‘‘'۔گیلانی لکھتے ہیں ’’ اس فورم ( حریت کانفرنس پاکستان زیر انتظام کشمیر) کی کارکردگی اور بے ضابطگیوں کو اکثر ’’تحریک کے وسیع تر مفاد‘‘کے لبادے میں نظر انداز کیا گیا لیکن آج تمام حدود وقیود کو پامال کر کے نظم شکنی ہی نہیں بلکہ قیادت سے کھلی بغاوت کا ارتکاب کیا گیا ہے‘‘۔گیلانی نے آخر میں تحریر کیا’’نہ ہی قلب و ذہن کی قوت موقوف ہوئی ہے اور نہ ہی میرے جذبہ حریت میں کوئی ضعف آیا ہے،اس دارالافانی سے رحلت تک میں بھارت مخالف رہوں گا اور پوری قوم کی رہنمائی کا حق حسب استطاعت ادا کرتا رہوںگا‘‘۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ عبداللہ گیلانی،پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور بیرون ممالک میں انکی نمائندگی بدستور ادا کرتا رہیں گے۔سید علی گیلانی کا حریت کانفرنس سے علیحدگی کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کشمیر میں بیشتر علیحدگی پسند لیڈر تھانہ یا خانہ نظربند ہیں۔ 
 

۔91برس کی زندگی پر ایک نظر

بلال فرقانی
 
سرینگر//حریت(گ) سے مستعفی ہونے والے91برس کے سید علی گیلانی نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے۔ 29 ستمبر1929میں شمالی کشمیر کے ڈورو سوپور گائوں میں پیدا ہونے والے گیلانی نے آرینٹل کالج لاہور سے عالم کی ڈگری حاصل کی تھی۔انہوں نے ابتدا میں ہی جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی،اور ایک داعی کی حیثیت سے شعلہ بیان وعظ و تبلیغ  کے مقرر کے طور پر خود کو متعارف کرایا۔ گیلانی نے1950 کی دہائی کے ابتدائی برسوںمیں سیاست میں قدم رکھا اور1962میں پہلی مرتبہ گرفتار ہونے کے بعد وقفہ وقفہ سے زائد از10 برس جیل میں بھی گزارے۔سید علی گیلانی نے انتخابی سیاست میں بھی شرکت کی اور جماعت اسلامی کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑے اور 3بار 1972اور1977کے علاوہ1987میں ممبر اسمبلی بھی بنے تاہم1989میں انہوں نے بطور احتجاج رکن اسمبلی کی حیثیت سے استعفیٰ دیا،جس کے بعد انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔1990میں گرفتار ی کے بعد1993میں حریت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی گئی اور میر واعظ عمر فاروق،محمد یاسین ملک،مولوی عباس انصاری،مرحوم خواجہ عبدالغنی لون اور ایس حمید کے ہمراہ اس پلیٹ فارم سے مزاحمتی سیاست کی۔ سال 2003 میں بعض علیحدگی پسند جماعتوں نے متحدہ حریت کانفرنس سے کنارہ کشی اختیار کر کے حریت کانفرنس (گ) کی بنیاد ڈالی جس کی سربراہی سید علی گیلانی کو سونپی گئی۔  بعد میں گیلانی نے 7 اگست 2004 کو جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے ساتھ ایک تحریری مفاہمت کے بعد تحریک حریت جموں و کشمیر کو منصہ شہود پر لایا اور وہ اس کے بھی چیئرمین مقرر ہوئے ۔ تاہم گیلانی نے 19 مارچ 2018 کو اپنی جگہ اپنے دست راست محمد اشرف صحرائی کو تحریک حریت جموں وکشمیر کا عبوری چیئرمین مقرر کیا اور وہ اس عہدے پر بدستور فائز ہیں۔2016میں متحدہ مزاحمتی قیادت بھی تشکیل دی گئی ،جو حریت (گ) ،حریت (ع) اور لبریشن فرنٹ پر مشتمل مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم تھا ۔گیلانی کی صحت گزشتہ کچھ عرصہ سے ٹھیک نہیں چل رہی ہے جبکہ وہ سال2010سے اپنے ہی گھر کے اندر نظر بندی کے ایام گذار رہے ہیں۔ سال2010میں نئی دہلی میں ایک سمینار میں خطاب پر سید علی گیلانی کے خلاف معروف قلمکار ارونا دھتی رائے اور مائو نواز واراویرا سمیت بغاوت کا مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ سید علی گیلانی نے ایک درجن سے زائد از کتابیں بھی تصنیف کی ہیں،جن میں ا ن کی سوانح حیات ولر کنارے کے علاوہ جیل میں بتائے ایام پر مبنی روداد قفس کے علاوہ دید و شنید،صدائے درد اور مقتل سے واپسی قابل ذکر ہے۔

تازہ ترین