تازہ ترین

کورونا وائرس؛ مزید4 اموات، مہلوکین 40

3کمسن بچوں، سی آر پی ایف اہلکار اور 3پولیس جوانوں سمیت 143متاثر،کل تعداد3467

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


پرویز احمد
 سرینگر //جموں و کشمیر میں مزید4 متاثرین کی موت کے بعد وائر س سے مرنے والوں کی تعداد40ہوگئی ہے جن میں سے 5جموں جبکہ کشمیر میں فوت ہونے والے مریضوں کی تعداد35ہوگئی ہے۔سنیچر کو 3کمسن بچوں،ایک سی آر پی ایف اور 3پولیس اہلکاروں سمیت مزید 143مشتبہ مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں اور اس طرح جموں و کشمیر میں مریضوں کی تعداد 3467ہوگئی ہے۔جن میں سے 852جموں جبکہ2615کشمیر صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔سنیچر کو مثبت قرار دئے گئے143 افراد سے جموں کے 43جبکہ کشمیر کے 100افراد شامل ہیں۔( سرکاری بلیٹن میں صرف 143افراد  کے اعداوشمار ظاہر کئے گئے ہیں، تاہم سرکاری تفصیلات میں سکمز اور سی ڈی لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کئے گئے نمونے کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔سکمز نے دیر رات گئے از خود جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ 50مزید کیس مثبت آئے ہیں، تاہم سی ڈی لیبارٹری کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں)۔سنیچر کو مثبت قرار دیئے گئے معاملات میں سے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق3اننت ناگ،3 سرینگر، 3 کولگام، 9 بارہمولہ، 64 شوپیان، 4 بڈگام، 14بانڈی پورہ، 10 جموں،4رام بن، 6 ادھمپور، 11 کٹھوعہ، 3 پونچھ، 2 سانبہ، 4راجوری، ایک ڈوڈہ اور 2ریاسی سے ہیں۔

کورونا سے 4اموات

سنیچر کو جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے4 اموات ہوئیں ہیں جن میں3اموات کشمیر جبکہ جموں میں ایک شخص وائرس کا تازہ شکار بن گیا ۔صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر نذیر احمد چودھری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’70سالہ مریض کو جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات کو ہندوارہ سے صدر اسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ ایک گھنٹے کے بعد ہی فوت ہوگیا ‘‘۔ ڈاکٹر نذیر چودھری نے کہا ’’ مریض ہائی بلڈٖ پریشر، گرددوں کی بیمار اور نمونیا کی بیماری میں پہلے سے ہی مبتلا ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مریض قریب رات 3بجے فوت ہوگیا اور کورونا رپورٹ آنے تک اسکی لاش کو اپنے تحویل میں لیا گیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مریض کے لواحقین کو تدفین کے دوران احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی اور لاش کو تدفین کیلئے انکے حوالے کردیا گیا۔ سنیچر کو دوسری موت سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں واقع ہوگئی۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’ ضلع اسپتال شوپیان سے ایک 70سالہ مریض کو سنیچر کی صبح 7بجے منتقل کیا گیا لیکن وہ پہلے ہی نمونیا اور کورونا وائرس کا شکار تھا‘‘۔ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے بتایا کہ مریض کی موت دن کے 11بجکر 30منٹ پر ہوگئی‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ مریض کی موت کے بعد لواحقین کو تدفین کیلئے وضع کئے گئے قوائد و ضوابط کی جانکاری دی گئی اور لاش کو تدفین کیلئے گھر والوں کے حوالے کیا گیا ۔ سنیچر کو کورونا کی تیسری شکار جی ایم سی جموں میں زیر علاج میرن صاحب جموں کی رہنے والی ایک 62سالہ خاتون ہوگئی۔ جی ایم سی جموں اسپتال کی ڈپٹی مڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر کریتی بھوشن نے بتایا ’’ مذکورہ خاتون ہڈیوں کے درد کے علاوہ دل کے عارضے میں بھی مبتلا تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مریضہ کی رپورٹ 24مئی کو مثبت آیا تھا لیکن وہ سنیچر کو فوت ہوگئی۔ انہوں نے کا کہا کہ مریضہ کے آخری رسومات کے دوران احتیاط برتنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ ادھر سنیچر کو دیر شام گئے جے ایل این ایم اسپتال رعناواری میں برزلہ باغات کا ایک معمر شخص فوت ہوگیا ہے ۔ جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعناواری کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر جی این کسانہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’باغات برزلہ سے تعلق رکھنے والے ایک معمر شخص فوت ہوگیا ہے‘‘۔ ڈاکٹر کسانہ نے بتایا ’’ مذکورہ شخص کی رپورٹ چند دن قبل مثبت آئی تھی اور وہ  اسپتال میں زیر علاج تھا‘‘۔ڈاکٹر کسانہ نے بتایا ’’ اس وقت لواحقین کو تدفین کے قوائد و ضوابط کی جانکاری دے رہے ہیں اور اسکے بعد ہی لاش تدفین کیلئے لواحقین کو دی جائے گی‘‘۔ 

