فاصلے

افسانہ

تاریخ    14 جون 2020 (00 : 03 AM)   


شاہینہ یوسف
میں زندگی میں اتنا کسی چیز سے خوف زدہ نہیں ہوتی جتنا میں اپنوں کے خفا ہونے سے ہوتی ہوں ، لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان جس چیز سے جتنا ڈرتا ہے وہ چیز زندگی میں بار بار اس سے ڈراتی ہے۔میں بیٹھے بیٹھے کچھ سوچ رہی تھی کہ اتنے میں عالیہ آنمود ہوئی ۔میں نے دھیمی آواز میں پوچھا، کہاں تھی عالیہ اتنے دنوں سے ؟میرا یہ کہنا ہی تھا کہ وہ بھڑک کر بولی،تمہیں کیا ؟۔مجھے عالیہ کا یہ لہجہ ناشائستہ لگا ۔جیسے اس کی آواز میں ایک خنجر تھا جو سیدھا میرے قلب میں اُترا۔میں نے حق دوستی ادا کرنے کے لیے اپنا سوال پھر سے دہرایا اوراس  بار عالیہ زارو قطار رونے لگی ،اور میرے گلے لگ کر مجھ سے فون نہ کرنے کی شکایت کرنے لگی ،مجھے اس کے رونے سے اپنی غلطی کا احساس تو ہوا لیکن مجبوریوں میں جکڑا انسان آخر کرے بھی تو کیا کرے ۔میں عالیہ کو کیا بتاتی کہ ہمارے گھر میں کئی دنوں سے کھانا نہیں بنا، اور تو اور جو فون میرے پاس تھااور جس پے ہم کبھی کبھا ر باتیں کیا کرتے تھے غربت کی وجہ سے اُس فون کو بیچ کر کچھ دِن فاقہ کشی سے نجات حاصل کی ۔خیر عالیہ کی ناراضگی ہمیشہ کی طرح چند ہی لمحوں میں رفو چکر ہوگئی ۔عالیہ اپنے منگیتر کے قصے سنانے میں مشغول ہوگئی لیکن میں نہ جانے کس دنیا میں کھونے لگی ۔میں عالیہ کی باتیں یوں تو سن رہی تھی لیکن ان باتوں کے معنی سمجھنے سے قاصر تھی۔ میں دل ہی دل میں کسی ایسی جگہ جانے کی تمنا کر رہی تھی جہاں میرے ساتھ میرا کوئی اپنا ہواور وہ اپنابھی ایساجو صرف اور صرف میرا ہو ،جو میرے دل کی اُداسی سمجھ لیتا، اور تو اور جس کے کندھے پے سر رکھ کر میں عالمِ بے ہوشی میں چلی جاتی،لیکن میری قسمت میں یہ سب شاید نہ لکھا تھا ،میری قسمت میں کسی ایسے کی آمد شایدایک خواب ہی تھی ۔عالیہ اس معاملے میں نہایت خوش نصیب تھی، جو اُس سے اتنا پیار کرنے وا لاجیون ساتھی ملا تھا ۔خیر یہ تو بات اپنے اپنے مقدر کی ہوتی ہے۔
ہم نے اب گھر کی راہ لی ۔جاتے جاتے ہم دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا ۔ صبح اٹھ کر اپنے وعدے کے مطابق میں عالیہ سے ملنے گئی ۔ہم جب بھی ایک دوسرے سے ملتے تو ایک دوسرے سے بے تکلف بغل گیر ہوتے لیکن آج جیسے عالیہ مجھ سے کچھ اجنبیوں سا سلوک کر رہی تھی ۔میں نے عالیہ سے اس اجنبی پن کی وجہ دریافت کرنا چاہی لیکن میرے ضمیر نے مجھے اجازت نہ دی اور ہم دونوں ایک ساتھ تو چلتے رہے لیکن ایک دوسرے سے دور رہ کر ہی۔عالیہ سڑک کے ایک کنارے پر تھی اور میں دوسرے کنارے پر۔شاید یہ وقت ہی ایسا ہے جہاں انسان سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی بالکل اکیلا ہے۔