تازہ ترین

نعت گوئی کی فنی،فکری اور موضاعاتی جہات

نئی جہت

تاریخ    12 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ
 میں جب بھی کوئی نعتیہ شعر یا کلام پڑھتا یا سنتا ہوں تو مجھے عربی شاعر زہیر ابن ابی سلمیٰ کے درجہ ذیل شعر کی معنویت پر رشک آتا ہے کہ سب سے بہترین شعر جو تم کہہ سکتے ہو،وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو لوگ کہیں کہ سچ کہا ہے۔  ؎
وَ اِنَّ احسنَ بیت انت قائلہ
بیت یقال اذا انشد تہ  صدقا    
 تو نعت سے بھلا بہتر اور سچا شعر کیا ہوسکتا ہے۔(اگراس میں غلو نہ ہو)کیونکہ نعت میں نہ صرف ایک عاشق رسولؐ کا روحانی جذبہ شامل ہوتا ہے بلکہ رحمت للعالمینؐ کی ذات و صفات کی سچی مدح خوانی بھی ہوتی ہے۔
 عشق رسولؐ کے روحانی جذبہ کی ایک مثال مشہور نعت’’بلغ العلیٰ بکمالہ‘‘ بھی اپنی تواریخی معنویت کا احساس دلا رہا ہے کیونکہ ایک طرف اس نعتیہ رباعی کی مقبولیت اور قبولیت کا یہ عالم ہے کہ صدیوں سے یہ عاشقانِ رسولؐ کے لئے روحانی وظیفہ ثابت ہورہی ہے اور دوسری جانب اس شعر کی عاشقانہ تخلیق کے حوالے سے ایک واقعہ یہ بھی منسوب ہے کہ جب حضرت شیخ سعدی ؒ نے جوش عشق میں یہ رباعی لکھ رہے تھے توچوتھا مصرعہ بن نہیں پارہا تھا۔ جب بے چینی کا عالم بڑھتا رہا اور اسی عالم میں سو گئے تو خواب میں سرکار دوعالم ؐ کا دیدار نصیب ہوا اور آپ ؐ نے فرمایا کہ سعدی پریشاں کیوں ہو ‘ لکھو:’’  صلو علیہ و آلہ‘‘۔ اس طرح سے یہ نعتیہ رباعی مکمل ہوکر ہر زمانے کے لئے ہدیہ عشق ثابت ہوئی۔  ؎
بلغ العلی بکمالہ  (آپ ؐاپنے کمال کی وجہ سے بلندیوں پر پہنچے)
کشف الدجی بجمالہ (آپؐ نے اپنے جمال سے تاریکیوں کو دور کیا)
حسنت جمیع خصا لہ (آپ کی تمام خصلتیں خوب ہیں)    
صلو علیہ و آلہ (آپ پر اور آپ کی آل پر درود ہو)
(شیخ سعدیؒ)
(خیر یہ معرفت کا عالم ہے ،یہاں پر عقل کی پہنچ کہاں،بقول علّامہ اقبالؒ’’خرد کے پاس خبر کے سواکچھ اور نہیں)
 اب اگر تھوڑا بہت ’’نعت‘‘کے لغوی،اصطلاحی اور تواریخی پس منظر پر ارتکاز کریں تو اس موضوع پر سینکڑوں مضامین و کتب تحریر ہوچکے ہیں۔ لفظ ’’نعت ‘‘پر سید محمد مرتضیٰ الزبیدی اپنی تصنیف’’تاج العروس‘‘میںگفتگو کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:’’نعت کے معنی وصف کے ہیں ، خصوصاً جب آپ کسی چیز کی وصف میں مبالغہ سے کام لیں تو اس وقت نعت کالفظ استعمال ہوتا ہے ۔وصف بیان کرنے والے کو ناعت کہتے ہیں اور اس کی جمع نعات ہے۔جیسے کسی شاعرنے کہا ہے۔   ؎
النعتہا انی من نعاتھا (میں اس کی تعریف میں، اس کے ثنا خوانوں میں ہوں)
