تازہ ترین

۔285ایک دن کانیا ریکارڈ،3000کی حد عبور

۔ 20حاملہ خواتین اور 4کمسن بچے متاثرین میں شامل، نور باغ سرینگر کے شہری کی موت واقع،تعداد35 تک جا پہنچی

تاریخ    5 جون 2020 (00 : 03 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //جمعرات کونورباغ سرینگر سے تعلق رکھنے والے 60سالہ شہری کی موت کورونا سے ہوئی ہے۔ جموں و کشمیر میں وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 35ہوگئی ہے جن میں سے 4جموں جبکہ 31کشمیر صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جمعرات کو 20حاملہ خواتین،4کمسن بچوں سمیت مزید 285افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں اور اس طرح جموں و کشمیر میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد3142ہوگئی ہے جن میں سے 735جموں جبکہ 2407مریضوں کا تعلق کشمیر صوبے سے ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس تعداد میں 228مقامی سطح پر وائرس کا شکار ہوئے ہیں جبکہ صرف 57بیرون ریاستوں سے لوٹے ہیں۔  جمعرات کو مثبت قرار دئے گئے 285مریضوں میں سے 27اننت ناگ، 49کولگام، 25سرینگر، 19کپوارہ، 29بارہمولہ، 35شوپیان، 15بانڈی پورہ، 5بڈگام، 14پلوامہ،  14گاندربل، 11جموں، 3کٹھوعہ، 25ادھمپور، 4پونچھ، 3سانبہ، 6راجوری، 3ڈڈوڈہ، 3ریاسی اور 3کشتواڑ ضلع سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

کورونا سے موت

 نورباغ سرینگر سے تعلق رکھنے والا 60سالہ شخص کورونا وائرس کی وجہ سے سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں فوت ہوگیا اور اسطرح سرینگر میں مرنے والوں کی تعداد 8ہوگئی ہے۔سی ڈی اسپتال میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹرمحمد سلیم ٹاک نے بتایا ’’ 60سالہ شخص کو پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے صدر اسپتال سرینگرداخل کیا گیا تھا‘‘ ۔ڈاکٹر سلیم  نے بتایا ’’2 جون کو مذکورہ شخص کو صدر اسپتال میں داخل کیا گیا لیکن رپورٹ مثبت آنے کے بعد پیر کومریض کوسی ڈی اسپتال منتقل کیا گیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے کی وجہ سے وہ صحتیاب نہ ہوسکا اور جمعرات کو فوت ہوگیا ‘‘۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر شہر میں ابتک کورونا وائرس سے 8اموات ہوئی ہیں جن میںعلمگری بازار سرینگر کے رہنے والا باپ بیٹا بھی شامل ہے۔

سی ڈی اسپتال

 سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں پچھلے 24گھنٹوں کے دوران 1200نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں سے 135رپورٹیں مثبت آئیں جبکہ 1065نمونے منفی قرار دئے گئے۔ سی ڈی اسپتال میں موجود ذرائع نے بتایاکہ135نمونوں میں سے 40کولگام ضلع سے ہیں جن میں سے 22کیمو کولگام اور 18کے نمونے ضلع اسپتال کولگام سے موصول ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایس ڈی ایچ بجبہاڑہ کے نمونوں میں سے 9کی رپورٹ مثبت آئی جبکہ ایس ڈی ایچ ترال میں بھی 2افراد کی رپورٹیں مثبت قرار دی گئیں ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایس ڈی ایچ ککرناگ کے 7 جبکہ سب ضلع اسپتال ڈی ایچ پورہ میں2کی رپورٹ مثبت آئی۔ ذرائع نے بتایا کہ سب ضلع اسپتال سوپور میں 10 اورسب ضلع اسپتال جبکہ کیمونٹی ہیلتھ سینٹر کپوارہ کے 7مریضوں کی رپورٹ مثبت آئی۔ جی بی پنتھ اسپتال سرینگر میں 4بچوں کی رپورٹیں بھی مثبت آئی ہیں جبکہ صدر اسپتال سرینگر کے 4مریضوں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایس ڈی ایچ ترال میں 2مریضوں کی رپورٹ مثبت آئی ہے جبکہ دو کمیٹی ہیلتھ سینٹر اچھہ بل کے مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔

