تازہ ترین

عارضی ملازمین کانئے بھرتی قوانین کی مخالفت کا اعلان

مطالبات پورے نہ ہونے پر خدمات معطل کرنے کا انتباہ

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   
(File Photo)

سید امجد شاہ
جموں //مختلف محکموں میں پچھلے کافی عرصہ سے خدمات انجا م دے رہے 60ہزار سے زائد عارضی ملازمین نے درجہ چہارم کیلئے نئے بھرتی قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے پورے جموں وکشمیر میں خدمات کی معطلی کا انتباہ جاری کیاہے ۔نئے بھرتی قوانین کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے مختلف محکمہ جات کے عارضی ملازمین نے متحدہوکر احتجاج کا منصوبہ بنایاہے اور ان کاکہناہے کہ اگر ان کی خدمات کو مستقل ملازمت میں تبدیل نہیں کیاگیاتو وہ احتجاج کریں گے۔جموں وکشمیر کیجول لیبررز یونائیٹڈفرنٹ کے کشمیر صوبہ کے صدر عمران پرے نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ ڈیلی ویجروں، کیجول لیبرروں، سیزنل لیبرروں، آئی ٹی آئی ورکروں، لینڈ ڈونرز،آئی ٹی آئی ورکروں اور نیڈ بیسڈ ورکروں و سی پی ورکروں کو نئے بھرتی قوانین کے نافذ ہونے پر خدشہ ہے کہ وہ روزگار سے محروم ہوجائیںگے اور ان کے گھروں کے 6لاکھ افراد کی روزی روٹی چھن جائے گی اس لئے 60ہزار سے زائد ان عارضی ملازمین نے یہ فیصلہ لیاہے کہ اگر ایس آراو64کے تحت ان کی خدمات کو مستقل نہ بنایاگیاتو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے کیونکہ وہ پچھلے بیس برسوں سے کام کررہے ہیں اوریہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی کہ انہیں آج بھی مستقل نہ کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے وضع کئے گئے نئے بھرتی قوانین کے تحت نہ ہی ان کی تعلیمی قابلیت ہے اور نہ ہی وہ اس مقابلے میں حصہ لینے کے اہل ہیں اس لئے ان کے ساتھ انصاف کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ انہیں ماہانہ 6700روپے ملتے ہیں اور اس کے بدلے میں کام مستقل ملازمین سے کہیں زیادہ لیاجاتاہے ۔انہوں نے انتباہ دیا’’ہم پانی ، بجلی کی سپلائی بند کردیں گے اور آبپاشی ، زرعی اوردیگر سرگرمیاں بھی ٹھپ کردی جائیں گی‘‘۔تنظیم کے جموں صوبہ کے صدر تنویر حسین نے بتایاکہ انہوں نے حکومت کو مطالبات پورے کرنے کیلئے ایک ہفتہ کی مہلت دی ہے اوراگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو ان کے پاس احتجا ج کے سواکوئی چارہ نہیںہوگا۔انہوں نے کہاکہ عارضی ملازمین میں احساس عدم تحفظ پایاجارہاہے اور انصاف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ایس آراو64کے تحت مستقل کیاجائے اور مستقل ملازمین کے فوائددیئے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر سرکار کم سے کم اجرت ایکٹ2019کو عملانے میں بھی ناکام ہوگئی ہے ۔