بے روزگاروں پر یوں قہر نہ ڈھائیں!

تاریخ    26 جون 2020 (00 : 03 AM)   


 گزشتہ دنوں جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامی کونسل نے ایک اہم اور تاریخی فیصلہ میں سرکاری ملازمتوں میں پروبیشن کی مدت کم کرکے5سے 2سال کرنے کو منظوری دی ۔اس فیصلہ کا سماج کے سبھی طبقوں نے خیر مقدم کیا کیونکہ یہ حقیقی معنوں میں بہت بڑی ناانصافی تھی اور خاص کر جب خصوصی پوزیشن کی تنسیخ کے بعد جموںوکشمیر کے درجہ کی تنزلی کرکے اس کو یونین ٹریٹری بنایا گیا تو باقی ملک اور جموںوکشمیر کے درمیان ایسا کوئی امتیاز رکھنے کا جواز نہیں بنتا تھا۔دراصل سابق ریاستی حکومت کا یہ فیصلہ ہی غلط تھا اور اُس وقت بھی عوامی سطح پر اس کی شدید مخالفت کی گئی تھی لیکن چونکہ یہاں کا با وا آدم ہی نرالا ہے تو یہاں ارباب اختیار اپنے آپ کو عقلِ قُل سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک جس عقل و دانش کی انتہا پر اُن کا عبور ہے ،کوئی عام شہری وہاں تک پہنچنے کی ہمت نہیں کرسکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں اکثر و بیشتر غیر مقبول فیصلے لئے جاتے رہے ہیں اور پھر بے تُکے جواز پیش کرکے اُن فیصلوںکو صحیح ثابت کرنے میںکوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جاتی ہے ۔
جموںوکشمیر کی آئینی حیثیت کی تبدیلی کے بعد بھی ایسے فیصلے لئے جاتے رہے تاہم کسی حد تک یہ امر اطمینان کا باعث ہے کہ اب اقتدار کے گلیاروں میںبیٹھے لوگوں کو جب لگتا ہے کہ فیصلہ غلط ہوا ہے تو اس کی درستی کرتے ہیں یا کرواتے ہیں۔یقینی طور پر پروبیشن مدت کے فیصلہ پر نظر ثانی بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔اگر لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کو لگا کہ یہ نوجوانوںکے ساتھ ناانصافی تھی اور اُنہوں نے غلطی سدھار لی ہے تو واقعی اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے لیکن اس غلطی کو درست کرنے کے بعد اب ایک اور غلطی کی جارہی ہے ۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خصوصی بھرتی مہم کے تحت تقرریوںکے کئی بھرتی اشتہار مشتہر ہوئے جبکہ گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران بھی سرکاری محکموں میں بھرتی کے نوٹیفکیشن جاری ہوتے رہے ہیں۔لاکھوںکی تعداد میں نوجوانوںنے اُن اسامیوںکیلئے درخواستیں دے رکھی ہیں جبکہ حالیہ بھرتی نوٹیفکیشنوںکے تحت بھی درخواستیں جمع کرنے کا عمل جاری تھا۔اب جبکہ بھرتی قوانین میں ایک اور تبدیلی عمل میں لائی گئی اور پروبیشن کی مدت 2سال تک محدود کردی گئی تو محض ایک ایس آر او کے ذریعے اس کا نفاذ جاریہ اور سابقہ بھرتی عملوںپر کیاجاسکتا تھا لیکن جس طرح انتظامیہ نے ایسی تمام اسامیوںکو سر نو مشتہر کرنے کا فیصلہ لیا ہے جن پر ابھی بھرتی کا عمل شروع نہیں ہوا ہے تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہی نہیںہے بلکہ اس فیصلہ سے ایک بحران پیدا ہوسکتا ہے ۔
اس بات میں کون سی منطق ہے کہ جن اسامیوں پر تحریری امتحان منعقد ہوا یا انٹرویو لئے گئے ہیں یا جن کی بھرتی فہرستیں مرتب کی جاچکی ہیں،تو اُن کو سرنو مشتہر نہیں کیاجائے گا لیکن اُن اسامیوںکو سرنو مشتہر کیاجائے گا جہاں صرف ابھی تک درخواستیں جمع ہوچکی تھیں۔اگر نئے ترمیم شدہ قانون کا اطلاق تین مختلف زمروں کے بھرتی مراحل پر ہوسکتا ہے تو ایک پر کیوں نہیں ہوسکتا ؟۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب انتظامیہ کو دینا پڑے گا۔آخر انتظامیہ کو بھی سمجھنا پڑے گا کہ اگر لاکھوںکی تعداد میں بے روزگار نوجوانوںنے مختلف اسامیوںکیلئے درخواستیں دے رکھی ہیں اور مختلف وجوہات کی بناء پر بھرتی عمل شروع نہ ہوسکا ہے تو اس کی سزا ان نوجوانوں کو ایسی اسامیوںکیلئے دوبارہ درخواستیں دینے سے نہیں دی جاسکتی ہے۔ظاہر ہے کہ بھرتی عمل میں تاخیر کیلئے تو یہ نوجوان ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ یہ بھرتی ایجنسیوںکی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مہینوں اور برسوںبعد بھی بھرتی عمل شروع نہ ہوسکا ہے ۔
سرکار ایک قانونی ترمیم ،ایک نوٹیفکیشن یا ایک ایس آر او کے ذریعے نئے ترمیمی قانون کا اطلاق ایسے سبھی بھرتی عملوںپر کرسکتی ہے اور اس کیلئے نئے سرے سے ایسی اسامیاں مشتہر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے ۔حکومت کو سمجھ لینا چاہئے کہ ایسے بھرتی نوٹیفکیشن منسوخ کرکے وہ اُن ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مایوسی کے اتھاہ سمند ر میں دھکیل رہے ہیں جو ایسی اسامیاں مشتہر ہونے کے وقت درخواستیں دینے کے اہل تھے لیکن آج وہ عمر کی بالائی حد پار کرچکے ہیں۔اگر یہ نوٹیفکیشن منسوخ ہوجاتے ہیں تو اس کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہوگا کہ ایسے ہزاروں بلکہ لاکھوں نوجوان اب نئے سرے سے درخواستیں جمع کرنے کے اہل نہیں ہوسکتے ہیں۔
بیروزگاری نے پہلے ہی ان نوجوانوں کو ڈپریشن سے دوچار کرکے رکھا ہے اور ایسے کسی اقدام سے وہ کوئی انتہائی قدم بھی اٹھاسکتے ہیں جس کی ساری ذمہ داری پھر حکومت کے سر ہوگی ۔ا س سے قبل کہ اس فیصلہ کے مضر اثرات کھل کر سامنے آئیں اور یہ بیزاری اور مایوسی آتش فشاں بن کر ایک حقیقت کی شکل اختیار کرے،ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب بست و کشاد اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کریں اور پروبیشن سے متعلق ترمیمی قانون کا اطلاق ایسی تمام اسامیوں پر یقینی بنائیں جو آج تک مشتہر ہوچکی ہیں تاکہ ایسے نوجوانوں کی اُمیدیں بنی رہیں کہ شاید انکے اچھے دن آنے والے ہیں ورنہ بیروزگاری کی مار جھیل رہی ڈپریشن سے دوچاراس بڑی فوج کی مایوسی کوئی تباہ کن موڈ لے سکتی ہے جس کے شاید ہی ہم متحمل ہوسکتے ہیں۔

تازہ ترین