سکمز 

میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے بتایا ’’ پچھلے 24گھنٹوں جے دوران1983نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں سے 33مثبت جبکہ 1950رپورٹیں منفی آئی ہیں‘‘۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ33میں سے19 بارہمولہ جن میں سے8 خانپورہ ،4گنٹہ مولہ،3شتلو رفیع آباد،1ملت کالونی، 1وتترگام ، ایک،1چریدارا کریری اور ایک ریبن سوپور اور ایک ملت کالونی بارہمولہ سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ کے 5 مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں، ان میں سے 4نبرپورہ بانڈی پورہ  اور ایک پٹھکوٹ بانڈی پورہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر جان نے بتایا کہ اننت ناگ ضلع میں 3کی رپورٹیں مثبت قرار دی گئی جن میں سے ایک تلہد اننت ناگ ،ایک لاری پورہ پہلگام اننت ناگ اور ایک نوشہر اننت ناگ سے تعلق رکھتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ سی ایم او سرینگر کی طرف سے بھیجے گئے نمونوں میں سے 3کی رپورٹ مثبت آئی جن میں 2سرینگر اور ایک کولگام سے تعلق رکھتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ سرینگر کے 2مریضوں میں سے ایک کا  بٹہ مالو سرینگر اور ایک کا تعلق ایچ ایم ٹی سرینگر سے ہے۔  انہوں نے کہا کہ کپوارہ ضلع کے زچلڈارہ نامی گائوں کی ایک 28سالہ خاتون کی رپورٹ بھی مثبت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کولگام کے ایک 27سالہ نوجوان کی رپورٹ بھی مثبت آئی ہے۔  انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ عوامی رابطہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادوشمار میںبتایا گیا ہے کہ ابتک کل504مشتبہ مریضوں کا داخلہ کیا گیا جن میں سے432مریضوں کو قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد گھر روانہ کردیا گیا جبکہ54مثبت قرار دئے گئے مریضوں کو گھر بھیجا گیا ہے۔ ابتک57683نمونوں کی تشخیص کی گئی ہے جن میں سے56709کو منفی قرار دیا گیا ہے جبکہ947مریضوں کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں۔ 

جے وی سی بمنہ

 سکمز میڈیکل کالج بمنہ کے پرنسپل ڈاکٹر ریاض احمد ایتو نے بتایا ’’ پچھلے 24گھنٹوں کے دوران 622نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں سے 19کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جبکہ603منفی قرار دی گئیں ہیں‘‘۔ڈاکٹر ریاض نے بتایا ’’ضلع بڑگام سے موصول ہونے والے 481نمونوں میں سے2کی رپورٹیں مثبت آئیں ہیں جبکہ 479رپورٹیں منفی آئیں ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ضلع شوپیاں سے 141نمونے موصول ہوئے اور ان میں سے 17مریضوں کی رپورٹیں مثبت قرار دی گئیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ388 نمونے ابھی زیر تشخیص ہیں۔ 

جموں

جموں میں مثبت قرار دئے گئے 63 مریضوں 54 کمانڈ اسپتال جموں، 9جی ایم سی جموں،2کرشنا لیبارٹری، ایک آئی آئی ائی ایم سرینگر اور ایک کی رپورٹ مارڈر لیبارٹری سے مثبت قرار دی گئی ہیں۔ 

