تازہ ترین

لداخ تنازعہ پربھارت اور چین کے ما بین طویل میٹنگ

ہندوستان کا اپریل کی جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کا مطالبہ

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی// ہندوستان اور چین فوجی اور سفارتی سطحوں پر رابطوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ مشرقی لداخ میں موجودہ صورتحال کا حل نکالا جاسکے۔ جمعہ کو ہندوستان اور چین کی وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری سطح کی بات چیت میں دونوں جانب سے صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے مثبت اشارے دیئے گئے۔ وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری (مشرقی ایشیا) نوین شریواستو اور چینی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل وو چیانگاؤ کے مابین ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بات چیت کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان پرامن، مستحکم اور متوازن تعلقات موجودہ عالمی حالات میں استحکام کے لئے اہم ہیں۔سنیچر کوکے سینئر فوجی افسران نے مشرقی لداخ سیکٹر کے قریب ایک مہینے سے چلے آرہے تعطل کو ختم کرنے کی کوششوں پراہم اور طویل میٹنگ کی جس میں حقیقی کنٹرول لائن پر اپریل کی جوں کی توں حالت برقرار رکھنے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چین کی چوشول مولڈو سرحدی چوکی پر ہوئی میٹنگ کے بعد ہندوستانی وفد واپس لیہہ لوٹ آیاہے۔ لیہہ میں واقع 14 ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ کی قیادت میں گئے اس وفد میں فوج کے تقریباً 10 افسر شامل تھے۔ وفد اعلی قیادت کو بات چیت اور تعطل دور کرنے سے متعلق پیش رفت کے بارے میں واقف کرائے گا۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے میٹنگ کے دوران چین سے اس علاقے میں اپریل کی جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بات چیت میں چین کے جنوبی شیانگ فوجی ڈویڑن کور کے کمانڈر میجر جنرل لن نے چینی وفد کی قیادت کی۔دونوں فریقین کے مابین دوپہر تقریباً ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوئی میٹنگ شام تک چلی اور اس دوران حقیقی کنٹرول لائن پر گزشتہ ایک ماہ کے واقعات پر بحث مرکوز کی گئی۔ اس دوران ہندوستان کی جانب سے حقیقی کنٹرول لائن پر استحکام اور امن بنائے رکھنے سے متعلق مختلف سمجھوتوں کا ذکر کیا گیا۔ذرائع نے کہا کہ فوج کی اعلی قیادت میٹنگ کی جانکاری حاصل کرنے کے بعد وزارت خارجہ اور اعلی سیاسی قیادت کو اس سے واقف کرائے گی جس کے بعد آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔سنیچر کی شب نئی دہلی میں فوجی ہیڈکوارٹر سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے ’’ اس مرحلے پر قبل از وقت قیاس آرائیاں اور بغیر زمینی حقائق  جانے، رپورٹ کرنا مدد گار ثابت نہیں ہوگا، اور میڈیا کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی رپورٹنگ سے اجتناب کریں‘‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چین اور بھارت فوجی اور سفارتی سطح پر پہلے سے موجود چینلوں کے ذریعہ رابطے میں رہیں گے تاکہ مشرقی لداخ میں موجودہ صورتحال کو حل کیا جاسکے۔منگل کو فوج کی 3 ڈویژن کے سربراہ جو میجر جنرل رینک کے افسر ہیں، نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ اس معاملے پر بات کی تھی لیکن یہ بات چیت بے نتیجہ رہی تھی۔ اس کے بعد جمعہ کو اعلی سطح میٹنگ کا فیصلہ لیا گیا اس کے علاوہ بھی دونوں فریقین کے درمیان مختلف سطح کے افسران کی تقریباً 8 میٹنگیں ہوچکی ہیں۔حقیقی کنٹرول لائن پر خاص طور پر تین جگہوں پر دونوں فوجوں کے درمیان تعطل ہے اور تقریباً پچھلے ایک مہینے سے دونوں کے وہاں اچھی خاصی تعداد میں فوجیں تعینات کر رکھی ہیں۔فوج کی جانب سیصبح جاری ریلیز میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے افسران قائم کئے گئے فوجی اور سفارتی چینلوں سے سرحد پر پیدا صورتحال کا حل نکالنے کے لئے بات چیت کررہے ہیں۔
 

تازہ ترین