یہ کیا ہوا۔؟

افسانہ

تاریخ    21 جون 2020 (00 : 03 AM)   


نذیر جوہر
وہ چِت پڑا ہوا تھا اور پیہم اپنی نیم وا آنکھوں سے اسپتال میں اپنے وارڈ کی چھت کے اْوپر ٹنگے ہوئے پنکھے کو گھور رہا تھا۔ پنکھا شوں  شوں شوں کی نحوست بھری آواز کے ساتھ دھیمی رفتار سے چل رہا تھا، دھیرے دھیرے اور اٹک اٹک کر۔  وہ جیسے اْس کی زندگی میں جھانک کر دیکھ رہا ہو اور اْسے اطمینان دلانے کی کوشش کررہا ہو کہ زندگی دھیرے دھیرے ہی سہی، مگر ابھی تک چل رہی ہے۔ رات اْس نے پھر کانٹوں پر گْزار دی تھی۔ درد تھا کہ بڑھتا ہی چلا گیا تھا۔ شب بھر وہ شدید درد سہتا رہا تھا۔ وہ جیسے انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔پورا جسم بْخار سے تپ رہا تھا، گلا سْلگ رہا تھا اور چھاتی کے اندر جیسے لاوا اْبل رہا تھا۔ شب بھر اپنی چھاتی کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مسلنے اور سہلانے کی مشق میں جْٹا رہا تھا مگر درد تھا کہ لگاتار بڑھتا ہی چلا گیا تھا۔ روم ( اٹلی) کے " گرینڈ سٹی ہاسپٹل  " کے کرونا وائرس مریضوں کیلئے مخصوص رکھے گئے اسپیشل وارڈ میں چِت پڑا ہوا تھا اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر روز تھوڑا تھوڑا مر رہا تھا۔
لگ بھگ پچیس چھبیس سال کی عمر کا ایک خوب رو  بانکا نوجوان تھا۔ ہندوستانی تھا اور نام سہراب سعید تھا۔ پیشے سے ایک سول انجینیر تھا۔ اٹلی کی ایک معروف کمپنی میں برسرِ روزگار تھا اور ایک معقول معاوضے کے عوض اپنے فرائض منصبی انجام دے رہا تھا۔ اْس کے ساتھ  سوجھل باجوانی نام کا ایک اور ہندوستانی  نوجوان بھی تھا، جو اْس کا ہم وطن تو تھا ہی نیز ہندوستان میں دونوں ایک ہی شہر میں رہتے بھی تھے۔ دونوں اٹلی کی ایک ہی فرم میں کام کرتے تھے۔ ایک ہی فلیٹ جو کہ کمپنی کا تھا میں ساجھی اقامت بھی تھی ، دونوں میں گہری دوستی تھی اور دونوں کی آپس میں خوب بنتی بھی تھی۔ شاد و شادماں سب ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک سہراب سعید کی کرونا ٹیسٹ رپورٹ کے مثبت آتے ہی زندگی کا سارا تانا بانا بکھر گیا ، زمین ہل گئی اور جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ سوجھل قبل اس کے ہی گھر ہندوستان روانہ ہوا تھا اور یہاں بد قسمت سہراب سعید کو کرونا نے آن گھیرا تھا۔ اب وہ اسپتال میں چت پڑا ہوا تھا اور  موت وحیات کی کشمکش کے بیچ جھول رہا تھا۔
پوّ پھٹ چْکی تھی۔ شفق کی لالی آسمان کے مشرق کی وسعتوں میں سْرخ رو ہو رہی تھی۔ ایک اورسویرا  ایک نئی صْبح کی دہلیز پر آن کھڑا تھا اور ایک نئے دن کے ڈھلنے کی منادی کررہا تھا۔  اسپتال میں سہراب سعید کا پہلا مہینہ گزر چکا تھا۔ وہ بے سْدھ پڑا  تھا اور بڑی نْقاہت محسوس کر رہا تھا۔ کئی روز سے ڈھنگ سے کھایا پیا بھی نہیں تھا کیونکہ اسپتال کا کھانا اْسے زہر سا لگتا تھا۔ کھانا کیا، کھانے کے نام پر مذاق ہوتا تھا۔ تھوڑے سے چاول، دال اور روٹی، اور وہ بھی گلی سڑی اور بدذائقہ۔ طبی  عملہ کھانے کی پلیٹ دور سے ہی  مریضوں کی طرف  ایسے سرکاتے تھے جیسے پاگل خانے میں اکثر پاگلوں کی طرف کھانے کی پلیٹیں سرکائی جاتی ہیں۔ وہ یہ سب دیکھ کر پاگل سا ہوجاتا تھا اور چیخنے چلانے بھی لگتا تھا ۔ وہ تو بھلا ہو سفوفہ کا جو اْس کیلئے اپنے ذاتی خرچے  سے دودھ بسکٹ یا پھر کبھی جْوس وغیرہ خرید کر لا کر دیتی تھی۔ یہ سب اْسے چوری چھْپے کرنا پڑتا تھا کیونکہ اسپتال میں ایسا کرنے پر سخت پابندی عائد تھی۔ اسپتال میں فون اور موبائل کے استعمال پر بھی ممانعت تھی نیز ملاقاتیوں کے داخلے پر بھی سخت بندشیں عائد تھیں۔
سفوفہ پیشے سے ایک نرس تھی ۔ وہ اطالوی تھی اور اسی اسپیشل وارڈ میں تعینات تھی۔ عمر چوبیس پچیس سال کی رہی ہوگی۔ اْس کا چہرہ ہر پل ڈھکا رہتا تھا ، بلکہ اْس کا پورا بدن (PPE ) لباس میں  چھْپا رہتا تھا۔اس لئے صورت دیکھی نہیں جاسکتی تھی۔ وہ خاصی دلکش اور خوبصورت رہی ہوگی اس بات کا انداذہ اْس کی آنکھوں سے لگایا جا سکتا تھا۔ اْس کی آنکھیں بہت خوب صورت تھیں اور ان میں جھیل سی گہرائی تھی۔ اب جو بھی تھی اور جیسی بھی تھی سہراب کیلئے کسی فرشتے سے کم نہیں تھی۔ صرف اْس کیلئے ہی نہیں بلکہ وارڈ میں داخل سارے مریضوں کیلئے بھی۔ وہ ایک ایک کرکے سارے مریضوں کے پاس جاتی تھی اور اْن کی مدد و معاونت کے ساتھ ساتھ اْن کا حوصلہ بھی بڑھاتی تھی۔ ورنہ وارڈ کا دیگر طبعی عملہ دْور سے ہی مریضوں کی دیکھ ریکھ کرتا تھا اور بڑی سختی کے ساتھ احتیاطی فاصلے بھی بنائے رکھتا تھا۔
موت قریب کھڑی تھی۔سہراب سعید بے بسی کے عالم میں جیسے گنتی کے دن گزار رہا تھا۔ بڑی تکلیف میں تھا۔ گھر سے کوسوں دور۔ بے بس، بے کس اور  بے یار و مددگار۔ اسے بار بار اپنے گھر کی یاد آرہی تھی۔ گھر والوں کے خوبصورت معصوم اور شفقت ریز چہرے نگاہوں کے سامنے سے گھوم جاتے تھے۔ ابو امی کے پھولوں جیسے مْسکراتے چہرے۔ چھوٹی بہن مْنی کی شوخیاں، اْچھل کود اور اٹکھیلیاںاْسے سب یاد آتا تھا۔ وہ ٹوٹ جاتا تھا اور ٹوٹ کے جیسے بکھر جاتا تھا۔ اس وقت بھی وہ اپنے گھر والوں کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ اْسے اپنے گھر والوں سے ہوئی اپنی آخری ملاقات یاد آگئی تھی۔چند ماہ قبل جب وہ اپنی چھْٹیاں کاٹ کر گھر سے اٹلی کیلئے روانہ ہوا تھا تو ابو امی اور مْنی نے اْسے اپنی پْر نم آنکھوں سے رخصت کیا تھا۔ ماں اْس کیلئے کتنی فکر مند تھی اور کتنی پریشان نظر آئی تھی۔
" سہراب، اپنا خیال رکھنا بیٹا۔ ڈھنگ سے کھانا پینا۔وہاں جاکر تم کمزور پڑ جاتے ہو۔" امی کہتی ہوئی اْس کی پیٹھ تھپتھپانے لگی تھی۔
" ہاں ماں۔۔۔۔ خوب کھاؤں پیوں گا۔"
" ارے ہاں سنو تو۔۔۔۔" اچانک امی کو جیسے کوئی اہم بات یاد آگئی تھی۔وہ چونکتی ہوئی بولی تھی اور اپنا منہ اْس کے کانوں کے قریب لاکر سرگوشی کرنے لگی تھی۔
" میں نے تمہارے لئے لڑکی ڈھونڈ لی ہے۔۔۔۔۔۔۔ پوچھو کون۔۔۔۔۔۔ ؟" اْس نے سرگوشی کی تھی۔
" کون امی۔۔۔۔۔۔۔۔؟" سہراب نے مْسکراتے ہوے پوچھا تھا۔ " ارے سومترا۔۔ " وہ رازدارانہ انداز میں بولی تھی اور اپنے دیدے گول گول گھمانے لگی تھی۔
