’’خوشی غم اور آنسو‘‘

افسانہ

تاریخ    14 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ایف آزاد دلنوی
ائرپورٹ پر بڑی گہما گہمی تھی۔جہاز کی سیڑھیاں اُترتے ہوئے نویدؔ کی نظریں اپنی چھو ٹی بہن منی ؔپر پڑیں جو تھوڑے فاصلے پر کھڑی فیملی کے ساتھ اپنے بھائی کا بے صبری سے انتظار کرتھی۔نویدؔ کے نیچے آتے ہی منیؔ نے مٹھیاںبند کرکے پکارتے ہوئے دوڑ لگائی۔
’’بھیا آگئے۔۔۔بھیا آگئے۔‘‘
انتظامی معاملات سے بے خبر منیؔ پولیس اہلکاروں کے بیچ  میںسے نکل کر اپنے بھیا کے پاس پہنچ گئی۔پولیس والے بھی اس ننھی سی چھوٹی بچی کو دیکھتے رہے اور اس کو جانے دیا۔یونیورسٹی میں چھٹیاں ہونے کے سبب نویدؔٹھیک ایک برس بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ خوشی ومسرت اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی اور وہ فیملی سے ملنے کے لئے بیتاب ہورہا تھا۔ منّی کوسامنے دیکھ کر وہ خوشیوں سے پھولے نہ سمایا۔وہ اُس کے گال تھپتھپاتا‘ماتھا چومتا توکبھی گلے لگاتا رہا۔منیؔ کو کئی بار ہوا میں اچھال کراپنی محبت اور خوشی کا اظہار کرتا رہا۔اس کو گودمیں اُٹھائے تیزتیزڈگ بھرتے ہوئے اپنی فیملی کے پاس پہنچتے ہی ایک ایک سے بغل گیر ہوا ۔یوں لگ رہا تھا جیسے دنیا بھر کی خوشیاں ان کے اندر سما گئیں ہوں۔ائرپورٹ سے باہر جاتے ہوئے والد مدبر ؔبٹ نے پوچھا۔
’’بیٹے پڑھائی کیسی چل رہی ہے۔۔؟‘‘ 
’’پاپا بہت اچھی چل رہی ہے۔ بڑے ماہر پروفیسر پڑھارہے ہیں۔ماحول بھی اچھا ہے۔‘‘
’’اورسفر کیسا رہا ۔۔۔؟‘‘
’’بہت بڑھیا۔۔۔۔۔ہوا میںاُڑتے ہوئے بہت مزہ آیا۔‘‘
پھر کچھ ہی دیر میں وہ سب کار میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ درختوں پر سبز پتے اُگ آئے تھے اور کہیں کہیں شگوفے بھی کھلے ہوئے تھے۔ زمین سبز لباس پہنے خوبصورت لگ رہی تھی اور بہار کی آمد آمد کا پیغام دے رہی تھی نویدشیشے کا پٹ نیچے کر کے ان نظاروں کا لطف اُٹھاتا رہا ۔وہ ایک الگ طرح کا کیف وسرور محسوس کررہا تھا‘ آسمان میں اُڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھتاتو کبھی درختوں پر موجود پرندوں کو  چہچہاتے ہوئے سنتا۔وہ کھو سا گیاتھاکہ مدبر ؔ بٹ اُس کے شانوں کوسہلاتے ہوئے کہہ اُٹھا۔
’’بیٹے ہمارے خواب کوپایۂ تکمیل تک ضرور پہنچانا ۔‘‘
’’پاپا میں جی جان لگا کر پڑھائی کر رہا ہوں۔میں ضرور منصف بن جائوں گا ۔‘‘اور وہ باتوں باتوں میں گھر پہنچ گئے ۔
