تازہ ترین

دوسری بَلا

کہانی

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


بلال بلالی
ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول پھیلا ہوا تھا۔ایسا خوف و دہشت کہ شہر کے سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ گئے تھے۔ہر ایک کی زبان پر بس اللہ کا نام تھا۔حامدہ بی بی کے آنگن میں دو تین ننھے منے بچے کھیل رہے تھے۔اسی دوران حامدہ بی بی چھوٹے گیٹ سے آنگن میں خالی ہاتھوں داخل ہوگئی۔آبدیدہ نگاہوں سے بچوں کی طرف دیکھا اور انہیں  اندر لے کر چلی گئی۔انہیں کمرے میں بیٹھا کر سمجھانے لگی کہ: 
’’آج سے باہر نکلنا بالکل بند۔‘‘
بچے حیران ہوکر ایک ساتھ پوچھ بیٹھے:
’’کیوں اماں جان،ایسا کیوں۔ ‘‘
یہ سن کرحامدہ اپنے بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیراتے ہوئے بولی:
’’میرے پیارو ہم جس شہر میں رہتے ہیں۔ یہاں ہمیشہ سے انسان قیدیوں کی طرح  اپنی زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ یہاں صرف حیوانوں کا دور دورہ چل رہا ہے۔مگر آج  باہر کچھ اسطرح ہو کا عالم ہے کہ شہر کی تمام سڑکیں،گلی اور کوچے سنسان ہیں،چرند و پرند تک بھی اپنے غاروں اور گھونسلوں میں چھپے ہوئے ہیں۔"
یہ سنتے ہی بچے جوف زدہ ہوگئے اور ماں سے لپٹ کر پوچھ بیٹھے: 
’’اماں جان ! آج تمام شہر اتنا سنسان کیوں ہے۔‘‘
حامدہ بی بی بچوں کے اصرار پر بول پڑی: 
’’شہر میں کوئی ہزاروں سال پراناخوفناک دیو نمودار ہوا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ پانی سے سخت نفرت کرتا ہے۔پانی کے قریب جانا تک پسند نہیں کرتا ہے۔ ‘‘
بچے: ’’اماں جان پھر کس طرح وہ اپنی پیاس بجھاتا ہے۔ ‘‘
اماں جان: ’’وہ انسانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھاتا ہے،اور دیکھنے میں اتنا خوفناک ہے کہ چرند و پرند تک خوف کے مارے چھپ جاتے ہیں۔‘‘
بچے یہ سن کر سہم گئے اور پوچھ بیٹھے:
’’کیا یہ پیاسا ہمارا بھی خون پی جائے گا۔ ‘‘
’’ویسے تو یہ رنگ،نسل،اور ذات پات نہیں دیکھتا. "ماں انہیں بتانے لگی۔ "مگر ہاں امید قوی ہے کہ یہاں ہمارے شہر میں اس کا زور نہیں چلے گا۔‘‘
’’لیکن اماں جان وہ کیسے۔؟‘‘
’’میری آنکھوں کے تارو! یہ پیاسا اپنی پیاس اسی پر بجھاتا ہے جو اپنے گھر ،اپنے آنگن سے باہر نکلتا ہے۔ہم تو کئی برسوں سے اپنے اپنے گھروں میں مقید ہیں،یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘
ماں اور بچے آپس میں محو گفتگو تھے کہ باہر آنگن میں زبردست غرانے کی خوفناک آواز بلند ہوئی۔
بچے خوف کے عالم میں ماں سے لپٹ گئے۔غرانے کی آواز قریب آنے لگی۔
بچے ڈر کے عالم میں پوچھنے لگے: ’’اماں جان یہ کیسی آواز ہے ‘‘
اماں جان خود بے حال! بچوں کو دلاسا دیتے ہوئی: ’’کوئی جانوار ہوگا ،گھبراو مت میں اسے بھگا دیتی ہوں۔‘‘ 
حامدہ بی بی لڑکھڑاتے ہوے قدموں سے کھڑکی کی جانب بڑھی اور کھڑکی کھول دی،باہر آنگن میں ایک دراز قد نیم آدم شکل کا عجیب و غریب اور ہیبت ناک بلا دکھائی دی۔ 
حامدہ بی بی پسینے سے شرابور مگر ہمت کرتے ہوئے پوچھ بیٹھی:
’’کون ہیں آپ اور کیا چاہئے۔‘‘
دراز قد نیم آدم بلا کی بھاری بھرکم آواز بلند ہوئی: ’’برسوں کا پیاسا ہوں پیاس بجھانے آیا ہوں۔‘‘
آواز سن کر حامدہ بی بی کی جان ہی نکل گئی۔آنکھوں سے اُمڈے آنسوئوں کو اپنی پھٹی پرانی ساڑھی سے پونچھ کر من ہی من میں سوچنے لگی کہ مجھے ہی اب اس کے پاس جانا  ہوگا۔ اگر اندر داخل ہوا تو بچے بھی موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔اسی اثنا میں پھر سے غرانے کی آواز آئی۔
حامدہ بی بی؛’’ٹھہرو اندر داخل مت ہو،یہاں پہلے سے ہی تاریکی چھائی ہوئی ہے،یہاں پر کونسی ایسی روشنی ہیں جو تم لوٹنے آئے ہو۔ ‘‘
تیزی سے چلتی ہوئی،بس دو تین شمعیں  روشن کرتی آئی ہوں،تم مجھے بجھا دو وہ خود بہ خود گل ہوجائیں گے،یہ کہتے کہتے کوٹھری کے دروازہ پر کھڑی ہو گئی،دراز قد ڈراونی آواز میں بولا:
"واپس قدم رکھو مرد کو آواز دو۔ مرد کا شکار کرنے میں مزا آتا ہے،اس میں تڑپنے پھڑکنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔جب مرد نہ ملے تب ہی عورتوں کا سرد لہو پینے  پر مجبور ہوجاتا ہوں۔"
حامدہ ’’شائد تمہیں مغالط ہوا ہے،جس شہر میں تم آئے ہو یہاں پہلے سے ہی ایک بلا چلی آ رہی ہے جو مردوں کو پچھلے کئی برسوں سے اپنا نوالہ بنا چکی ہے،کچھ ہی مہینوں پہلے میرا شوہر بھی اس کا نوالہ بن گیا۔‘‘
یہ کہتے کہتے حامدہ بی بی کی آنکھوں میں آنسو امنڈ آنا شروع ہوئے۔دراز قد بلا آنسو دیکھتے ہوئے غراتے ہوئے نکل پڑی ’’مجھے پانی سے نفرت ہے،مجھے پانی سے سخت نفرت ہے۔ ‘‘
 
لرامہ لنگیٹ ، کپواڑہ (جموں و کشمیر)
موبائل نمبر؛7006067138

تازہ ترین