" سوجھل کی بہن۔ کتنی پیاری ہے۔۔۔ ماشااللہ۔" وہ دھیرے سے بولی تھی۔
" اوف۔۔و۔۔۔۔ امی۔" سہراب اپنے ماتھے پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے بولا تھا۔ وہ جھینپ سا گیا تھا۔
ماں کو اْس کی شادی کی کتنی فکر تھی۔ وہ جب بھی کوئی اچھی لڑکی دیکھتی تھی، اْسے بہو بنانے پر اْتاولی ہوجاتی تھی۔ ان ہی دنوں ایک بار سوجھل اور اْسکی چھوٹی بہن سومترا ان کے گھر آئے تھے تو ماں کو سومترا کے روپ میں اپنی بہو نظر آنے لگی تھی۔ پھر سومترا تھی ہی ایسی کہ کوئی بھی ماں اْسے اپنی بہو بنانے پر اْتاولی ہوجائے۔ نٹ کھٹ،  خوب صورت  اور  چنچل۔۔ "
 ارے کیا کھْسر پھْسر ہو رہی ہے ؟ جلدی کرو۔ دیر ہو رہی ہے۔" ابو اپنی بھاری اور گرجدار آواز میں بولے تھے۔
 اچانک ماں کا ممتا سے لبریز اور پْروقار  تمتماتا ہوا چہرہ سہراب کی نگاہوں کے سامنے سے گھوم گیا۔ اب وہ ایک فلم کی طرح اپنی ماں کو جیسے نزدیک اور سامنے سے دیکھ رہا تھا۔ ماں اس وقت اپنے کمرے میں تھی۔ اْس نے فجر کی نماز ادا کی تھی۔ ابھی ابھی سلام پھیرا تھا اور اب وہ اْس کیلئے دعائیں مانگ رہی تھی۔
" اے مولا۔ میرے سہراب کو بچالے۔۔۔۔۔ بچا لے، ورنہ میں مر جاؤں گی۔ وہ میری زندگی ہے۔ میری جان ہے۔ میرا ایمان ہے۔" اچانک ماں کی آواز رندھ گئی تھی۔ اْس کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے تھے جو اب دھیرے دھیرے اْس کے نورانی رْخساروں پر ڈھلکنے لگے تھے۔ وہ دعاؤں کیلئے اْٹھے اپنے  دونوں ہاتھوں کو جوڑے اونچی آواز میں جیسے اللہ سے ہم کلام تھی۔
" میرے بچے کو کچھ ہوگیا، تو میرا ایمان ڈگمگا جائے گا۔ میں کافر ہو جاؤں گی اور میرا آپ پر سے ایمان اْٹھ جائے گا۔ میں پٹخ پٹخ کر اپنی جان دوں گی۔ میرا بھی جنازہ اْٹھے گا۔۔۔۔۔ بچالے اللہ۔ میرے بچے کو بچالے۔" اچانک ماں چیخنے چلانے لگی تھی اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔
سہراب کا دل جیسے دھک سے رہ گیا۔ اْس کے پورے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ کانوں میں نقارے بجنے لگے۔ وہ تھرتھرا گیا اور ٹھنڈے ٹھنڈے پسینے میں شرابور ہوگیا۔
" نہیں ی ی ں ں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔" 
وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ پاگلوں کی طرح چیخا۔ چیخ اتنی بھیانک تھی کہ پوار اسپتال دہل اْٹھا۔اسپتال کے در و دیوار ہل گئے اور پورا وارڈ جیسے لرزنے لگا۔ اب وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا اور بلک بلک کر رو رہا تھا۔ " م۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔ ں۔۔۔۔۔۔ ماں۔۔۔۔ ۔" وہ چیخے چلائے جا رہا تھا۔
جبھی کسی نے شفقت سے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ چونک پڑا ۔
" یو۔۔۔۔۔۔۔ شو۔۔۔۔یٹ۔۔۔۔بوائے۔ پلی۔۔۔۔۔یج  ۔" اب  کوئی اْس کا سر سہلانے لگا۔
یہ سفوفہ تھی، جو اْس کا سر سہلانے لگی تھی۔ وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اْسے دلاسہ بھی دینے لگی تھی۔ سفوفہ رک رک کر بات کررہی تھی کیونکہ وہ اطالوی تھی اور اسے انگریزی نہیں آتی تھی۔