 اس طرح سے عمومی طور پر نعت کا لفظ وصف کے مترادف گردانا جاتا ہے۔عربی میں خوبصورت چیز کے لئے’’ھذا نعت‘‘کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی نعت کی متنوع تعریفیں موجود ہیں۔ان سب تعریفوں کے باوجودمحققین ،شارحین اور مفسرین نے نعت کو عمومی تعریف سے علیحدہ کرکے اسے تخصیصی معنی پہنایا اوراب اصطلاحی معنی میں نعت کا اطلاق رسول اللہؐ کی تعریف و توصیف کے لئے مختص ہوچکا ہے اور یہی تخصیصی مفہوم اب عربی،فارسی،اردو اور دیگر زبانوں میں بھی رائج ہے۔اس لئے وہ ساری شاعری نعت کی تعریف میں آتی ہیں جس میں رسول اللہؐکی توصیف اور عقیدت پائی جاتی ہو۔ممتاز حسن کے الفاظ میں: ’’ وہ ہر شعر نعت ہے جس کا تاثر ہمیں حضور نبی کریم ؐ کی ذات گرامی سے قریب لائے،جس میں حضورؐکی مدح ہو یا حضورؐ  سے خطاب کیا جائے۔‘‘… ( خیرالبشرؐکے حضور میں۔ص ۵۱)
نعت کے موضوعات:۔
دراصل نعت کا بنیادی موضوع تو رسول اللہ ؐ کی تعریف و توصیف ہی ہے ،جیسے کہ ابن الاثیرؒ  ’’النھایتہ فی  غریب الحدیث والاثر‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’نعت فی صفتہ  ؐ یقول ناعتہ لم ارقبلہ ولا بعدہ مثلہ‘‘ 
 ترجمہ : نعت رسولؐ کی صفت کو کہتے ہیں ،جیسے کہ نعت کہنے والا کہتا ہے: میں نے آپ ؐ سے قبل اور آپ ؐکے بعد آپ ؐجیسا نہیں دیکھا۔
 اب جبکہ شاعری میں نعت گوئی ایک صنف کی حیثیت اختیار کرچکی ہے تو تحقیقی بنیاد پر نعت کے موضوعات بھی مختص ہوچکے ہیں اور ان موضوعات کا استعمال شاعری میں جس انداز سے کیا جاتا ہے یا کیا جائے گا وہ نعت میں شامل ہے جیسا کہ ’’نوراللغات‘‘میں درج ہے:’’ایسی تمام نظمیں جن میں رسول خدا ؐ سے محبت اور عقیدت کا اظہار کیا جائے یا ان کے محاسن بیان کئے جائیں،نعت کی تعریف میں آتی ہیں‘‘۔
 اب اس محبت و عقیدت یا محاسن کا اظہار جس انداز سے بھی کیا جائے وہ نعت ہی کہلائے گا۔مثلاًعلّامہ اقبال ؒ کے درجہ ذیل شعر دیکھیں ، ان میں بظاہر رسول اللہ ؐ کا اسم گرامی یا کوئی واقعاتی اشارہ نظر نہیں آتا ہے لیکن علامتی و استعارتی طور پر آپؐکی محبت و عقیدت اور محاسن کا معنی خیز اظہار ہوا ہے۔   ؎
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
عالم آب وخاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہ ٔ  ریگ کو دیا تونے طلوع آفتاب
 نعت گوئی کے موضوعات کا مختصر احاطہ کریں توبنیادی طور پر نعت گوئی موضوعاتی شاعری کے زمرے میں آتی ہے جس میں آپ ؐ کی تعریف و توصیف،مدح و ثنا،ولادت،حیات ،صفات وتعلیمات،سخاوت و شجاعت،محبت واخوت،محبت وشفقت اخلاق کریمہ، حسن و جمال،صداقت و فراست،غزوات وغیرہ یعنی سیرت مبارکہ کے متنوع پہلووں کافکری و فنی بنیاد پر عقیدت واحترام کے ساتھ اظہار خیال کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو نعتیہ کلام عقیدت و احترام اور عاشقانہ جذبات کاایک ایسا گلدستہ ہوتا ہے جو اسوہ ّحسنہ ؐکی خوشبو سے قاری اورسامع کے دل و دماغ کو معطر کرتاہے۔اورہر صاحب شعور انسان کی فکر کو جلا بخشتا ہے۔ بقول افروز عالم:
