تازہ ترین

پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر فوری حکومتی توجہ کا طلبگار

تاریخ    18 جون 2020 (00 : 03 AM)   


کورونا وباء کے بیچ ملک گیر سطح پر معمولات زندگی بحال کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے یہاںجموںوکشمیر میں بھی معمولات زندگی بتدریج بحالی کی طرف گامزن ہیں اور کافی حد تک زندگی پٹری پر لوٹ آئی ہے ۔دکانات اور کاروباری ادارے کھُل چکے ہیں۔کارخانے بھی چالو ہوچکے ہیں اور تعمیراتی سرگرمیاں بھی پھر سے شروع ہوچکی ہیں تاہم ایک طبقہ مسلسل پستا ہی چلا جارہا ہے اور وہ ہے ٹرانسپورٹ سے وابستہ طبقہ ۔عملی طور دیکھا جائے تو ٹرانسپورٹ سیکٹر گزشتہ اگست سے ہی بند پڑا ہے ۔بے شک سرما کے دوایک ماہ ٹرانسپورٹ چلا تھا لیکن مارچ میں پھر سب مسافر گاڑیوں کے پہئے جام ہوگئے اور آج حالت یہ ہے کہ سبھی گاڑیاں کھڑی ہیں۔گوکہ گزشتہ چند ایک روز سے چند مخصوص اور گنے چنے روٹوںپر چھوٹی مسافر گاڑیاں چلنا شروع ہوگئی ہیں تاہم 95فیصدپبلک ٹرانسپورٹ ابھی بھی سڑکوں پر نہیں لوٹا ہے ۔سرکار نے بے شک کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے میں دلچسپی دکھائی اور سرکار کی کوششوںکی بدولت کافی حد تک یہ سرگرمیاں بحال بھی ہوئیں تاہم ایسا لگ رہا ہے کہ سرکار کو شاید ٹرانسپورٹ سیکٹر کی زبوں حالی کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو سرکار جان بوجھ کر چشم پوشی سے کام لے رہی ہے ۔
ایک اندازے کے مطابق صرف کشمیر وادی کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ساتھ 3 لاکھ ڈرائیور اور کنڈیکٹر منسلک ہیں لیکن یہ سب کے سب دانے دانے کے محتاج ہوکر بھیک مانگنے پر مجبورہوچکے ہیں ۔ 9ماہ سے گاڑیاں گھروں میں بند پڑی اورکام نہ ملنے کی وجہ سے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کسی دوسرے کام کی تلاش میںہیں۔حکام نے ان کی دادرسی کیلئے کوئی بھی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔ ان لوگوں کیلئے کورونا سے زیادہ بھوک اور افلاس خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ کشمیر وادی کی ہی اگر بات کریں توکشمیر میں70ہزار چھوٹی بڑی مسافر گاڑیاں ہیں جن کے ساتھ 1لاکھ 40ہزار ڈرائیور اور کنڈیکٹر منسلک ہیں ۔یہی نہیں بلکہ گاڑیوں کی مرمت کے ورکشاپوں میں بھی لاکھوں محنت کش ہیں جو دن کو کماتے تھے اور رات کو کھاتے تھے تاہم وہ بھی گھروں میں بند ہو کر حکومت پر اپنی نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں۔
گاڑیاں بنکوں سے قرضوں پر لی گئی ہیں ۔بنک قرضے معاف نہیں کرتے اور نہ ہی سودمعاف ہوتا ہے ۔بلا شبہ فی الوقت سود کی وصولی نہیں ہورہی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیںکہ یہ سود معاف کیاگیا ہے ۔چھ ماہ کی رعایتی مدت جب ختم ہوگی تو بنک کے قرضہ داروں کو بیک وقت اس سود کی ادائیگی کرنا پڑے گی ۔ہمارے ٹرانسپورٹر اگست سے مسلسل خسارے سے دوچار ہیں۔وہ بنک اقساط ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں ،تو سود کہاں سے ادا کریںگے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ٹرانسپورٹر ا ب خاموش بیٹھے ہیں کیونکہ انہیںمعلوم ہے کہ اگر گاڑیاں سڑکوںپر واپس بھی لائی جائیں تو اُس نقصان کی بھرپائی نہیں ہوپائے گی جو گزشتہ نو ماہ سے انہیں اٹھاناپڑا ہے ۔اور آج جب گاڑیاں نکالنے کی بات بھی کی جارہی ہے تو ٹرانسپورٹروں سے کہاجاتا ہے کہ وہ گنجائش سے آدھی سواریاںلیکر ہی چلیں ،جس کا مطلب مزید خسارہ ہے ۔کہنے کو تو ہم کہیں گے کہ گاڑیاں واپس سڑکوںپر لوٹ چکی ہیں لیکن شام کو کھایا پیا کچھ نہیں ،گلاس توڑا بارہ آنہ کے مصداق بچت کچھ نہیں ہوگی اور صرف دن بھر گاڑیوںنے تیل پھونکا ہوگا۔
یہ صورتحال قطعی اطمینان بخش نہیں ہے ۔اگر سرکار کو دوسرے سیکٹروں کی فکر ہے تو اس سیکٹر کی فکر بھی کرنی چاہئے ۔یہ لاکھوں لوگوںکے روزگار کا مسئلہ ہے اور ویسے بھی اب یہ وہ زمانہ نہیں رہا جب غیر تعلیم یافتہ لوگ اس سیکٹر سے وابستہ ہوا کرتے تھے ۔اب اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بنکوں سے قرضہ لیکر گاڑیاں چلا رہے ہیں کیونکہ سرکار انہیں نوکریاں نہیں دے پائی ۔انہوںنے تنگ آمدبہ جنگ آمد کے مصداق بالآخر سرکار کا انتظار کئے بغیر اپنے پیروںپر کھڑا ہونے کا فیصلہ لیتے ہوئے گاڑیاں چلانے کا من بنالیا لیکن ان نوجوانوں کی جو حالت اس وقت بنی ہوئی ہے ،وہ انتہائی پریشان کن ہے اور انکی ذہنی کیفیت کو دیکھ کر مختلف قسم کے وسوسے جنم لیتے ہیں۔یہی وقت ہے جموںوکشمیر انتظامیہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کی خستہ حالی کا نوٹس لیتے ہوئے اس سیکٹر کیلئے کسی راحت کاری پیکیج کا اعلان کرے کیونکہ حقیقی معنوںمیں ٹرانسپورٹ سیکٹر خاص کر پبلک ٹرانسپورٹ سے وابستہ لوگ نان شبینہ کے ہی محتاج نہیں ہوچکے ہیں بلکہ وہ قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دب چکے ہیں۔اگر حکومت کی جانب سے اس سیکٹرکی بحالی کیلئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو خدا نہ کرے کہ کہیں ایسی نوبت نہ آئے کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر ہی دیوالیہ ہوجائے تو کوئی اچھی خبر نہیں ہوگی ۔اس لئے امید کی جانی چاہئے کہ سرکار معاملہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ہنگامی بنیادوںپر اقدامات کرتے ہوئے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر کے نقصانات کی بھرپائی کا کوئی انتظام کرے گی بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو سڑکوںپر واپس لینے کیلئے بھی اقدامات کرے گی تاکہ اس سیکٹر سے جڑے لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کا بھی بندو بست ہوسکے۔