حکومتی بیان

حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے285نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے222کا تعلق کشمیر صوبے سے اور 63 کا تعلق جموں صوبے سے ہیں اور اس طرح مثبت معاملات کی کل تعداد3,142تک پہنچ گئی ہے۔حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے3,142 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے 2,059سرگرم معاملات ہیں ۔ اب تک 1,048اَفراد شفایاب ہوئے ہیں ۔اِس دوران آج مزید41 مریض صحتیاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے24 اور کشمیر صوبے کے 17 اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔جموں کشمیر میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد35تک پہنچ گئی ہے جس میں وادی کشمیر میں31جبکہ صوبہ جموں میں 4 اَفراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک 1,95,677ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  04؍جون2020ء کی شام تک 1,92,535نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اب تک1,97,350افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں 42,195 اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ38 اَفراد کو ہسپتال قرنطین میں رکھا گیا ہے۔2,059کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 53,745 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق99,278اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن کے مطابق ضلع اننت ناگ میں 377 مثبت معاملے سامنے آئے ہیںجن میں 217 سرگرم ہیں۔ 155 شفایاب ہوئے ہیں اور05 کی موت واقع ہوئی ہے۔کولگام میں362 مثبت معاملات پائے گئے ہیںجن میں308سرگرم معاملات ہیںاور 50صحتیاب ہوئے ہیںاور04 کی موت واقع ہوئی ہے۔اُدھر سری نگر میں اب تک کورونا وائرس کے 344 معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے193 سرگرم معاملات ہیں ۔143 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ08 کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ کپواڑہ میں 318مثبت معاملات درج کئے گئے ہیں اور 235 سرگرم معاملات ہیں اور82صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع بارہمولہ میں اب تک کورونامریضوں کی تعداد 301ہوئی ہیںجن میں سے 190سرگرم معاملات ہیں اور07مریضوں کی موت واقع ہوئی ہیںاور 104صحتیاب ہوئے ہیں۔بانڈی پورہ میں اب تک 176 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے39 سرگرم معاملات ہیں ، 136مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔اِدھرضلع شوپیان میں 240 مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں125 سرگرم ہیں اور 112صحتیا ب ہوئے ہیںجبکہ 03کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع بڈگام میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد اب تک 129ہوئی ہیںجن میں سے 60سرگرم ہیں اور67اَفراد صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ02 کی موت واقع ہوئی ہے ۔گاندربل میں کل 41مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں15 سرگرم معاملات ہیں اور 26 اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔پلوامہ ضلع میں کووِڈ ۔19کے 119 معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں106 سرگرم معاملات ہیں اور 13  مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح  جموں میں وائر س کے 178مثبت معاملات پائے گئے ہیں جن میں124سرگرم معاملات ہیں اور52صحت یاب ہوئے ہیںاور02 کی موت واقع ہوئی ہیجبکہ رام بن میں153معاملات سامنے آئے ہیںجن میں 137سرگرم معاملات ہیں اور16 شفایاب ہوئے ہیںجبکہ کٹھوعہ میں83مثبت معاملہ سامنے آئے ہیںجن میں 55 سرگرم معاملات ہیںاور 28اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں۔دریں اثنأاودھمپور ضلع میں اب تک کورونا مریضوں کی کُل تعداد 97 ہوئی ہیں جن میں سے 67معاملات سرگرم ہیں۔ 29اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔ ضلع سانبہ میں 51 مثبت معاملے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 30 سرگرم معاملات ہیں اور 21اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔اس طرح پونچھ میں63معاملے سامنے آئے ہیں جن میں 61سرگرم معاملات ہیں جبکہ دو مریض شفایاب ہوئے ہیں۔راجوری ضلع میں کورونا کے اب تک46 مریض پائے گئے ہیںجن میں 41 معاملے سرگرم ہیں اور 05مریض شفایاب ہوئے ہیں اورریاسی میں بھی17 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں14سرگرم ہیں اور03 اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔ کشتواڑ میں17 مثبت معاملے سامنے آئے ہیں جن میں14 معاملے سرگرم ہیں اور03 مریض پوری طرح سے صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ ڈوڈہ میں 30 معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے 28معاملات سرگرم ہیں جبکہ ایک مریض پوری طرح صحتیاب ہوا ہے اور ایک مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔
 