سی ڈی اسپتال 

سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں جمعہ کو94مشتبہ مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے 3اننت ناگ، 3سرینگر،3کولگام،9بارہمولہ،64شوپیان،4بڑگام اور 14بانڈی پورہ سے ہیں۔

 جے وی سی بمنہ

پرنسپل سکمز میڈیکل کالج بمنہ ڈاکٹر ریاض احمد ایتو نے بتایا ’’ چیف میڈیکل آفیسر بڑگام کی طرف سے بھیجے گئے 594نمونوں میں سے 5مثبت جبکہ589نمونے منفی قرار دئے گئے ہیں‘‘۔  انہوں نے کہا کہ ان پانچوں مریضوں کا تعلق ضلع بڑگام سے ہے۔ 

جموں

سنیچر کو جموں صوبے میں  مثبت  قرار دئے گئے 43مریضوں میں سے 30جی ایم سی جموں،2کور لیبارٹری،4مارڈر لیبارٹری، 4کرشنا لیبارٹری، 1آئی آئی ایم  اور2کی رپورٹیں کمانڈ اسپتال ادھمپورہ سے مثبت آئیں ہیں۔ 

سکمز صورہ 

(میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران 2257نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں سے 50مثبت جبکہ 2207نمونے منفی قرار دئے گئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’50مریضوں میں سے 33بارہمولہ،5سرینگر،4کپوارہ،3بانڈی پورہ،2پلوامہ، ایک کولگام، ایک اننت ناگ اور ایک کا تعلق  بڈگام ضلع سے ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ  ڈار پورہ لولاب کی رہنے والی 22اور 26سالہ دو لڑکیوںکی پورٹ مثبت آئی ہے۔ڈاکٹر جان نے بتایا کہ جی ایم سی بارہمولہ کی طرف سے بھیجے گئے نمونوں میں سے 33کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے 2روہامہ بارہمولہ،9ٹنگ پورہ پٹن،5گٹیار بارہمولہ،5خانپورہ بارہمولہ، ہیون بارہمولہ ایک، چیکلو بارہمولہ ایک اور ٹنگمرگ بارہمولہ سے ایک تعلق رکھتا ہے۔ ضلع اسپتال پلوامہ کے نمونوں میں سے راجپورہ پلوامہ کی ایک 5سالہ بچی اور شادی مرگ پلوامہ کی ایک34سالہ خاتون کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایم او سوپور  کے نمونوں میں سے ہتھ لنگو بارہمولہ5مریضوں ،نو پورہ جاگیر کا ایک 10سالہ ،1آدی پورہ بارہولہ،1سیلو بارہمولہ، اور کپوارہ کا ایک 29سالہ نوجوان شامل ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ چیف میڈیکل آفیسر سرینگر کے نمونوں میں سے 7کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے 2حیدرپورہ،1لال بازار،1حول سرینگر، 1بمنہ،1ہمہامہ بڈگام اور ایک کپوارہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا’’ سکمز صورہ میں حاصل کئے گئے نمونوں میں سے 3کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جن میں سے ایک مریض کا تعلق رفیع آباد بارہمولہ، ایک کولگام جبکہ ایک 40سالہ سی آر پی ایف اہلکار بھی شامل ہیں‘‘۔  انہوں نے کہا کہ ضلع اسپتال بانڈی پورہ سے موصولہ نمونوں میں سے 3کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں جن میں سے  پھٹکوٹ بانڈی پورہ کی 3سالہ کمسن بچی اور ایک 81سالہ معمر خاتون شامل ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ اس کے علاوہ  بانڈی پورہ کے وارڈ 6سے ایک 34سالہ شخص کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ عوامی رابطہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادوشمار میںبتایا گیا ہے کہ ابتک کل515مشتبہ مریضوں کا داخلہ کیا گیا جن میں سے432مریضوں کو قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد گھر روانہ کردیا گیا جبکہ54مثبت قرار دئے گئے مریضوں کو گھر بھیجا گیا ہے۔ابتک63303نمونوں کی تشخیص کی گئی ہے جن میں سے61445کو منفی قرار دیا گیا ہے جبکہ1058مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں۔ )

