تازہ ترین

جموں وکشمیر ہائی کورٹ کیلئے 250کنال اضافی اراضی حاصل

فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن اوریونیفائیڈ میٹروپولٹین ٹرانسپورٹ اتھاریٹیز کے قیام کو منظوری

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں //لیفٹیننٹ گورنر جی سی مرمو کی قیادت میں انتظامی کونسل کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ کیلئے سرینگر میں 250کنال اضافی اراضی کو منظوری دی گئی ۔یہ اراضی رکھ گنڈ آکھشے بمنہ سرینگر میں ہے جس کے ذریعہ عدالتی ڈھانچے بشمول نئے ہائی کورٹ کمپلیکس کو توسیع ملے گی۔قبل ازیں دسمبر2019میں بھی ہائی کورٹ کو 250کنال اراضی فراہم کی گئی تھی۔نئی اراضی نہ صرف ہائی کورٹ کمپلیکس کی تعمیر کیلئے درکارتھی بلکہ اس سے منسلکہ ڈھانچے جیسے میڈیشن سنٹر، آربی ٹریشن سنٹر،لیٹی گنٹ سہولت ،فوڈ کورٹ ،پولیس اور سیکورٹی ڈھانچہ ، سٹاف کے رہنے کی جگہ پارکنگ سہولت اور فائر اسٹیشن کی جگہ بھی حاصل ہوگی۔انتظامی کونسل نے جموں وکشمیر فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کو منظوری دی جو جموں وکشمیر سٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کی جگہ لے گا۔ فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا اندراج کمپنیز ایکٹ 2013کے تحت ایک کمپنی کے طور پر ہوگا۔میٹنگ میں فیصلہ لیاگیاکہ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز میں ایڈمنسٹریٹو سیکریٹریزمحکمہ جنگلات و ماحولیات ،محکمہ فائنانس، محکمہ صنعت و حرفت ، محکمہ دیہی ترقی، محکمہ قبائلی امور اور پرنسپل چیف کنزویٹرفاریسٹ اور منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایف ڈی سی شامل ہوں گے ۔یہ فیصلہ بھی لیاگیاکہ تحلیل شدہ کارپوریشن کے اثاثے اور واجبات نئے قائم کردہ کارپوریشن کو تفویض کئے جائیں گے اور پرانے کارپوریشن کا عملہ نئے کارپوریشن کے ساتھ کام کرتارہے گا۔انتظامی کونسل نے ماسٹر پلان کے تحت جموں اور سرینگر شہروں کیلئے یونیفائیڈ میٹروپولٹین ٹرانسپورٹ اتھاریٹیز کے قیام کو منظوری دی ہے ۔منظورہ شدہ ادارے چیف سیکریٹری کی قیادت میں کام کریں گے جبکہ اس میں ایڈمنسٹریٹوسیکریٹریزاور اہم محکمہ جات کے افسران اورماہرین بطور ممبران ہوں گے۔یہ نئے ادارے جموں وکشمیر میٹرپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز ایکٹ 2018کے تحت متعلقہ میٹرپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے طور پر کام کریں گے ۔یہ فیصلہ نیشنل اربن ٹرانسپورٹ پالیسی 2006کی رہنمائی میں دونوں بڑے شہریوں میں بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ جدید ٹرانسپورٹ سہولیات کی فراہمی کیلئے کیاگیاہے ۔اس کے کام کرنے سے ایک موثر، جدید اور مربوط نظام کو فروغ ملے گاجس میں لوگوں و اشیاء کی نقل و حرکت کیلئے گاڑیوں کے بجائے نان موٹر ٹرانسپورٹ ذرائع بھی شامل ہیں۔
 

تازہ ترین