تازہ ترین

محتاج و مساکین کی امداد

جذبہ ٔ ہمدردی کے ساتھ ہوشیاری بھی لازمی

تاریخ    10 جون 2020 (00 : 03 AM)   


فدا حسین بالہامی
عالم بشریت آپسی تعاون و امداد پر منحصرہے ۔یہ آپسی معاونت جس قدر مستحکم، قوی اور گہری ہو، انسانی معاشرہ اسی قدرمتوازن ، پائیدار اور انسان پرور ہوگا۔اس لئے سب سے پہلے ایک آدمی کویہ اٹل حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی پس پیش نہ ہو کہ وہ تنہا ء زندگی نہیں گزار سکتا ہے ۔وہ کسی نہ کسی اعتبار سے دیگر آدمیوں کے تعاون کا محتا ج ہے اور اسی طرح دیگر افراد بھی اس کی معاونت کے طلبگار ہیں۔ یہ معاونت دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ ایک یہ کہ کوئی فردِ بشر کسی کا ہاتھ بٹائے تو دوسرے شخص کے لئے یہ لازمی ہو کہ وہ بھی کسی نہ کسی رنگ میں اپنے اس معاون و مددگار کا بدلہ چکائے جسے عمومی طور پر معاوضہ کہا جاتا ہے۔ مگر انسانی معاشروں میں بہت سی بے اعتدالیوں کی وجہ سے کچھ لوگ محض حاجت مند اور ضرورت مند ہو کر رہ جاتے ہیں۔جنہیں کوئی معاونت کرے تو وہ اس قدر کمزورو نحیف اور لاچار و لاغر ہوتے ہیں کہ معاوضہ چکا نے کی قدرت نہیں رکھتے۔ظاہر سی بات ہے کہ جن سے معاوضے کی کوئی توقع ہی نہ ہو ان کی امداد اس خود غرض دنیا میں کون کرے۔پس ان کی امداد کے لئے انسان کے اندر جذبۂ ہمدردی و ایثار کا پایا جانا لازمی ہے۔ بصورت دیگر معاشرے کا یہ نحیف و نزار (کسی بھی اعتبار سے) زندگی کا جنگ لڑے بغیر ہی ہار جائے گا۔ قدرت نے بھی جن بہترین اور بے نعم البدل نعمتوں سے انسان کو نوازا ہے ان میں ایک جذبۂ ہمدردی بھی ہے۔ یوں کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہو گا کہ جذبۂ ہمدری ہی انسانیت کی اصل پہچان ہے۔اس لحاظ سے جس فردِ بشر کا جذبۂ ہمدردی لالچ اور خود غرضی ملبے میں دب کرختم ہو جائے وہ ہرگز ہرگز انسان کہلانے کا حقدار نہیں ہو سکتا ہے۔ اس عظیم نعمت یعنی جذبہ ٔ ہمدری کو محفوظ رکھنے کے لئے قریب قریب تمام مذاہب و ادیان میں انتہائی تاکید دیکھنے کو ملتی ہے۔دینِ مبین اسلام میں بھی حقوق العباد کے ضمن میں ایک مسلمان کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ اس کی بندگی کا دارومدار نہ صرف حقوق اللہ کی ادائیگی پر منحصر ہے بلکہ حقوق العباد بھی اس کا جزوِ لاینفک ہے۔ دیکھا جائے تو خداوند ِ کریم ایک انسان کو اپنی بندگی میں پختہ تر دیکھنا چاہتا ہے تاکہ یہ بندہ اپنے اور اپنے ہم جنس انسانوںکے تئیں شفیق و مہربان واقع ہو۔بقول کسے۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو 
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیان
 جذبۂ ہمدردی کا اظہار مختلف طریقوں سے ہو سکتا ہے۔ اور ان طریقوں میں غریب و مفلس افراد کی مالی معاونت ایک معروف اور مستحسن طریقہ ہے۔ قرآن ِ کریم میں انفاق ،صدقہ ،زکوات اور خمس وغیرہ جیسے مدوں میں مال خرچ کرنے پر بہت زیادہ تاکید ملتی ہے۔ رسولِ اکرمؐ، ائمہ اہلبیت اور صحابہ کرام کی عملی زندگی میں بھی اس چیز کی کثرت سے تائید و توثیق دکھائی دیتی ہے۔سیرتِ پیغمبر کے متعلق یہ روایت بکثرت نقل کی گئی ہے ’کان اجود الناس بالخیر۔‘‘ (بخاری و مسلم)(آپ(پیغمبرِ اکرمؐ) تمام  انسانوں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔
 یقیناانفاق فی المال کی رغبت وستائش میں نہ صرف دین اسلام نے سبقت لی ہے بلکہ اس نے محتاج و مساکین تک امداد رسانی کے لئے ایک مکمل نظام کو وجود میں لایا ہے۔ جسے خمس و زکوات اور بیت المال وغیرہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے کسی بھی صاحبِ ایمان کے پاس غریب و مسکین افراد کی مالی مدد سے پہلو تہی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