عقل  و  شعور و فکر  کے  محور  حضورؐ ہیں
خوش رنگ حسن و خوبی  کے پیکر  حضورؐ ہیں
آتی  ہیں آفریں کی  صدائیں سماعت میں
ہر صاحب  شعور  کے  دلبر  حضورؐ  ہیں
حب رسول ؐ کسی بھی مومن کے ایمان کا وہ روحانی اثاثہ ہے جو اس کے قلب و نظر کو لذت ایمان سے سرشار کرتا ہے  اورجس کے بغیر کسی بھی مسلمان کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ یہ محض عقیدت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایمان کا حصہ بھی ہے۔ اس تعلق سے سورۃ الاحزاب میں واضح حکم ہے : ’’النبی اولی بالمومنین من انفسہم‘‘(آیت نمبر۶)  
(نبی ؐ مومنوں کیلئے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہیں۔)
اور درجہ ذیل حدیث بحولہ انس بن مالکؓ میں بھی حب رسولؐکی اہمیت و لازمیت کا حکم ہے۔’’ تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنی اولاد ،اپنے والدین اور باقی تمام لوگوں سے مجھے محبوب نہ رکھے۔‘‘
 نعت گوئی میں حب رسول ؐکا پہلو نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔اس لئے حب رسولؐ کی عکاسی نعتیہ اشعار کا موضوعاتی پہلو ہے۔ان میں نہ صرف عشق رسولؐ کی اہمیت ،ضرورت اورافادیت کو بلیغ انداز ا میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، بلکہ بین المتن ایک عاشق رسولؐ کی قلبی محبت اور فکری جذبات کی فراوانی بھی محسوس ہوتی ہے۔اس لئے فنی طور پر نعت گوئی میں اس اہم مسئلے کا خاص خیال رکھنا ضروری بن جاتا ہے کہ شاعر شرعی حدود سے نکل کر غلو کرتے ہوئے رحمت کی بجائے زَحمت کا مستحق قرار نہ پائے ۔بقول شاعر:  ؎
گر دلِ مومن میں ان ؐ کے عشق کی خوشبو نہیں
حشر میں یہ بات ہوگی  وجہ  رسوائی بہت
(ڈاکٹر شمس کمال انجم)
فنی طورپر نعت گوئی کے موضوعات کی بات کریں تو اس تعلق سے اہل دانش و بینش نے نعتیہ موضوعات کو مختلف زمروں میں تقسیم کررکھا ہے جن میں رحمت اللعالمین کی ذکر جمیل ،نور نگاری، معراج نگاری، ذکر باعث تخلیق کائنات، ذکر مہر نبوت، ذکر حبیب ِخدا،ذکر دیار مدینہ،انبیاء سے مقابل،ذکر سلام وغیرہ موضوعات شامل ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ نعت میں ان سبھی موضوعات پر اظہار خیال کیا جاسکتاہے۔ بہرحال مقالہ طویل ہے ،اس لئے عاشق ِ رسول ؐ علاّمہ اقبالؒ کے مشہور زمانہ شعر پر بات ختم کریں گے:  ؎
کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں
رابطہ : وڈی پورہ ،ہندوارہ کشمیر ،193221
فون:70065443
drreyaztawheedi777@yahoo.com