" یو۔۔ور۔۔۔۔موم ڈیڈ۔۔۔۔ ویری فاین۔۔۔۔۔۔ نو  ووری۔"
وہ رک رک کر بولی تھی اور ٹشو پیپر سے اْس کے آنسو پونچھنے لگی تھی۔
" دے۔۔۔ پرے فور۔۔۔ یو۔ آئی ٹاک۔۔۔ ٹو۔۔ دیم۔"
آپ کے موم ڈیڈ ٹھیک ہیں۔ میں نے ان سے بات کی ہے۔ سبھوں نے سلام بھیجا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ وہ سہراب کو سہارا  دینے لگی اور اس کی ہمت جوڑنے لگی۔ سہراب کیلئے کچھ سامان وغیرہ  بھی لے کر آئی تھی، جس میں پھل بسکٹ اور کچھ دیگر اشیاء بھی شامل تھیں۔ وہ حسب معمول ( PPE )  پہنی ہوئی تھی اور اْس کا پورا جسم ڈھکا ہوا تھا۔ 
" کووول ڈاون۔ نو۔۔۔ ڈونٹ ووری۔ یو۔۔ بی۔۔ رایٹ۔" وہ پھر ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں  بولی اور پاس ہی کچھ دوری بناتے ہوئے ایک اسٹول پر بیٹھ گئی۔ اب وہ سہراب کی طرف پھل اور بسکٹ بڑھارہی تھی اور کھانے کی تلقین بھی کئے جا رہی تھی۔
" کھانا پینا بہت ضروری ہے۔ بیماری سے لڑنا ہے تو۔"
 وہ اطالوی تو کبھی انگریزی میں بات کررہی تھی۔
وہ جب بھی آتی تھی، سہراب کھل سا  اٹھتا تھا۔ اْس کی ہمت بڑھ جاتی تھی اور اْس کے جینے کی تمنا پھر سے جاگ جاتی  تھی۔ وہ اکثر اْس کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی سے محظوظ بھی ہوتا تھا اور اْسے اطالوی زبان میں بات کرنے کو بھی کہتا تھا کیوں کہ خود سہراب بھی اطالوی زبان سیکھ چکا تھا اور سفوفہ سے اطالوی میں بات چیت  بھی کرتا تھا۔
" کیا سوچ رہے ہو۔۔۔۔۔ ۔؟" سہراب کو مبہوت دیکھ کر وہ بولی۔سہراب اْسے ٹْکر ٹْکر دیکھ رہا تھا۔
" جی کچھ نہیں۔" سہراب اب دھیرے دھیرے سنبھل رہا تھا۔
" ضرور میرے بارے میں سوچ رہے ہوں گے۔ ہے نا۔؟"
وہ بولی تو سہراب سعید نے اپنا سر اثبات میں ہلا دیا۔ وہ یقینا" اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
" اچھا یہ بتاؤ۔ ٹھیک ہونے کے بعد آپ سب سے پہلا کام کیا کرو گے۔؟"
سفوفہ بولی تو سہراب نے ایک لمبی آہ بھری۔ کاش ایسا ہوجائے۔ وہ ٹھیک ہوجائے، پھر بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات تھی۔ سب سے پہلے وہ اْسی  کو دیکھنا چاہے گا۔ اْس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہے گا اور اس سے ڈھیر ساری باتیں بھی کرنا چاہے گا۔وہ تنہائی میں اکثر سفوفہ کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ سفوفہ کتنی اچھی اور مہربان تھی۔ وہ دیوی تھی اور وہ اس دیوی کے درشن کرنا چاہتا تھا۔ کیا فرشتے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ضرور ایسے ہی ہوتے ہوں گے۔                                        
وہ سوچ رہا تھا اور ایک ٹک سفوفہ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اْس کی جھیل سی گہری آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ وہ کتنی معصوم تھی۔ اچھی سی۔۔۔۔۔۔ پیاری سی۔۔۔۔۔۔۔  وہ خاموش تھا اور اْسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اچانک اْس کی آنکھیں بھر آئیں اور پھر آنسوؤں کی ایک جھڑی سی لگ گئی۔ یہی آنسو شاید سفوفہ کے سوال کا جواب تھے اور سفوفہ کو اپنے سوال کا جواب مل بھی گیا تھا۔ جبھی سفوفہ اْس کے آنسو پونچھنے لگی اور اسے دلاسہ دینے لگی۔
