تازہ ترین

کشمیری عوام اور پے در پے آفات

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

تاریخ    5 جون 2020 (00 : 03 AM)   


اسے بدقسمتی کہئے گا یا پھر کچھ اور ،لیکن سرمنڈاتے ہی اولے پڑگئے کے مصداق کشمیریوں کے ساتھ اب یہ تقریباً معمول بن چکا ہے کہ اُن کی دہلیز پر جب بھی کوئی اچھی خبر دستک دینے پہنچ جاتی ہے تو بری خبروں کا ایک ایسا طوفان امڈ آتا ہے کہ یہ اس چھوٹی سی اچھی خبر کو کچھ اس طرح اپنی لہروں میں گم کردیتی ہے جیسے اس خبر کا جنم ہی نہ ہوا ہو۔سالہاسال سے ابھی یہی سلسلہ چل رہا ہے ۔خوشگوار ہوا کے جھونکوںکی طرح کبھی کبھار کانوںمیں رَس گھولنے والی خبر اگر آبھی جاتی ہے لیکن ابھی اس خبر پر خوشیاںمنانے کی نوبت ہی نہیں آتی کہ پھر مصیبتوںکا ایک پہاڑ ہم پر ٹوٹ پڑتا ہے ۔لوگ اس دردناک سلسلے کو کچھ بھی نام دے سکتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار کی چنداںگنجائش نہیں کہ بری خبروں اور ہیبت ناک پیش رفتوں کے اس نہ ٹوٹنے والے سلسلہ نے اب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور کافی حد تک اب لوگوںکی ہمت بھی جواب دے چکی ہے کیونکہ وہ ایک مسئلہ سے نکلے ہی نہیں ہوتے ہیں کہ دوسرا مسئلہ انہیں لپیٹ میںلے لیتا ہے ۔
حالیہ ایام بھی اسی سلسلے کی منظر کشی کررہے ہیں۔سال ِ رفتہ سیاسی لاک ڈائون کی نذر ہوگیا۔کمائی ہوئی ہی نہیں ۔ہر شعبہ زندگی مفلوج رہا ۔پھر رہی سہی کسر جھاڑے کے موسم نے پوری کردی ۔اب جب امسال بہار آتے آتے یہ اُمید بندھ گئی تھی کہ شاید سابقہ نقصانات کی بھرپائی ہو لیکن پھر وہی سر منڈاتے ہی اولے پڑ ے کے مصداق اس بات طبی لاک ڈائون نے آ گھیرا جبکہ ڈیجیٹل لاک ڈائون ،جو گزشتہ برس سے جاری ہے ،ابھی ختم ہونے کا نام نہیںلے رہا ہے اور اس ڈیجیٹل لاک ڈائون نے طبی لاک ڈائون کے اثرات کو مزید سنگین کردیا ہے ۔گوکہ آج کا لاک ڈائون پھربھی عالم گیر نوعیت کا ہے تاہم مقامی معیشت پر اس کے جس قدر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں،اُن کو کم کیاجاسکتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ارباب بست و کشاد کی بے تُکی منطق کی وجہ سے ہم نے اس بحران کو کم کرنے کی بجائے اس کو مزید سنگین بنادیا ہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جموںوکشمیر ،خاص کر وادی کشمیر میں زندگی کا کوئی بھی شعبہ سالم حالت میں نہیں رہا ہے بلکہ اگر یوں کہاجائے کہ سارے شعبہ جات جان کنی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں تو بیجا نہ ہوگا۔
یہ وقت ہمارے یہاں باغبانی صنعت کے ابتدائی موسمی فصلوں گیلاس اور اشٹابری کی کاشت کا ہوتا ہے لیکن قریب2000ہزار کروڑ مالیت کی یہ صنعت دم توڑ رہی ہے کیونکہ گیلاس کا کوئی خریدار ہے اور نہ اشٹابری کا۔اس پر ستم یہ کہ یہ دونوں فصلیں انتہائی نازک ہیں اور ان پھلوں کی عمر نہایت ہی قلیل ہے ۔ہمارے گیلاس باغات میں سڑ رہے ہیںاور اشٹابری کے خریدار نہیں ہیں۔گوکہ مقامی سطح پر کہیں کہیں سڑک کے کناروں پر عاضی چھاپڑیاں لگا کر گیلاس اور اشٹابری کے ڈبوں کو خریداری کیلئے نمائش کی خاطررکھاگیا ہے لیکن یہ چھاپڑیاں بھی سنسان ہیں ۔اس کی وجہ ایک تو بہت کم عوامی نقل وحرکت ہے اور دوسری سب سے بڑی اور اہم وجہ شاید لوگوںکا قوت خرید سے عاری ہونا ہے کیونکہ مسلسل لاک ڈائون نے لوگوںکو معاشی طور نڈھال کرکے رکھ دیا ہے ۔یہی حال گُلبانی کے شعبے کا بھی ہے ۔ہمارے پھول کی نرسریوں میں پھولوںکی کیاریاں تیار بہ تیار ہیں لیکن لینے والاکوئی نہیں ہے ۔ایسا لگ رہا ہے جیسے لوگوں دلچسپی ہی ختم ہوچکی ہے اور وہ مزید زینت ِ گلشن کے روادار نہیں رہے ہیں۔تاہم بات یہ نہیں ہے ۔دراصل یہاںبھی وہی معاملہ ہے کہ جب پیسے ہی نہ ہو تو گلشن کی رعنائیوںکا کیا کریں۔جب دل ہی بجھ گیا تودنیا کی کوئی خوبصورتی انسان کو پُر سکون نہیں کرسکتی ۔
یہ آفتیں شاید کچھ کم ہی تھیں کہ گزشتہ دو ایک ہفتوں سے ناساز گار موسمی حالات سے خلاصی نہیں ہوپارہی ہے ۔وقفہ وقفہ سے شمال تا جنوب شدیدبارشوںکے ساتھ قہر انگیز ژالہ باری نے زرعی فصلوں کے کھیتوں اور میوہ باغات میں تباہی مچا دی ہے ۔مطلب بات گھوم پھر کر وہیں پہنچ گئی کہ جب پھر بہتر فصل کی امید لیکر امسال کچھ کمائی کی اُمیدپیدا ہوگئی تھی تو آسمان سے برسنے والوںنے اُن امیدوںکو زمین بوس کردیا۔چوٹ پہ چوٹ اتنی گہری لگتی ہی چلی جارہی ہے کہ اٹھنے کی سکت بھی باقی نہیں رہ سکتی لیکن اللہ کا احسان ہے کہ کشمیری ایک زندہ قوم ہیں اور انہوںنے ہر دو ر میں مصائب و آلام کا مردانہ وار مقابلہ کرکے ہمیشہ وجود کے کھنڈرات پرزندگی کے نئے محل کی نیو رکھی اور پھر اینٹ پر اینٹ چڑھاتے رہے ،حتی ٰ یہاں تک پہنچ چکے اور اگر خالق کائنات کو منظور رہا ،تو آگے بھی چلتے رہیںگے لیکن شاید ساری آفتوں کیلئے غیروں کو قصور وار ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ اب وقت آچکا ہے جب ہمیں اپنے گریباں میں بھی جھانک کر خود احتسابی سے کام لیناپڑے گا تاکہ اصلاح احوال سے کام لیکر ہم اپنی صفوں کو درست کرسکیں ،جس میں ہماری نجات کا راز پنہاں ہے۔