تازہ ترین

جنگ ُیگوں کی

کہانی

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


مشتاق مہدی
دریا میں بے شمار قسم کی مچھلیاں ہیں اوراُنکے بیچ ایک جنگ مدتوں سے جاری ہے۔
سیاہ مچھلی سفید کی گھات میں۔۔۔زرد مچھلی سبز کو پیٹ میں اتارنے کی کوشش میں مصروف۔۔۔اور لال مچھلی کچھ تلاشتی ِ،اچھلتی تیز۔۔۔۔
دریا اپنے سفر میںرواں ہے۔
دوسرے علاقوں سے بھی دریا آگے بڑھ رہے ہیں۔ایک موڑ پر  دو  دریا آپس میںملتے ہیں ۔ایک سے ہوجاتے ہیںمگر کنارے کنارے ۔۔اپنی کہانی روانی جاری رہتی ہے ۔
د ریانے ایک موڑ کاٹ لیاہےسفید مچھلی سطح آب پہ آکے دور کا ایک منظر چُراتی ہے ۔اسے پانی کی رنگین لہروں پر سنہری  مچھلیوں کے چمکتے لہراتے ہوئے بدن  اچھے لگتے ہیں۔للچاتے ہیں ۔اپنی جانب بلاتے ہیں 
یکبارگی اس میں کچھ ترنگ سی آجاتی ہے۔ جسم و جاں میںایک حرارت سی بھرجاتی ہے۔
تھوڑا سااچھل کے وہ  آگے بڑھتی ہے اور اُسی پل سیاہ مچھلی اپنا بھاری منہ کھولے نمودار ہوتی ہے۔
سفید داہنی طرف مڑکے آگے نکلتی ہے۔لیکن مخالف مچھلی تیزی سے گھوم کر سامنے آکے دیوار سی بن جاتی ہے ۔
مجھے آگے جانے دو ۔۔۔سفید مچھلی کی آنکھوں میں التجا  ہے۔
میرے ہوتے ہوئے ایسا ناممکن ہے ۔۔۔۔۔سیاہ مچھلی غُراکر جبڑے سے وار کردیتی ہے ۔
اسطرح جنگ چھڑ جاتی ہے ۔
سیاہ مچھلی جسیم  ہے اور شاطر چالوں سے واقف بھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔سفید کا جسم زیادہ بھاری نہیںلیکن کمال کی پھرتی کا مظاہرہ کرتی ہے۔اپنی پوری قوت سے مقابلہ میںڈٹ جاتی ہے۔معرکہ تیز ہوجاتا ہے۔کبھی سیاہ کا پلڑابھاری دکھائی دیتا ہے اور کبھی سفیدکی جیت یقینی نظر آتی ہے۔ کچھ دیرتک پانی کی لہریں چیخنے چنگھاڑنے لگتی ہیں ۔پھر اچانک سطح آب پر خاموشی چھاجاتی ہے۔جیت سیاہ مچھلی کے حصے میں آتی ہے۔سفیدزخموں سے چور  لہولہان،تھکی ہاری سی واپس لوٹ جاتی ہے ۔  نیچے پانیوں میں۔۔۔۔۔!
یہ جنگ یُگوں سے جاری ہے 
سورج تماشائی ہے۔دریا سفر میں ہے۔سمندر کی جانب رواں۔۔۔۔ ایک مقام پردریا سوچتا ہے۔ مچھلیاں جو ٹوٹی ہیں،زخمی ہوئی ہیں،آدھے راستے سے لوٹ آئیں ہیں۔کیا یونہی سیاہ مچھلی سے قصاص لئے بغیر ہی مر ۔۔۔۔۔
اوراُسی پل سفید مچھلی کہیں سے نکل آتی ہے ۔ نظریں  ادھر اُدھر  دوڑاتی ہے۔سنہری مچھلیوںکے چمکتے  بدن دورلہراتے نظر آتے ہیں۔اُنکے علاقوں میں جاکے نزدیک سے انہیں دیکھنے کا ُاُسے مدتوں سے شوق تھا۔کچھ سوچ کے احتیاط سے آگے بڑھتی ہے ۔ابھی نصف ہی راستہ طے ہوا تھا کہ اچانک تھرّا  اٹھتی ہے۔سامنے تھو ڑے ہی فاصلے پرسیاہ مچھلی اپنا بھیانک منہ کھولے چٹان کی مانند کھڑی نظر آتی ہے ۔ساتھ ہی اُس کا لشکربھی۔۔۔۔
اُس نے بڑی مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ایک ڈُبکی لگادی۔۔۔نیچے گہرے پانیوں کی طرف تیزی سے دوڑی۔ ۔۔۔۔لشکر تعاقب میں نکلا۔
 رابطہ :مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرت بل سرینگر،فون نمبر9419072053
 

تازہ ترین