دو ماہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ سہراب کا " گرینڈ سٹی ہاسپٹل" میں اب یہ تیسرا مہینہ تھا۔ وہی اسپتال ، وہی وارڈ ، وہی بیڈ، وہی بوجھل ماحول اور وہی سر کے اوپر چھت میں ٹنگا ہوا شوں۔۔۔ شوں۔۔۔۔۔ شوں۔۔۔۔ کرتا ہوا پنکھا۔ پنکھا اْسی دھیمی رفتار سے چل رہا تھا اور شوں شوں شوں کرتا ہوا جیسے سہراب سعید کا ساتھ نبھانے کا راگ الاپ رہا تھا۔ سہراب وارڈ کے اپنے چھوٹے سے کیبن میں بیڈ پر لیٹا ہوا خاصا مضطرب تھا۔ بے چینی سے کروٹیں بدل رہا تھا اور متلاشی نظروں سے بار بار اِدھر اْدھر دیکھ رہا تھا۔ پچھلے مہینے سے سفوفہ غائب تھی۔ اْس کا کہیں اتہ پتہ نہیں تھا اور اج سہراب کی تازہ ٹیسٹ رپورٹ بھی آنے والی تھی۔
وہ اپنی رپورٹ کے حوالے سے کافی فکر مند تھا اور سفوفہ کیلئے پریشان بھی۔ سفوفہ پچھلے ایک مہینے سے غائب تھی اور کچھ بتائے بغیر نہ جانے کہاں چلی گئی تھی۔ کوئی اْس کے بارے میں بتا بھی نہیں رہا تھا۔ وہ اْسے بڑا مِس کر رہا تھا اور اْس کے بارے میں جاننا بھی چاہتا تھا۔ سہراب اپنے چھوٹے سے کیبن میں پڑا کچھ ان ہی خیالات میں اْلجھا ہوا تھا کہ اچانک کیبن کے قریب کچھ قدموں کی آہٹ سنائی دی۔وہ آہٹ کی جانب متوجہ ہوا ، جبھی اْس کی نظر ڈاکٹر لیکمین پر پڑی جو اب اْس کے کیبن کے قریب آچکا تھا۔اْس کے ہمراہ کچھ دیگر طبعی عملہ بھی تھا۔ 
" ہیلو مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ سہراب کو مخاطب کرتے ہوئے اچانک خاموش ہوگیا۔ شاید نام بھول گیا تھا۔
" سہراب سعید سر۔" جبھی سہراب نے یاد دلایا۔
" یس یس مسٹر شہراب۔۔۔ آپ کیلئے ایک اہم خبر ہے۔"  وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
 " سر۔۔۔۔۔۔" سہراب بدقت اتنا ہی کہہ سکا۔ اْس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
"  آپ کی رپورٹ نگیٹو آگئی ہے۔ اب آپ کویڈ نگیٹو ہیں۔ مبارک ہو۔" ڈاکٹر لیکمین نے کہا اور خوش ہوکر تالیاں بجانے لگا۔  جبھی اْس کے ہمراہ طبی عملے کے دیگر افراد نے بھی خوشی سے  تالیاں بجانی شروع کیں ۔
دفعتا" سہراب سعید  کے پورے جسم میں مسرتوں کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ وہ ڈھیر ساری مسرتوں سے ہمکنار ہوا اور اْس کی آنکھوں کے سامنے جیسے پْھلجھڑیوں کے فوارے پھوٹنے لگے۔ اب وہ ڈاکٹر لیکمین اور دیگر طبعی عملے کو مبہوت و مشکور نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔اچانک اْس کی آنکھوں سے گرم گرم آنسو بھی بہنے لگے تھے۔
" آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں ڈاکٹر صاحب۔ الفاظ نہیں ہیں میرے پاس۔" وہ بدقت اتنا ہی کہہ سکا۔
" اب آپ ٹھیک ہیں ، ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ آپ بہت جلد یہاں سے رخصت ہونے والے ہیں۔" ڈاکٹر لیکمین نے مْسکراتے ہوئے جواب دیا ۔