 بہرحال مالی امداد بذات ِ خود قابل ِ تحسین عمل ہے لیکن اس کا اصل مدعا و مقصد مدنظر رکھے بغیر ہر نیک عمل کی طرح اس کا بھی سوئے استفادہ ہو سکتا ہے اور نتائج بالکل برعکس برآمد ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر مستحق افراد کو امداد کے ذریعے یہ باور ہو کہ چونکہ ان کے لئے چند افراد اپنی کمائی میں سے ایک حصہ خوشی خوشی صرف کر رہے ہیں لہٰذا انہیں اس حوالے سے فکرمند ہونے اور جد و جہد کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو یہ تاحیات مستحق ہو کر رہیں گے۔ اس طرح کی اعانت منفی نتیجہ پر منتج ہو گی  اور ایک مفلس کی مفلسی کو پختہ تر کردے گی۔کیونکہ ایسی صورت میں یہ لوگ اس اردو محاورے کے مصداق ہو جائیں گے کہ ’’جب خدا دے کھانے کو بلا جائے کمانے کو‘‘۔اس تناظر میں راہِ خدا میں خرچ کرنا انتا بھی آسان معاملہ نہیں ہے جتنا ہم سمجھ رہے ہیں۔ گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس کو انجام دینے کے لئے ہوشیاری سے کام لینا ہو گا ۔ خاص طور اس دور میں جب کہ گدائی ایک نفع بخش تجارت بن گئی ہے۔اجسمانی طور ناخیز افراد کو باضابطہ طور کسی فیکٹری کے مزدوروں کی طرح کام پر لگایا جاتا ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ کچھ ماڈرن اورپیشہ ور بھیک مانگنے والے گداگری کو  ڈیجیٹلائزکرنے میں مصروف عمل ہیں۔ ایسے میں اس بات کی چھان بین کرنا لاز می ہے کہ کہیں ہمارے خیرات و صدقات وغیرہ کی رقم گداگری کی تجارت کو فروغ تو نہیں دے رہی ہے؟۔
 موجودہ دور میں جبکہ حق افرادکی امداد رسانی کے لئے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا  وغیر ہ کا سہارا لیا جا رہا ہے،ایسے میں غربا اور مساکین کی مددکرنے والوں کو قدم پھونک پھونک کر اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سے پیشہ ور گدا گر بھی اس چیز سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ان ذرایع سے بھیک مانگنا نہات ہی آسان ہے ۔نہ گھر گھر جاکر دستک دینے کی ضرور ت ہے اور نہ ہی شہر بہ شہر دربدر ہونا لازمی ہے۔بس ایک پوسٹ تیار کردی جس کے پس منظر میں بے بسی اور لاچاری جھلک رہی ہو۔اور پھر اپنے بینک اکاونٹ جمع شدہ رقم کے گراف میں اضافے پر نظر جمائے بیٹھا رہے جس کا عملی مظاہرہ حالیہ ایام میں بھی دیکھنے کو ملا۔
تاہم جاریہ عالمگیر وباء کے دوران بھی جس طرح نام پوشیدہ رکھ کر لوگوں کی مدد کی گئی اور صرف بنک کھاتوں کا پتہ کرکے مستحقین کی دلجوئی کی ،وہ نہایت ہی امید افزا ہے کہ اس نفسا نفسی کے عالم میں بھی بہت سے ایسے مخیر حضرات بھی موجودہیںکہ جو نام و نمود سے بالا تر ہو کر انسانیت کا درد اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔جبکہ عمومی طور پر اس دورِ مادیت میں ہر مادہ پرست انسان بزبانِ حال یہی کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ ’’گر جان طلبی مضائقہ نیست ۔زر طلبی سخن در ایں است‘‘(یعنی اگر تو جان مانگے تو میری جان حاضر ہے۔ لیکن اگر روپیہ پیسہ مانگے تو مشکل ہے )۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جذبے کی قدر ہو اور ہر اعتبار  سے اسے ناجائز فائدہ اٹھانے کی راہیں مسدود ہوں۔ اس کیلئے لازمی ہے کہ ایک ایسا میکانزم تیار کیا جائے جس سے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے اور ایسے فریبی اور گدا گری کے خوگر افراد کو دودھ میں مکھی کی طرح نکال باہر کیا جائے جو راتوں رات بغیر محنت و مشقت کے دولت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ای میل :   fidahussain007@gmail.com
فون نمبر:   7006889184