حکومتی بیان

 حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے143نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے100کا تعلق کشمیر صوبے سے اور 43 کا تعلق جموں صوبے سے ہیں اور اس طرح مثبت معاملات کی کل تعداد3,467تک پہنچ گئی ہے۔ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے3,467 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے 2,302سرگرم معاملات ہیں ۔ اب تک 1,126اَفراد شفایاب ہوئے ہیں ۔اِس دوران سنیچر مزید40 مریض صحتیاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے15 اور کشمیر صوبے کے 25 اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔جموں کشمیر میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد39تک پہنچ گئی ہے جس میں وادی کشمیر میں34جبکہ صوبہ جموں میں 5 اَفراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک 2,11,880ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  06؍جون2020ء کی شام تک 2,08,413نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اب تک2,08,650افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں 42,003 اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ53 اَفراد کو ہسپتال قرنطین میں رکھا گیا ہے۔2,302کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 57,045 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق1,07,208اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن کے مطابق ضلع اننت ناگ میں 385 مثبت معاملے سامنے آئے ہیںجن میں 217 سرگرم ہیں۔ 163 شفایاب ہوئے ہیں اور05 کی موت واقع ہوئی ہے۔کولگام میں366 مثبت معاملات پائے گئے ہیںجن میں311سرگرم معاملات ہیںاور 51صحتیاب ہوئے ہیںاور04 کی موت واقع ہوئی ہے۔اُدھر سری نگر میں اب تک کورونا وائرس کے 370 معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے218 سرگرم معاملات ہیں ۔143 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ09 کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ کپواڑہ میں 331مثبت معاملات درج کئے گئے ہیں اور 234 سرگرم معاملات ہیں اور95صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ 02 کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع بارہمولہ میں اب تک کورونامریضوں کی تعداد 317ہوئی ہیںجن میں سے 205سرگرم معاملات ہیں اور07مریضوں کی موت واقع ہوئی ہیںاور 105صحتیاب ہوئے ہیں۔بانڈی پورہ میں اب تک 194 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے57 سرگرم معاملات ہیں ، 136مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔اِدھرضلع شوپیان میں 346 مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں209 سرگرم ہیں اور 133صحتیا ب ہوئے ہیںجبکہ 04کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع بڈگام میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد اب تک 142ہوئی ہیںجن میں سے 70سرگرم ہیں اور70اَفراد صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ02 کی موت واقع ہوئی ہے ۔گاندربل میں کل 42مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں16 سرگرم معاملات ہیں اور 26 اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔پلوامہ ضلع میں کووِڈ ۔19کے 122 معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں109 سرگرم معاملات ہیں اور 13  مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح  جموں میں وائر س کے 200مثبت معاملات پائے گئے ہیں جن میں130سرگرم معاملات ہیں اور67صحت یاب ہوئے ہیںاور03 کی موت واقع ہوئی ہیجبکہ رام بن میں168معاملات سامنے آئے ہیںجن میں 148سرگرم معاملات ہیں اور20 شفایاب ہوئے ہیںجبکہ کٹھوعہ میں105مثبت معاملہ سامنے آئے ہیںجن میں 69 سرگرم معاملات ہیںاور 36اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں۔دریں اثنأاودھمپور ضلع میں اب تک کورونا مریضوں کی کُل تعداد 129 ہوئی ہیں جن میں سے 99معاملات سرگرم ہیں۔ 29اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔ ضلع سانبہ میں 57 مثبت معاملے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 34 سرگرم معاملات ہیں اور 23اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔اس طرح پونچھ میں68معاملے سامنے آئے ہیں جن میں 65سرگرم معاملات ہیں جبکہ03مریض شفایاب ہوئے ہیں۔راجوری ضلع میں کورونا کے اب تک52 مریض پائے گئے ہیںجن میں 47 معاملے سرگرم ہیں اور 05مریض شفایاب ہوئے ہیں اورریاسی میں بھی20 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں17سرگرم ہیں اور03 اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔ کشتواڑ میں17 مثبت معاملے سامنے آئے ہیں جن میں13 معاملے سرگرم ہیں اور04 مریض پوری طرح سے صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ ڈوڈہ میں 36 معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے 34معاملات سرگرم ہیں جبکہ ایک مریض پوری طرح صحتیاب ہوا ہے اور ایک مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔
 
