تازہ ترین

حکومت نے سیفٹی ایکٹ ہٹا دیا

شاہ فیصل، سرتاج مدنی اور منصور 10ماہ بعد رہا

تاریخ    4 جون 2020 (00 : 03 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر //شاہ فیصل ، سرتاج مدنی اورپیرمنصور پر عائدپبلک سیفٹی ایکٹ کو جموں کشمیر سرکار نے ہٹادیا، جس کے بعد تینوں کی رہائی عمل میں لائی گئی۔البتہ شاہ فیصل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خانہ نظر بند ہیں ۔9ماہ سے نظر بند سابق آئی اے ایس افسر شاہ فیصل سمیت پی ڈی پی کے دو رہنمائوں پیر منصور اور سرتاج مدنی پر عا ئد پبلک سیفٹی ایکٹ بدھ کے روز ختم کیا گیااور ان کی رہا ئی عمل میں لا ئی گئی۔ تینوں لیڈران کو پانچ اگست کے بعد پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا تھا۔تینوں لیڈران کو دوپہر کے وقت رہا کیا گیا۔ ڈاکٹر شاہ فیصل اور پیر زادہ منصور کو ایم ایل اے ہوسٹل سے رہا گیا گیا جبکہ سرتاج مدنی گپکار گیسٹ ہاوس  میں زیر حراست تھے۔ ڈاکٹر شاہ فیصل کے کئی ایک فوٹو بھی فیس بک پر اپلوڈ کئے گئے جہاں ان کے چاہنے والوں نے اُن کی رہائی پر انہیں مبارک باد پیش کی ۔واضح رہے کہ گذ شتہ سال پانچ اگست کے  بعد کشمیر میں بیشتر ہند نواز سیاسی رہنمائوں بشمول تین سابق وزرائے اعلی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا تھا۔اگرچہ دیگر رہنماوں کو انتظامیہ نے وقتا فوقتا رہا کیا لیکن شاہ فیصل، سرتاج مدنی،  پیرمنصور ، علی محمد ساگر ، نعیم اختر اور ہلال لون فی الحال قید میں ہی تھے ۔بدھ کے روزڈاکٹر شاہ فیصل ، سرتاج مدنی اورپیرمنصورپر لاگوپبلک سیفٹی ایکٹ ہٹاتے ہوئے ا ن تینوں کی رہائی عمل میں لائی گئی۔شاہ فیصل  نے سماجی رابطہ گاہ فیس بک پر پوسٹ میں لکھا ’’ میں دس ماہ کی نظر بندی کے بعد گھر پہنچا ہوں، یہ ہم سب کیلئے بہت ہی مشکل وقت رہا، جو چیز ہمیں نہیں مارتی ہے وہ ہمیں مضبوط بناتی ہے‘‘ ۔ انہوں نے لکھا  ’’ میں ان سب کا شکرگزار ہوں ،جنہوں نے میری حمایت کی اور میرے لئے بات کی‘‘ ۔انہوں نے لکھا ’’ میں ابھی گھر میں نظر بند رکھا گیا ہوں، نیز میں کووڈ 19کی وجہ سے فی الحال اپنے خیر خواہوں سے نہیں مل سکوں گا ۔اُمید کرتا ہوں کہ جلد ملاقات ہو گی‘‘ ۔
 

عمر کا خیر مقدم 

محبوبہ ،ساگر کی رہائی کا مطالبہ

اشفاق سعید
 
 سرینگر //نیشنل کانفرنس نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جنہیں رواں برس 24 مارچ کو طویل نظربندی کے بعد رہا کیا گیا، نے شاہ فیصل سمیت تین لیڈران کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے دیگر لیڈران کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا: 'یہ جان کر خوشی ہوئی کہ شاہ فیصل، پیر منصور اور سرتاج مدنی کو بے سبب کی پی ایس اے نظربندی سے رہا کیا گیا ہے۔ اس بات کا دکھ ہے کہ محبوبہ مفتی، ساگر صاحب اور ہلال لون بدستور بند رکھے گئے ہیں۔ اب ان کو بھی رہا کیا جائے'۔