 سینئر بیروکریٹ سمیت 4اعلیٰ افسران کی رپورٹ منفی 

جموں /سید امجد شاہ/کورونا وائرس کا شکار ہونے والے سینئر آئی اے ایس افسر کی دوسری کورونا رپورٹ منفی آئی ہے جبکہ 3سرکردہ دیگر افسران کی رپورٹوں کے نتائج بھی منفی قرار دیئے گئے ہیں ۔متاثرہ افسر نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے منعقدہ میٹنگوں میں حصہ لیاتھا جس کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔انہیں کٹرہ کے نارائن ہسپتال میں آئیسو لیشن میں رکھاگیاتھاجبکہ6آئی اے ایس افسران سمیت 30افسران نے خود کو قرنطین کرلیا جن کے بھی کورونا نمونے لئے گئے ۔سینئر بیروکریٹ کا دوسرا ٹیسٹ آرمی کمانڈہسپتال اودھمپور میں لیاگیاجہاں اس کی رپورٹ منفی آئی ہے۔ فوج کے ایک افسر نے بتایا’’آج دو رپورٹوں کے نتائج آئے ،جن میں سے ایک کی رپورٹ پہلے سے ہی منفی تھی جبکہ آئی اے ایس افسر کی رپور ٹ بھی منفی آئی ہے جس کی پہلی رپورٹ مثبت آئی ‘‘۔
 
 

 ہندوارہ ضلع اسپتال کا میڈیکل آ فیسراورچاڑورہ میں لیب ٹیکنیشن معطل

اشرف چراغ 
 
ہندوارہ+بڈگام//ضلع اسپتال ہندوارہ میں تعینات میڈیکل آفیسر اور چاڑورہ بڈگام میں تعینات لیب ٹیکنیشن کو معطل کردیا گیا ہے۔ ہندوارہ ضلع اسپتال میں تعینات میڈیکل آفیسر انچارج آر آر ٹی کو اس بنا پر معطل کر دیا گیا کہ وہ کورونا وائرس ڈیوٹی کے دوران اپنی ڈیوٹی میں لا پرواہی کا مرتکب ہوتا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہو ں نے کورنٹین سنٹر میں رکھے گئے 8افراد کو بغیر ٹیسٹ رخصت کیا۔ بلاک میڈیکل آفیسر ہندوارہ نے ڈاکٹر کی اس غفلت شعاری کی رپورٹ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ کو پیش کی جس کے بعد میڈیکل آفیسر کی اس لاپراہی پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ نذیر احمد میر نے انہیںایک حکم نامہ زیر نمبر ADMAH/20/87/91 کے تحت فوری طور تا حکم ثانی معطل کر دیا ۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یامعطل شدہ ڈاکٹر لاپرواہی کا مرتکب پایا گیا ،جبکہ ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جو اس ساری صورتحال سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ انتظامیہ کو پیش کرے گی ۔ادھردربگ چاڑورہ میں ایک ٹی سٹال مالک کے اس دعویٰ کہ اسکا ٹیسٹ نہیں لیا گیا لیکن اسکے نمونے مثبت قرار دیئے گئے، کی شکایت کا نوتص لیا گیا اور لیب ٹیکنیشن  نثار احمد گنائی سے وضاحت طلب کی گئی۔لیب ٹیکنیشن نے الزام مسترد کیا اور کہا کہ نمونے اسکے گھر سے لئے گئے۔چیف میڈیکل آفیسر بڈگام ڈاکٹر تجمل حسین نے کہا کہ کورونا پروٹوکال کے برعکس نمونے گھر سے نہیں لئے جاسکتے۔ اس لئے لیب ٹیکنیشن کو فوری طور پر معطل کیا گیا۔