حجاب آپ کی تہذیب و تربیت کا عکاس

نشو نما

تاریخ    11 جون 2020 (00 : 03 AM)   


طیبہ بخاری
’’حجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔
گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بُرقع ‘میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بُرقع ‘سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔
سحر کہتی ہیں ’’ حِجاب اور عبایا کو عورت کا فطری حُسن بھی کہہ سکتے ہیں۔ خواتین کی اِنہی دلچسپیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں حِجاب اور عبایا کے نِت نئے ڈیزائنز متعارف کرائے جارہے ہیں، جو اِن کی توجہ کا محور بنے ہوئے ہیں۔ حِجاب کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دوپٹے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
پَردہ اور حِجاب ایک ایسا خوبصورت عمل ہے جو عورت کو ڈھانپ لیتا ہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے حجاب آپ کی تہذیب اور تربیت کی نمائندگی کرتا ہے اور آپ کو بُری نظروں سے محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا حِجاب اور عبایا کے تقدس کو پامال نہ کریں اور محض فیشن کی غرض سے نہ پہنیں، ورنہ اس کا شمار حیا و حجاب میں نہیں بلکہ فیشن میں ہی ہوگا۔صرف رمضان المبارک میں سکارف اور عبایا کا استعمال نہ کریں بلکہ اس کو اپنے لباس کا لازمی حصہ بنا لیں اور سال بھر استعمال جاری رکھیں۔
یقین جانیں ایسا کرنے سے آپ کو اپنی زندگی میں انقلابی تبدیلی محسوس ہو گی اور آپ خود کو ہر مصیبت اور برائی سے محفوظ تصور کریں گی۔ میری ذاتی رائے میں یہ احساس ِ تحفظ ہی زندگی گزارنے کیلئے کافی ہے۔ امید ہے آپ بھی سکارف اور عبایا کو اپنے لباس کا حصہ ضرور بنائیں گی۔
 

تازہ ترین