مدبر ؔ بٹ نے گھر میں ایک پارٹی کا اہتمام کیا تھا اور کئی رشتہ داروں کو مدعو کیا تھا۔گھر میں جشن کا سا ماحول تھا۔ بچے بڑے سب خوش نظر آرہے تھے۔گھنٹہ بھر بعد سب ایک بڑے ہال میں جمع ہوگئے۔ کھانا پروسا گیا اور سب مزہ لے لے کر کھانے لگے۔ ہر ایک قسم کی ضیافت تیارکی گئی تھی۔ کھانے سے فارغ ہوتے ہی سب تکیوں سے ٹیک لگائے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ سیاسی وسماجی مسائل زیر بحث آئے۔ اسی دوران ایک بڑے سماوار میںنمکین چائے لائی گئی اور سب چسکیاں لے لے کرچائے پیتے رہے۔ شام ہوتے ہوےے سب رخصت ہوگئے، عورتیں نوید ؔکو بوسہ دیتے ہوئے تو مرد گلے لگاتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کرکو چلے گئے ۔
کچھ دن بعد نویدؔ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ اُسے نزلہ کھانسی کے ساتھ بخار آگیا۔ دوائی سے جب کوئی افاقہ نہ ہوا تو اُسے اسپتال میںایڈمٹ ہونا پڑا۔ان ہی دنوں یہ خبریں آنے لگیں کہ دنیا کے کئی بڑے ممالک میں ایک مہلک بیماری ’کووڈ ۔۱۹‘ پھیل رہی ہے، جو انسان کو بری طرح اپنی چپیٹ میں لی رہی ہے اور اموات بھی ہونے لگیں ہیں۔ایسے لوگ جن کی کوئی ٹریول ہسٹری ہے یا نزلہ کھانسی و بخار سے جھوج رہے ہیں وہ اپنا ٹیسٹ کروائیںاور کورونٹین میں رہیں کیونکہ یہ بیماری چھونے سے پھیلتی ہے ۔
نوید ؔ کے گھر والے اور رشتہ دار سب سکتے میں آگئے۔ دیکھتے  ہی دیکھتے جیسے ان کی خوشیوں پر غموں کے بادل چھانے لگے۔اس بیچ نوید کی حالت بدستور خراب رہی اس کو اسپتال میں ہی کورونٹین کردیا گیا کیونکہ اس کاٹیسٹ مثبت آیاتھا۔
پھراچانک ایک دن اسپتال سے فون آیا۔
’’ہیلو۔۔۔ہیلو۔۔۔مدبربٹ صاحب ہیں۔میں اسپتال سے ڈاکٹر شکیل الر حمان ۔۔۔آپ کا بیٹا نویدؔ انتقال کر گیا ہے ۔‘‘
یہ سنتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا ۔ ماںبہنیں چیختی چلاتی رہیں، بال نوچتی رہیں۔مدبر بٹ پاگلو ں کی طرح بڑبڑاتا رہا۔
’’میرے اللہ یہ کیا غضب کیاہے۔ یہ دن دیکھنے سے پہلے میںمر کیوں نہیں گیا۔‘‘
یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔سب خون کے آنسوں روتے رہے۔پھر کچھ دیر کے بعد نویدؔ کو میڈکل ٹیم اور پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں قبرستان پہنچایا گیا، جہاں اس کو سپردخاک کردیا گیا۔افسوس والدین بیٹے کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے۔
مدبر بٹ قبرستان میں بت بنا کھڑا تھا کہ فون کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
’’ہیلو۔۔۔میں نذیر احمد بول رہا ہوں سب رشتہ داروں کو پولیس آکر پکڑ رہی ہے سب کو کورونٹین کرنے کا حکم آیا ہے۔‘‘
فون پہ فون۔ یہانتک کہ اڑوس پڑوس والے بھی ناراضگی جتاتے رہے ۔
’’آپ نے ہمیں مصیبت میں ڈال دیا ہے
مدبر بٹ ہر فون کال گونگے کی طرح چپ چاپ سنتا رہا ۔اس کی آنکھوں سے آنسوں کی برسات جاری تھی۔ وہ ٹوٹ چکا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ جونہی قبرستان سے باہر آیا تو ہکا بکا ہوکر رہ گیا۔
کیونکہ ۔۔۔۔۔!!!۔۔پولیس کی ایک ٹیم اس کے انتظار میں تھی 
٭٭٭
دلنہ بارہمولہ،موبائل نمبر:-9906484847

تازہ ترین