سہراب کی عجیب کیفیت تھی۔ وہ جیسے تازہ دم ہوا تھا۔ اْس میں توانائی آگئی تھی۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔ ہونقوں کی طرح دیدے پھاڑ پھاڑ کر ادھر اْدھر دیکھ رہا تھا۔ کبھی اپنے آنسو پونچھ رہا تھا تو کبھی اپنے ہاتھ بجا رہا تھا اور متلاشی نظروں سے بار بار یہاں وہاں بھی دیکھ رہا تھا۔ اْسے شاید سفوفہ کا انتظار تھا۔ وہ اْسے جلد سے جلد یہ خوش خبری سنانا چاہتا تھا ، اْسے مبارکباد دینا چاہتا تھا، اْس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا اور اْسے اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چاہتا تھا۔ وبا کی اس آندھی میں سے اگر وہ صحیح سلامت نکل جاتا ہے تو اس کا سہرا سفوفہ کو بھی جاتا تھا ۔ مگر سفوفہ تھی کہاں؟ وہ خاصا پریشان تھا۔
" ڈاکٹر صاحب۔ میں مِس سفوفہ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ وہ کہاں ہیں۔؟" سہراب کے منہ پر دل کی بات آہی گئی ،جبھی ڈاکٹر لیکمین کچھ سنجیدہ اور پریشان سا نظر آنے لگا۔ تھوڑی دیر وہ کچھ سوچتا رہا اور پھر بولا۔
" سفوفہ کے حوالے سے نہایت ہی بْری خبر ہے۔ وہ کویڈ پازیٹیو پائی گئی ہیں۔ ان کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔"  ڈاکٹر لیکمین اب افسردہ نظر آنے لگا تھا۔ " اوہ نو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!! ۔" سہراب بدقت اتنا ہی کہہ سکا اور اپنا سر تھام کر بیٹھ گیا۔
وہ ابھی صدمے میں ہی تھا کہ اچانک ایک وارڈ بوائے دوڑتا ہوا ڈاکٹر لیکمین کے پاس چلا آیا۔ وہ بہت گھبرایا ہوا تھا اور اب اپنی سانسیں درست کرتا ہوا کچھ کہنے کی کوشش کررہا تھا۔ " سر۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ " 
  " ہاں ہاں بولو۔۔۔۔۔" ڈاکٹر لیکمین بھی کچھ گھبرا سا گیا۔
" سر سفوفہ۔۔۔۔۔  نہیں رہی۔۔۔ مر گئی !!!!!۔" وارڈ بوائے بدقت اتنا ہی کہہ سکا۔
" اوہ نو۔۔۔۔۔۔ ۔" بیک وقت کئی لوگ چیخے۔
 ایک جھماکا ہوا اور بجلی سی کوند گئی۔ وارڈ کے در و دیوار ہل گئے اور چہار سو سنسنی پھیل گئی۔ ڈاکٹر لیکمین اور دیگر طبعی عملہ افراتفری کے عالم میں وارڈ سے باہر بھاگنے لگا۔ جبھی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ خبر پھیلتے ہی پورے اسپتال میں کھلبلی مچ گئی۔ ہر سو چیخ و پکار، آہ و بکا اور سسکیوں کی آوازیں اْبھرنے لگیں۔ہر کوئی واویلا کرنے لگا اور کفِ افسوس ملنے لگا۔ سہراب سعید  کی حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی کیونکہ اْسے اس خبر سے گہرا صدمہ پہنچا تھا۔ وہ سر سے پاؤں تک ہل گیا۔ اْس کا سارا وجود لرز اْٹھا  اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا ساچھا گیا۔ وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ اْٹھا۔ اب وہ چیخے چلائے جارہا تھا۔ پاگلوں کی طرح۔۔۔۔  حلق پھاڈ پھاڈ کر۔۔۔۔۔ یہ کیا ہوا۔۔۔ یہ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔  یہ کیا ہوا۔۔۔۔۔ ۔؟؟؟؟؟
���
سری نگر کشمیر
موبائل نمبر؛9622900678
 

تازہ ترین