منزل کہاں ہے تیری

افسانہ

تاریخ    28 جون 2020 (00 : 03 AM)   


مشتاق مہدی
’’اپنی بکھری ہوئی کتابیں سمیٹو ساتھیو۔۔۔۔۔اور بڑھتے جاو ۔ آگے ہی آگے۔ہمیں بہت دور جاناہے۔چلو۔۔۔۔۔‘‘ــــ
ماہان اُن سب کے بیچ اپنی ست رنگی جھنڈی لہراتا ہوا چیخ رہا تھااور قبیلے کے جوان  بوڑھے،مرد عورتیںبچے۔۔۔۔سبھی ہمہ تن گوش تھے۔اُنکے چہروں پر بڑا جوش وخروش تھا۔لیکن کوئی کوئی تو اداس بھی تھا۔اندر ہی اندر بجھا ہوا سا۔۔۔۔۔جیسے یہ لمحہ ہی عذاب ہو۔۔۔۔یہ ساری کہانی ہی فضول اور بے معنی ہو۔جیسے جو کچھ نظر آتا ہے۔وہ ہے ہی نہیں۔۔۔بس آنکھوں کا دھوکہ ہے  ۔ایک فریب ۔۔۔ ’’ہٹاو۔۔۔ہٹاویہ دُھند آنکھوں پر سے۔۔۔‘‘ماہان نے اونچی آواز میںاچانک چلا کر کہا۔کوئی جان نہ سکاکہ وہ کس سے مخاطب ہوا تھا۔اپنے آپ سے یا ہوا کی سرگوشیوں سے۔۔۔۔
یکبارگی ایسا ہوا۔سیاہ گھنے بادلوں میں سے تیز چمکتا ہواسورج باہر نکل آیا۔ دوسرے ہی لمحے  دور دور تک زمین روشن ہوگئی۔سبز لہلہاتے کھیت بہت بھلے لگنے لگے۔آنکھوں کو ایک فرحت بخشنے لگے۔
ماہان نے دور دور تک نظریں دوڑائیں۔رنگ برنگی جھنڈیاں لہراتے ہوئے بستی کے لوگوں کو بڑے پیار سے دیکھا۔اُس کی آنکھوں میںننھے آنسو جھلملانے لگے۔لمحہ بھر بعد ہی اُسکے ہونٹ  حرکت میں آگئے۔
’’تم۔۔۔تم سب میری زمین ہو۔میری زمین کی فصلیں ہو۔تمہاری خوشی ہی میری خوشی ہے ۔تمہارے خواب میرے خواب ہیں۔۔۔۔۔تم لوگ نہیں جانتے ہو کہ تم سب میرے لئے کیا ہو۔۔۔۔۔اور سنو۔راستوں کے پتھر توڑنے ہیں تو ہمیں ہی۔۔۔لیکن ایک دوسرے کا سہارا بن کے۔۔۔اور جہاں ہم ٹھہرے ہیں۔وہ ہماری منزل نہیں۔ہمیں آگے جانا ہے بہت آگے۔۔۔‘‘
’’ مگر کہاں ۔؟ ‘‘
ایک بوڑھے نے اپنی جھنذی لہرائی۔ماہان نے اپنا ست رنگی جھنڈاآسمان کے مغربی حصے کی طرف اوپر لہراکر کہا۔
’’ اُس پار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ وہاں کیا ہے ۔؟‘‘
’’وہ سب کچھ جو ہم چاہتے ہیں۔خوشی مسَرت اطمینان اور روشنی۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’روشنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ بوڑھے نے ایک قہقہہ لگادیا۔ ’’ ہم بہت فریب کھاچکے ہیں ۔اب کے اورفریب۔۔۔نہیں نہیں۔کہانی یہیںپر ختم کرو ماہان۔۔۔۔۔ ہمیں واپس جانے دو۔اور نہ بھٹکائو۔‘‘
ماہان نے ایک خشم آلودنظر اُس پر ڈال دی۔بوڑھے نے کچھ کہنا چاہا  لیکن ہمت نہ ہوئی۔
  اچانک ہی بوڑھے کے ساتھی نے چلاکر کہا۔
’’ ہماری تو عمریں گذر گئیں۔بس یہی لفظ سنتے ہوئے ۔۔۔چلتے رہو۔۔ چلتے رہو۔۔۔انتظار کرو۔۔۔اور صبرکرو۔لیکن ہم جانتے ہیں۔خالی لفظوں سے کسی کا پیٹ بھرتا نہیں ہے اور نہ کوئی عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔ہمیں اور نہ بہکائو ماہان۔۔۔۔۔! ‘‘
’’ سنو۔۔۔۔۔دیکھو تم۔۔۔‘‘ ماہان نے کچھ کہنا چاہا۔لیکن اُسکے عقب میںاچانک ہی ایک شور وغُل اٹھا۔جس نے اُس کی آواز کو دبادیا۔
اُس نے مڑکے دیکھا۔لوگوں کے بیچ ایک کھلبلی سی مچ گئی تھی۔وہ سب بے چین اور منتشر نظر آرہے تھے۔ایک آوازکہیں نزدیک سے بلند ہوئی۔
’’ ہے چھوڑو یہ  راگ پرانا۔آو ساتھیو لوٹ چلیں۔۔۔‘‘
