مسئلہ فلسطین اور امام خمینی

حقائق

تاریخ    6 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سید دلاور حسین
جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے ساتھ ہی ایک نئی دنیا سامنے آئی تاہم برطانوی سامراج نے اپنے پائوں سمیٹنے سے قبل برصغیر کی تقسیم اور دنیا بھر سے یہودیوں کو مجتمع کرکے مقدس سرزمین فلسطین پر ایک یہودی ریاست قائم کرکے دو ایسے مسائل کو جنم دیا جن پر نہ صرف کئی جنگیں لڑی گئیں بلکہ آج بھی کئی ممالک ان سے بری طرح سے متاثر ہورہے ہیں۔خاص طور پر بالفور معاہدے سے جنم لینے والے مسئلہ فلسطین نے عالم اسلام کیلئے ایک نئی پریشانی کھڑی کردی جس کا اسرائیلی ریاست کے باقی رہتے ہوئے کوئی حل دکھائی نہیں دیتاہے۔یورپ اور دیگر سامراجی طاقتوں کی مدد سے 1948میں اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کرلیاجو ہر گزرتے دن کے ساتھ وسیع ہی ہوتاجارہاہے جس کے نتیجہ میں لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر دوسرے ممالک میں مہاجرین کی زندگی بسر کرناپڑرہی ہے اور مسلمانوں کا قبلہ اول صہیونیوں کی دسترس میں جاچکاہے۔
اگرچہ ابتدامیں کچھ عرب ممالک نے فلسطین کو آزاد کروانے کیلئے اسرائیل کے خلاف جنگیں بھی لڑیں تاہم ہر ایک جنگ کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں سامنے آیا۔جہاں 1948میں ہونے والی جنگ میں مصر،شام،اردن،لبنان اور عراق کی افواج کا پوری طرح سے مسلح یہودی دستوں نے بھرپور مقابلہ کیا وہیں 1967 کی جنگ میں اسرائیلی ریاست نے مصر،عراق،اردن اور شام کے اتحاد کو بری طرح سے شکست سے دوچار کیااور امریکی مددسے اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ کر لیا اور مغربی بیت المقدس پر بھی اسرائیلی افواج کا قبضہ ہو گیا۔اسی طرح سے 1973میں مصروشام کے اتحاد نے اسرائیل کے ساتھ ایک اور جنگ شروع کی تاہم اس معرکے میں بھی عربوں کو شکست سے دوچار ہوناپڑااور اسرائیلی ریاست کا خاتمہ تو دورکی بات صہیونی دن بدن مضبوط ہی ہوتے گئے۔اپنی کمزوریوں اوربڑی طاقتوں کی اسرائیلی پشت پناہی کی وجہ سے ہر ایک جنگ میں ناکامی کے بعدمصرنے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی کا معاہدہ طے کرلیا جبکہ اردن کے ساتھ بھی صہیونی ریاست کے کئی معاملات طے پاگئے جس کے ساتھ ہی عربوں کی رہی سہی طاقت بھی ختم ہو گئی اور صرف شام و لبنان ہی دو ایسے عرب ممالک باقی رہے جنہوں نے اسرائیلی ناجائز قبضہ کے خلاف کچھ حد تک مزاحمت جاری رکھی لیکن اسرائیلی طاقت کے سامنے یہ دونوں ممالک بھی کچھ نہ کرپائے بلکہ الٹا اسرائیل نے جنوبی لبنان پر قبضہ کرلیا۔
خطے میں صورتحال ایسی بن گئی کہ اب فلسطین کانام لیوا بھی کوئی نہ رہا اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مظالم دن بدن بڑھنے لگے تاہم 1979میں ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہونے پر اہل فلسطین ہی نہیں بلکہ اسرائیل وامریکہ کی جارحیت کا شکار بننے والی دیگر اقوام و ممالک کو خطے کے اْس اہم ملک کی طرف سے زبردست حمایت ملی جو کل تک اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد کا ایک مرکز بناہواتھا اور جس کا بادشاہ رضا شاہ پہلوی اپنا ہر فعل امریکہ کی ایماپر انجام دیتاتھا۔بانی انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ سید روح اللہ خمینیؒ نے ایسے وقت میں مسئلہ فلسطین کوپھر سے عالمی مسئلہ بنادیا جب دنیا فلسطینیوں کو فراموش کرچکی تھی۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فوری بعدایران نے اسرائیل کے ساتھ تمام تر روابط منقطع کرتے ہوئے اس کی سفارتی ملکیت کوفلسطینیوں کے حوالے کردیااورپھرانقلاب کے پہلے سال ہی امام خمینی ؒنے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔یوم القدس ایک علامتی اعلان نہیں تھابلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو قبلہ اول اور اہل فلسطین کی آزادی کیلئے بیدار کرنے کی ایک نئی تحریک کاآغازتھا۔دراصل یہ وہ اعلامیہ تھاجس کے ذریعہ امام خمینی ؒکی زیرقیادت ایرانی حکومت نے فلسطین کے تئیں اپنی نئی پالیسی کا اعلان بھی کیا جس پر کاربند ہوکر امام خمینیؒ کی زندگی اور ان کی وفات کے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سربراہی میں ایران نے فلسطینیوں کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھی۔ ایران کی طرف سے نہ صرف اسرائیلی مظالم کے خلاف فلسطینی مزاحمت کاروں کو اپنے دفاع کیلئے تربیت دے کر مسلح کیاگیابلکہ ٹرمپ کی صدی کی ڈیل جیسے ہر اس سامراجی و صہیونی منصوبے کو ناکامی سے دوچار کیاگیا جس میں فلسطینیوں کی تحریک کو کمزور بناکر انہیں اسرائیلی حاکمیت تسلیم کرنے کا پروگرام رچاگیاتھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امام خمینیؒ نے مسئلہ فلسطین کاحل فلسطین کی سرزمین میں رہنے والے تمام پشتینی مسلمانوں،یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے ریفرینڈم کے ذریعہ اپنی خود مختار حکومت تشکیل دیناقرار دیاتھا تاہم اسرائیل گریٹر اسرائیل کی شکل میں ایک خالص یہودی ریاست بناناچاہتاہے جس کی سرحدیں ایک طرف ایران تودوسری طرف بحیرہ روم سے ملتی ہوں،اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک سے یہودی فلسطین پہنچ رہے ہیں جن کوفلسطینیوں کو بے گھر کرکے غیر قانونی طور پربستیاں تعمیر کرکے وہاں بسایاجارہاہے۔ایسے حالات میں فلسطینیوں کیلئے سوائے مزاحمت کے کوئی چارہ نہیں اوروہ مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں جو ایک دن انشاء اللہ فتح پر منتج ہوگی۔
 

تازہ ترین