اسی اثنا میں ایک خوبصورت جوڑاسڑک پر آنمود ہوا۔ ان کا ہنستا چہرہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہو کر زیست کے خوب مزے لے رہے ہیں اور اس مستی میں چل رہے تھے کہ انہیں دیکھ کر دوسرے لوگوں میں زندگی جینے کا حوصلہ جاگ رہا تھا ۔ان کے پیچھے پیچھے بہت لوگ کھوّے سے کھوّا ملا رہے تھے ۔سبھی لوگ اپنے اپنے حال میں مگن تھے۔یہ ہم جوں جوں آگے بڑھتے گئے لوگوں کی تعداد جیسے کم ہوتی گئی اور ایک لمحہ ایساآیا جب ان سارے لوگوں کا وجود ہی نیست و نابود ہوگیا  ۔یہ منظر دیکھ کر میں بے حد رنجیدہ ہوگئی۔ اور میں نے عالیہ سے ان لوگوں کے بارے میں ذکر کرنا چاہا لیکن عالیہ اس معاملے میں بے خبر تھی۔نہ جانے وہ آج ایسی کیوں بن گئی تھی کہ جس کا سروکار اپنے آپ کے سوا کسی سے بھی نہ تھا۔میں نے وقت ضائع کیے بغیر ان لوگوں کا پیچھا کرنا چاہا لیکن بہت مسافت طے کرنے کے بعد بھی میں ان لوگوں کا کوئی سراغ نہ لگا پائی ۔شاید یہ لوگ اب ایسی دنیا میں چلے گئے تھے جہاں سے ان کا واپس لوٹنا محال تھا ۔ان لوگو ں کے ساتھ آخر ہوا کیا ؟آخر ان لوگوں کی کیا غلطی تھی ؟ابھی تو چار سۃو رونق تھی ؟یہ لمحہ بھر میںسب کچھ کیسے بدل گیا ؟یہ لوگ صرف ایک ساتھ چل رہے تھے اس کے علاوہ تو ان کی کوئی غلطی نہ تھی،پھر ۔۔۔۔پھر۔۔۔۔یہ کیا ہوگیا ۔کیا انسان ہمیشہ سے ایسے ہی اللہ کے فیصلوں کے سامنے سر خم کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے ۔میں نے عالیہ کو بہت سمجھانا چاہا کہ ہم اس قافلے کے بارے میں کسی سے بات کریں گے ، گھر جا کر میں نے  وصی سے یہ سب کچھ کہنا چاہا ،وصی یوں تو میرا ماں جایا تھا اور ہمارے درمیان بھی ہر ایک بھائی بہن کی طرح روز لڑائی ہوا کرتی لیکن جب بھی مجھے کوئی پریشانی ہوتی تو وصی کو میں اپنے ساتھ پاتی اور ہم ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں ایک دوسرے کی ڈھال بن کر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ۔جو ںہی میں نے وصی سے ان لوگوں کا ذکر کیا، جن کا وجود میری نظروں کے سامنے ماضی بن گیا ۔اس نے مجھے چپ رہنے کا مشور ہ دیا اور مجھ سے کہا کہ اپنے کام سے کام رکھو ۔میں نے کئی بار وصی سے پوچھا آخر کیوں؟ ہم تو یہاں اس دنیا میں ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹنے آئے ہیں، پھر آپ اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے زیست کا اصلی مقصد کیوں بدل رہے ہیں ۔
