سرینگر جموں قومی شاہراہ …ایک نظر اِدھر بھی !

تاریخ    19 جون 2020 (00 : 03 AM)   


  کشمیر کی شہ رگ کہلائی جانے والی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر جس طرح ٹریفک جام معمول بن گیا ہے ،وہ مستقبل قریب میں پیش آنے والی نئی ہولناکیوں کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔شاہراہ پر ٹریفک جام کا یہ عالم ہے کہ سرینگر سے جموں تک محض10گھنٹوں کا سفر اب20کیا ،30گھنٹوں میں بھی طے نہیں ہو پاتا ہے ۔  شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں کی یہ عام شکایت رہی کہ بلا اعلان یکطرفہ کی بجائے شاہراہ پر دوطرفہ ٹریفک چھوڑا جاتا ہے جس کے نتیجہ میںشاہراہ پر ٹرکوں اور مسافر گاڑیوں کی دو رویہ کھڑی قطاریں لگ جاتی ہیں اور ان کے درمیان ٹھُنسی ٹھُنسی چھوٹی گاڑیوں کی وجہ سے کسی طرف نکلنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جب کبھی شاہراہ پر حادثہ پیش آتا ہے تو فوری بچائو کارروائیاں بھی ممکن نہیں ہوپاتی ہیں کیونکہ حادثہ کے شکار لوگوں کو طبی امداد فوری طور بہم ہی نہیں ہوپاتی ہے۔ٹریفک نظام کی اس بدنظمی کی وجہ سے شاہراہ پراب جان گنوانے اور زخمی ہو نے والوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار بھی اب زیادہ مؤجب ِ استعجاب و دلچسپی نہیں رہ گئے ہیں اور اسی وجہ سے اسے غیر سرکاری طور پر خونی شاہراہ کا نام بھی دیا گیا ہے لیکن تقریباً پورا سال ہی تواتر سے لگنے والے ٹریفک جاموں کے باعث جو نئے خطرات منڈلا نے لگے ہیں ، اس پہلو پر شاید ابھی تک زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔خصوصی طور پر گزشتہ دو ایک برسوں کے دوران صورتحال بد سے بد ترہوتی جارہی ہے اور ہر نیا دن شاہراہ پر سفر کر نے والوں کے لئے قیامت خیز جسمانی و ذہنی تکالیف و آلام کے تجربات سے دو چار کر نے والا ثابت ہو رہا ہے۔ پہلے جہاں موسم سرما میں برفباری یا برسات کے دوران بارشوں کی وجہ سے ہی شاہراہ بند ہوا کرتی تھی یا کبھی کبھار جام لگ جاتے تھے وہیں اب کسی بھی موسم میں اور کسی بھی وقت طویل ٹریفک جام لگنا اب معمول بن چکا ہے ،جس کے دوران روزانہ ہزاروں مسافروں کو لا متناہی اور بعض اوقات جان لیوا مصائب سے گزرنا پڑتا ہے۔ کل پھر شاہراہ15گھنٹوں تک بند رہنے کے بعد بمشکل بحالی کی گئی ۔بے آ ب و گیاہ مقامات پر بزرگوں ، خواتین اور بچوں کو جب پورا پورا دن اور رات گاڑیوں میں گذارنی پڑتی ہے تو ان کی تکلیف کا احساس حاکمان ِ اعلیٰ نہیں کر سکتے جنہیں اول تو شاہراہ پر سفر کر نے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی اور کبھی محض تفنن طبع کے لئے انہوں نے اس کا فیصلہ کر بھی لیا تو اس بات کا خصوصی اہتمام کیا جا تا ہے کہ ’’ صاحب ‘‘ کے سفر میں بہر صورت کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
مسلسل ٹریفک جام لگنے سے پورے ضلع رام بن کی آبادی بھی ایک طرح سے یرغمال بن چکی ہے اوربین تحصیل و بین قصباتی نقل و حمل بھی مکمل طور پر درہم برہم ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سرکاری ملازمین ، طلبا اور عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں بلکہ شدید قسم کے مریضوں کو ہسپتالوںتک پہنچانا محال ہو رہا ہے اور اگر خدا نخواستہ شاہراہ پر یا آس پاس کی رابطہ سڑکوں پر کوئی حادثہ پیش آجائے ، جس کا ان علاقوں میں ہمیشہ احتمال رہتا ہے ، تو صورتحال کیا ہو گی ، اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔اب یہ عام فہم بات ہے کہ پتنی ٹاپ اور بانہال کے درمیانی سیکٹر میں شا ہراہ کا فی تنگ اور خستہ حال ہے اور معمولی سی رکاوٹ بھی ٹریفک جام لگانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ بے لگام چھوٹی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی اچھی خاصی تعدادہوتی ہے حضرات مزاجاً کافی عجلت پسند اور ٹریفک کی اخلاقیات سے جیسے انہیں خدا واسطے کا بیر رہتا ہے۔ لہٰذا ان کے آگے چلنے والی گاڑی اگر محض رفتار بھی سست کر دے تو وہ اس سے آگے نکلنے کی تگ و دو شروع کر دیتے ہیں جو بیشتر اوقات طویل ٹریفک جام کا پیش خیمہ ثابت ہو جاتی ہے۔
 اگر چہ متعلقہ محکموں کے حکام ہر بار اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لئے تیر بہدف نسخے ایجاد کر نے کا عزم دہراتے ہیں لیکن ابھی تک کے تجربات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ یہ کاغذی اعلانات اور اقدامات بھی محض زیبائشی قسم کے ہوتے ہیں ،جن کا حقیقی مرض کے علاج سے دور دور تک کاواسطہ نہیں ہو تا ہے۔فی الوقت سرینگر جموںشاہراہ پر جو صورتحال پنپ رہی ہے، اس کی طرف اگر فوری طور توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں مستقبل قریب میں کسی بڑے انسانی المیے کے تمام تر جز بدرجۂ اتم موجود ہیں، تاہم صرف زبانی اعلانات اور نیم دلی سے کئے گئے اقدامات اس سنگین مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کے لئے ناکافی ہیں بلکہ کوئی مستقل اور مستحکم پالیسی بنانے کے لئے بنیادی وجوہات کی تلاش کر نا اور ان کا سدِ باب کرنا انتہائی لازمی بن چکا ہے۔ سب سے پہلے شاہراہ کے ان حصوں کی کشا دگی کی ضرورت ہے جو ٹریفک کے بڑھتے دبائو کی وجہ سے کافی تنگ ثابت ہو رہے ہیں ،نیز ان مقامات کی طرف خصوصی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے جہاں پر عموماً ٹریفک جام لگ جاتے ہیں۔ اگر پہلے سے ہی ان جگہوں پر ٹریفک عملہ تعینات رہے ،جو اپنے فرائض کی انجام دہی میں پْر خلوص ہو تو موجودہ صورتحال پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ تان ایک بار پھر وہیں ٹوٹتی ہے کہ اگر قوانین و قواعد کا نفاذ پوری سختی اور ایمانداری سے کیا جائے تو دنیا میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے اورامید یہی کی جاسکتی ہے کہ کم از کم اب ارباب حل وعقد گہری نیند سے بیدار ہوکرشاہراہ پر روزانہ سفر کرنے والی سینکڑوں گاڑیوں کے سواروںکے مسائل کی دادرسی کریں گے۔
 
 

تازہ ترین