 

مزید 3پولیس اہلکار وں میں وائرس 

متاثرہ اہلکاروں کی تعداد125ہوگئی

شاہد ٹاک
 
شوپیان// وادی میں مزید 3پولیس اہلکاروں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔جمعہ کو بھی ایک سب انسپکٹر سمیت 3اہلکار مثبت پائے گئے تھے۔ اس طرح کورونا متاثرین پولیس اہلکاروں کی تعداد125تک پہنچ گئی ہے۔سنیچر کو زینہ پورہ شوپیان پولیس سٹیشن میں تعینات 2پولیس اہلکاروں میں وائرس کی تصدیق ہوئی جنہیں بعد میں ائیسولیشن سینٹر میں منتقل کردیا گیا۔ ادھر وچی زینہ پورہ شوپیان میں بھی ایک پولیس اہلکار میں وائرس پایا گیا۔مذکورہ اہلکار سیکورٹی لائن بٹی مالو میں تعینات ہے، جس کے نمونے 3جون کو لئے گئے تھے۔وہ  رخصت پر گھرآیا ہوا تھا لیکن اسکا ٹیسٹ مثبت آیا اور اسے زینہ پورہ میں ہی ائیسولیشن سینٹر میں داخل کیا گیا۔ادھر جمعہ کو شوپیان پولیس لائنز میں تعینات ایک کانسٹیبل کا ٹیسٹ مثبت قرار دیا گیا تھا۔مذکورہ اہلکار جب چھٹی سے واپس آیا تو 3جون کو اسکا ٹیسٹ کیا گیا جو جمعہ کو مثبت آیا تھا۔جمعہ کو کپوارہ پولیس سٹیشن میں تعینات ایک سب انسپکٹر کا ٹیسٹ مثبت آیا جبکہ ڈسٹرکٹ پولیس لائنز کپوارہ میں تعینات آئی آر پی فورتھ بٹالین سے وابستہ ہیڈ کانسٹیبل بھی مثبت قرار دیا گیا ۔ ۔ضلع پولیس لائنز کے جس ہیڈ کانسٹیبل کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے وہ 10روز کیلئے رخصت پر گیا تھا اور واپسی پر اسکا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا۔قابل ذکر ہے کہ وادی میں کورونا وائرس سے متاثرہ پولیس اہلکاروں کی تعداد 125تک پہنچ گئی ہے ۔ وادی میں پہلے ہی کپوارہ ڈسٹرکٹ پولیس لائنز کے دو اہلکاروں، ماگام پولیس سٹیشن میں 8 ، بارہمولہ میں5، پولیس لائنز اننت ناگ  میں 78،کولگام پولیس کیمپ میں 21، دمحال ہانجی پورہ پولیس کیمپ میں ایک، بانڈی پورہ میں 2اہلکاروںکے علاوہ بڈگام پولیس لائنز میں 2اہلکار وں کے نمونے مثبت قرار پائے گئے تھے۔ ترہگام کپوارہ  میں 102بٹالین بی ایس ایف کیمپ میں تعینات 4اہلکاروں کو بھی وائرس ہوا ہے۔
 
 

