کوروناوبا… یہ لاپرواہی برتنے کا وقت نہیں ہے

تاریخ    11 جون 2020 (00 : 03 AM)   


گزشتہ چند روز سے جموںوکشمیر خاص کر وادی کشمیر میں کورونا کے مثبت معاملات جس تیزی کے ساتھ سامنے آرہے ہیں،وہ یقینی طور پر پریشان کن ہیں۔چند روز قبل ایک دن میں ریکارڈ معاملات سامنے آئے جن کی تعداد6سوسے بھی زیادہ تھی۔جب ان کیسوں کا باریک بینی سے ذرا پوسٹ مارٹم کیاجاتا ہے تو ایک پریشان کن صورتحال ابھر کر سامنے آتی ہے ۔حکام کے لئے یہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے مریض ہوں لیکن گہرائی سے تجزیہ پریشان کردیتا ہے ۔کورونا اعداد وشمار کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر وادی کا اب کوئی ضلع محفوظ نہیں ہے اور ہر ضلع میں کورونا نے دستک دی ہے ۔دوسرا اور اہم نکتہ جو تجزیہ کے بعد ابھر کرسامنے آتا ہے ،وہ یہ ہے کہ ہمیں قطعی طور لاپر واہی برتنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ گھوم پھر کر واپس آرہا ہے ۔سرینگر انتظامیہ کئی روز تک اس اطمینان میں تھی کہ یہاں اب نئے معاملات سامنے نہیں آرہے ہیں اور عوامی سطح پر بھی اس پر اطمینان کا اظہار کیاجارہاتھا جبکہ عوامی نقل وحمل بھی کافی حد تک بڑھ چکی تھی کیونکہ شاید انتظامیہ کے لوگ سمجھنے لگے تھے کہ کورونا سرینگر سے رخصت ہورہا ہے لیکن گزشتہ چند روز سے جس طرح مسلسل سرینگرضلع سے نئے معاملات سامنے آرہے ہیں ،وہ یہ بتانے کیلئے کافی ہیں کہ کورونا کہیں گیا نہیںہے بلکہ یہیں موجود ہے ۔اسی طرح ریڈ زونوں کی فہرست سے باہر رکھے گئے بانڈی پورہ ضلع کے نئے نئے دیہات اس کی لپیٹ میں مسلسل آرہے ہیںجبکہ ٹنگمرگ میں بھی اس نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کردیا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ شوپیاں اور اننت ناگ کے دو مخصوص علاقے ہاٹ سپاٹ بن چکے تھے لیکن اب اننت ناگ کا وہ حصہ بھی اس کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے جہاں ابھی تک کوئی کیس نہیں تھا اور یہ علاقہ شہرہ آفاق سیاحتی مقام پہلگام سے منسلک ہے ۔یہی حال بارہمولہ اور بڈگام اضلاع کا بھی ہے۔
پلوامہ کوکسی وقت کووڈ سے پاک قرار دیا گیاتھا ۔اسی طرح لداخ کو بھی کورونا سے آزاد قرار دیاگیا تھا لیکن وہاں نئے کیسوں نے سر اٹھالیاہے اور مسلسل نئے معاملات سامنے آرہے ہیں جبکہ گاندربل میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیںہے۔مطلب غرض یہ ہے کہ ابھی علاقوں کو کورونا سے متاثرہ یا کورونا سے آزاد قرار دینا قبل از وقت ہے ۔ابھی یہ وائرس پھیل رہا ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ کب کہاں پہ  یہ سرنکا لے ۔لہٰذا کسی بھی طور احتیاطی اقدامات نرم کرنے کی گنجائش نہیں ہے بلکہ ہمیں ہمہ وقت محتاط رہناہے۔دنیا کے کئی ممالک سے بھی اس بات کے پختہ ثبوت مل چکے ہیں کہ وہاں کورونا دوبارہ لوٹ کر آرہا ہے اور ان ممالک کے مطابق اب اس کی دوسری لہر مزید خطرناک ہوسکتی ہے کیونکہ وائرس اب اس ماحول سے ہم آہنگ ہوچکا ہے اور اس کا مدافعتی نظام مزید سخت ہوا ہوگا کیونکہ عوام کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔
اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ عوام کوبے پناہ مسائل درپیش ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ روزگا رکا ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے مسلسل نرمیوں کا اعلان کیاجارہا ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقہ کی روزی روٹی کا کوئی بندوبست ہوسکے لیکن ا سکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم معاش کی فکر میں کوروناکا شکار بن جائیں ۔کورونا ایک ایسا دشمن ہے جو نظر نہیں آرہا ہے اور صرف احتیاط ہی اس کے قہر سے بچاسکتی ہے ۔اگر حکومت کی جانب سے اعلان شدہ نرمیوں سے ہم استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیںتو بے شک کرسکتے ہیںاور یہ حق بھی بنتا ہے لیکن جس طرح ہم نے اب اس وائرس کو سرسری لیا ہے ،وہ موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔اس بات سے انکار کی چنداں گنجائش نہیں ہے کہ حالات کے پیش نظر جموں وکشمیر کے سبھی اضلاع میں 90فیصد عبور و مرور غیر ضروری ہے ۔
ہمیںسمجھ لینا چاہئے کہ یہ کوئی سیر سپاٹا کرنے کا وقت نہیںہے ۔اگر زندگی رہے گی تو شام اور صبح کے اوقات میں ہم پھر گھوم لیا کریں گے لیکن اگر اس گھومنے کے شوق نے ہمیں کورونا سے روبرو کروادیا تو ہم کیا کرسکتے ہیں۔ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔بے شک حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جارہے ہیں لیکن اب بھی اگر ہم نے ہوش کے ناخن لئے اور کورونا کا خوف کھا کر تمام لازمی احتیاطی اقدامات پر عمل کیا تو شاید ہمیں بہت جلد اس مصیبت سے نجات مل جائیے گی لیکن اگر ہم نے اسی لاپرواہی کا مظاہرہ جاری رکھا تو خدا نخواستہ یہ سفر کافی طویل ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی ہلاکت خیز ی بھی ۔اللہ پاک ہمیں عقل و شعور سے نوازے تاکہ ہم صحیح اور غلط میں تمیز کرسکیں۔
 

تازہ ترین