صبح نیند سے بیدار ہو کر میں نے عالیہ کے گھر کی راہ لی ۔عالیہ نے جوں ہی میری آمد کا سنا تو وہ بیدار ہو کر مجھے گھر میں اندر بلانے کی بجائے اپنے صحن میں نکل گئی اور مجھ سے کہنے لگی تم ؟تم یہاں کیسے ؟تم اندر کیسے آئی ،میں نے عالیہ سے ہاتھ ملانا چاہا لیکن اُس نے مجھ سے ہاتھ نہ ملایا ، میں جتنا اس کے قریب ہونے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی مجھ سے بعید ہوجاتی۔میں نے اسے اس کی اس بے اعتنائی کے بارے میں کئی با ر پوچھا اور اس کا ایک ہی جواب تھا’’سب ختم ۔اب ایک دوسرے سے فاصلے رکھنے میں ہی بھلائی ہے ۔ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم سب کا وجود اس کُرہ ارض سے جلد مٹ جائے گا۔نہ ہمارے ساتھ بھی۔۔۔۔کیا ہمارے ساتھ بھی ۔۔۔۔کیا ہمارے ساتھ بھی ۔۔۔میں نے عالیہ کی بات کاٹ کر پوچھا ۔۔ورنہ ہم بھی اسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں وہ قافلہ گیا۔ عالیہ نے جواب دیا ۔اس قافلے کو بھی وہی بے و قوفی لے ڈوبی جس کی زد میں شاید ہم بھی آنے والے ہیں ،اگر ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ فاصلہ نا رکھا تو۔میں یوں تو عالیہ کی باتیں غور سے سن رہی تھی لیکن میرے پلے کچھ نہ پڑ  رہا تھا ۔اتنے میں مجھے کوئی زور زور سے آوازیں دینے لگا۔ میں نے غور سے سنا تو میرا بھائی مجھے ڈھونڈنے آیا ۔میں اسے دیکھ کر دھنگ رہ گئی کیوں کہ اس کا مجھے بُلانے آنا معمول کے خلاف تھا ۔وہ زور زور سے آوازیں لگا رہا تھا کہ ’’ لاک ڈاون ‘‘شروع ہوا ہے گھر جا کر رہو ورنہ سخت کاروائی ہوگی۔میں گھر چلی گئی اور حسبِ معمول اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔شام کو کھا نا کھا کے ہم سو گئے ۔صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد میں نے اپنے آپ کو ایک انجان کمرے میں قید پایا ۔میرے ارد گرد کوئی بھی نہ تھا، اور تو اور میرے کمرے کا دروازہ کسی نے باہر سے ہی بند کر دیا تھا۔میں نے کافی آوازیں لگائیں لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا ۔جب میں اس تنہائی میں خوفزدہ ہوئی تو میں نے اپنا فون نکالا اور امی جان کو فون کیا اور ساری کیفیت سنائی ۔امی جان نے اس بے اعتنائی سے میری باتیں سنیں جیسے وہ اس کے بارے میں پہلے سے جانتی تھی۔وہ بولی تو پرسوں جس قافلے کے پیچھے پیچھے گئی وہ باہری ملک سے آیا ہوا تھا ۔جو اپنے ساتھ ’’کوئی وبائی بیماری لے کے آیا تھا ،اس لیے اس قافلے کے خاتمے کے بعد پولیس نے اس قافلے کے قریب جانے والے ہر شخص کو ’’ کورنٹاین ‘‘میں رکھا ہے ۔سننے میں آیا ہے کہ تو بھی اسی قافلے کے کافی نزدیک گئی تھی، اس لیے تیرا یہ حال ہے۔اور تجھ سے جڑی ہر ایک چیز کو ’’سینیٹایز ‘‘کیا گیا ہے ۔یہ کہہ کر امی جان نے فون کاٹ دیا ۔میں کھڑکی کے پاس چلی گئی اور میں نے آسمان کی اور نظر دوڑائی ،آج آسمان بھی بے رونق لگ رہا تھا ،گلیاں کوچے ،سما  و  ارض سب جیسے میری طرح ’’کورنٹاین‘‘ میں رکھے گئے تھے۔
 
ریسیرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر
ای میلshaheenayusuf44@gmail.com
 

تازہ ترین