بھارت سپین کو پیچھے چھوڑ کر پانچویں نمبر پر آگیا

  کل تعداد 2لاکھ 44ہزار،ملک میں ایک دن میں 9887 کیسزریکارڈ

یو این آئی
 
نئی دہلی//  بھارت کورونا وائرس سے سب سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر آگیا ہے۔ سنیچر کو بھارت نے سپین کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔  مرکزی وزارت صحت کے سنیچر کی صبح اعداوشمار کے مطابق بھارت میں 2لاکھ،44ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ سپین میں کل کیسز کی تعداد 2لاکھ 40 ہزار 978ہیں۔سنیچر کی صبح  9887کیسز سامنے آئے، جس سے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 2.44 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس عرصہ میں کورونا وائرس سے 294 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جس کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد 6642 ہوگئی ہے ۔ جمعہ کودنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں ہندوستان چھٹے مقام پر آگیا تھا ۔ اس نے اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا تھا جس کے جمعہ تک 2,34,531 افراد وبا سے متاثر ہیں جبکہ وہاں 33،774 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔بھارت میںنئے کیسز کے ساتھ متاثرین کی تعداد 236657 ہوگئی تھی ۔ اس مدت کے دوران مزید 294 افراد کی ہلاکتوں کے ساتھ مجموعی تعداد 6642 ہوگئی۔ اس وقت ملک میں کورونا کے 115942 فعال کیسز ہیں جبکہ 114073 افراد اس وبا سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرممالک کی فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر ہے ، جہاں اب تک 1،897،239 افراد متاثر ہوئے ہیں اور 1،09،042 افراد فوت ہوچکے ہیں۔ اس کے بعد برازیل 6.45 لاکھ) ، روس 4.50 لاکھ) ، برطانیہ 2.83 لاکھ)  اور ہندوستان 2.36 لاکھ) ہیں۔اس وبا سے ملک میں مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ تاہم گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ، متاثرین کی تعداد میں نسبتا کمی واقع ہوئی ہے اور 2436 نئے کیسز درج ہوئے ہیں جبکہ 139 افراد کی موت ہوچکی ہے ۔ ریاست میں اس وبا سے متاثرہونے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 80229 اور اس جان لیوا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 2849 ہوگئی ہے ۔ اس عرصے کے دوران ، ریاست میں 1475 افراد وبائی مرض سے شفایاب ہوچکے ہیں ، جس سے صحت مند افراد کی مجموعی تعداد 35156 ہوگئی ہے ۔کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے معاملہ میں تامل ناڈو دوسرے نمبر پر ہے ، جہاں متاثرین کی تعداد 28694 ہوگئی ہے اور 232 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ علاج کے بعد 15762 افراد کو مختلف اسپتالوں سے فارغ کردیا گیا ہے ۔کورونا کی وجہ سے قومی دارالحکومت دہلی کی بھی صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے دہلی ملک میں تیسرے نمبر پر ہے ۔ دہلی میں 26334 افراد متاثر ہوئے ہیں اور 708 ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ علاج کے بعد 10315 مریضوں کو اسپتالوں سے فارغ کردیا گیا ہے ۔

 

 

 کیسز میں دوگنا اضافہ کاخطرہ برقرار:ڈبلیو ایچ او

یو این آئی
 
جنیوا / نئی دہلی// عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کووڈ 19 وبا کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں ابھی اس وبا کے کیسز میں کوئی انتہائی دوگنا اضافہ نہیں ہوا ہے ، لیکن اس کے ہونے کا خطرہ برقرارہے اور اس لئے پوری احتیاط کی ضرورت ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ڈیزاسٹر پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل جے ریان نے کوڈ ۔19 پر ہونے والی یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ‘‘ہندوستان میں تین ہفتوں میں کیسز دوگنا ہو رہے ہیں اور اس طرح اس میں انتہائی اضافہ نہیں ہو رہا ہے ، بلکہ کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ’’۔ ہندوستان ، بنگلہ دیش ، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دوسرے گنجان آبادی والے ممالک میں وبائی صورتحال اب بھی دھماکہ خیز نہیں ہے ، بلکہ اس کے ہونے کا خطرہ برقرار ہے ۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر معاشرتی سطح پرکرونا انفیکشن شروع ہوجائے گا تو یہ بہت تیزی سے پھیلے گا۔
 

تازہ ترین