پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تعلیمی ادارے بھارت میں غیر تسلیم شدہ

کشمیری طلاب داخلہ نہ لیں: حکومت ہند

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
سرینگر// مرکزی زیرانتظام علاقوں جموں وکشمیر اور لداخ کے طلبا سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان زیر انتظام کشمیر کے تکنیکی و غیر تکنیکی تعلیمی اداروں میں داخلہ نہ لیں کیونکہ یہ تعلیمی ادارے ہندوستان میں تسلیم شدہ نہیں ہیں۔آل انڈیا کونسل برائے تکنیکی ایجوکیشن کی طرف سے جاری ایک پبلک نوٹس، جس کو منگل کے روز جموں وکشمیر کے کئی روزناموں میں شائع کیا گیا، میں جموں و کشمیر اور لداخ مرکزی زیرانتظام علاقوں کے طلبا کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پاکستان زیرانتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں اورتکنیکی تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے سے گریز کریں کیونکہ یہ تعلیمی ادارے نہ ہی بھارتی حکومت نے قائم کئے ہیں اور نہ انہیں متعلقہ اتھارٹیز تسلیم کرتی ہیں۔اے آئی سی ٹی ای کی پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے،’’'پاکستان زیرانتظام کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور وہاں قائم تعلیمی ادارے بشمول یونیورسٹیاں، میڈیکل کالج اور تکنیکی تعلیمی ادارے نہ ہی حکومت ہند نے قائم کئے ہیں اور نہ ہی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، میڈیکل کونسل آف انڈیا، آل انڈیا کونسل برائے تکنیکی ایجوکیشن وغیرہ جیسی اتھارٹیز انہیں تسلیم کرتی ہیں‘‘۔بتادیں کہ اے آئی سی ٹی ای کی یہ حالیہ نوٹس جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے سال گذشتہ کی اس اوبزرویشن کے برعکس جاری کی گئی ہے جس میں عدالت نے پاکستان زیر انتظام کشمیر کے میرپور میں واقع ایک یونیورسٹی میں کی گئی ایم بی بی ایس کی ڈگری کو تسلیم کیا تھا۔سری نگر سے تعلق رکھنے والی ھادیہ چستی نے عدالت کا دروازہ اُس وقت کٹھکٹھایا تھا جب انہیں نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشن نے فارن میڈیکل گریجویٹ ایگزامینیشن سکریننگ ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔تاہم عدالت کے عبوری احکامات پر انہیں بعد ازاں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی گئی تھی جس میں انہوں نے3  سو میں 1 سو  56نمبرات حاصل کئے تھے۔قابل ذکر ہے کہ سال گذشتہ ماہ مئی میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے بھی اسی نوعیت کی ایک ایڈوائزری جاری کرکے طلبا سے کہا تھا کہ وہ پاکستان زیر انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ نہ لیں کیونکہ حکومت ہند انہیں تسلیم نہیں کرتی ہے۔

تازہ ترین