دوسرے ہی لمحے وہ سب واپسی کے لئے مڑ گئے۔ماہان حیرت اور اُداسی کے ساتھ انہیں خاموش دیکھتا رہا۔ابھی وہ سو میٹر سے زیادہ دور نہ ہوئے تھے کہ آسمان کوکالے گھنے باولوں کی دبیز چادر نے اچانک گھیر سا لیا۔سورج کسی کھائی میں چھپ سا گیا،اور اندھیرا چھا گیا،جو بڑھتے بڑھتے دور تک پھیل گیا۔لوگ سراسیمہ نظروں سے ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ایک عمر رسیدہ بزرگ، جو کچھ بیزار اور متنفر نظر آرہا تھا ،ایک ٹیلے پر بیٹھ کر قدرے اونچی آواز میں بولا۔
’’ بیوقوفو۔۔۔بہت بُرا ہوا۔۔۔وہ کوئی عام آدمی نہیں ۔ہم سب کی بھلائی چاہنے والا ہمارا راہبر برہے۔۔۔۔۔اِس اندھیرے کو دیکھتے ہو ۔‘‘
’’ ہم نے کیا کیا۔؟ ‘‘ کئی آوازیں گونجیں۔
’’ اچھا نہیں کیا اس کے ساتھ۔۔۔۔‘‘بزرگ نے قدرے تلخی کے ساتھ کہا ۔ ’’ کھُلے میدان میں اُسے تنہا چھوڑ دیا۔کیا ہم نے یہ ٹھیک کیا۔۔۔۔۔خدا معاف کرے ہمیں۔۔۔۔چلو سب معافی مانگ لیتے ہیں ۔‘‘
اُن کے ذہن منتشر تھے۔اندر ہی اندر حیران و پریشان بھی تھے۔کوئی بھی آوازانہیں ہانک لیتی تھی۔اس بار عمر رسیدہ بزرگ کی آواز نے انہیں باندھ لیا۔کچھ  دیر بعد وہ سب ماہان کی طرف لوٹنے لگے۔ماہان سر جھکائے بیٹھا کسی سوچ میں ڈوبا سا تھا۔قدموں کی آہٹ اور آوازیں قریب سنائی دیںتو سر اُٹھا کے دیکھا۔زن ومرد بوڑھے بچے سب اُس کے آس پاس قدرے شرمندہ سے کھڑے تھے۔ ماہان کی آنکھوں میں فطری شفقت اُبھر آئی۔لہجہ اونچا کر کے بولا۔
’’یقین بہت بڑی چیز ہے جو ہر کامیابی کے لئے پہلا زینہ ہے۔ایک بات بتائو مجھے۔۔۔۔۔پار جانے سے تم کیوں کترا رہے ہو۔؟ ‘‘
’’ وہاں اگلے پڑائو پر۔۔۔۔۔‘‘
بولتے بولتے وہ شخص رک گیا۔
ماہان نے حوصلہ بڑھایا۔۔۔۔۔۔۔
’’ ہاں ہاں ۔۔۔۔۔۔کہو اگلے پڑائو پر کیا ہے۔۔۔۔؟‘‘
’’ اگلے پڑائو پرسیاہ کانے دیووُں کی ایک بھاری جماعت ہے۔اور بھی کئی چُھپی مخلوقات ہیں،جو بہت طاقت ور ہیں۔بے رحم ہیں۔ہمیں خدشہ ہے، خوف ہے کہ ہم اُن سے جیت نہیں پائیں گے۔اِس لئے۔۔۔۔۔‘‘
’’ آگے بڑھنے سے رک جائیں۔‘‘ ماہان نے تیز اور  تلخ لہجے میں کہا ۔ ’’بزدلوں کی طرح واپسی کا سفر اختیار کریں۔شکست ماتھے پر لکھیں۔حیف ہے تم پر۔۔۔۔۔‘‘
’’ ماہان۔۔۔۔! ‘‘ ایک غصہ بھری آواز اُبھری۔
’’ کیا ہے کہو۔۔۔‘‘
ٹھیک سامنے اُسکے سرخ رنگی  داڑھی والا درمیانی عمر کا شخص بول پڑا۔
’’ سمجھنے کی کوشش کرو  ماہان۔۔۔۔۔خودکشی عقلمندی نہیں ہے۔‘‘
’’ اور بزدلی بھی عقل مندی نہیں ہے ۔سمجھے تم۔۔۔۔۔‘‘ماہان نے گھور کر اُسے دیکھا۔جواب میںاُس نے کچھ نہ کہا۔اپنی نظریں ادھر اُدھر گھمائیں۔
کچھ وقفے کی خاموشی کے بعد ماہان کے لبوں نے جنبش کی۔
’’ یقین رکھو پروردگار عالم ہمارے ساتھ ہے ۔اور آگے بڑھنا۔۔۔آگے بڑھتے رہنااُسی کا حکم ہے۔اب جس کا جی چاہے میرا ساتھ دے۔میں تو جاوُںگا ہی۔۔۔‘‘
کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
بستی کے لوگ پھر کسی شش پنج میں پڑگئے۔۔۔لیکن ماہان کوئی آواز، کوئی عذر سنے بغیر ہی تیر کی مانند نکل گیا۔
چند لمحے بعدآسمان پرچھائی ہوئی ابر کی کالی چادریں ہٹتی سی نظر آگئیں۔آسمان صاف ہوگیااور سورج پھر چمکتا ہوا دکھائی دیا۔ بستی کے لوگوں کے ہونٹوں پر ایک مسرت آمیز مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔قدم خود بہ خود اُس کے پیچھے اُٹھ گئے ۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ملہ باغ ۔سرینگرکشمیر
 

تازہ ترین